دارالحکومت میں 36 دنوں میں 2,884 افراد لاپتہ ہوئے ہیں۔ صرف 409 ملے ہیں، جب کہ 83 فیصد لا پتہ ہیں، اہل خانہ خود لاپتہ افراد کی تلاش کر رہے ہیں۔
نئی دہلی، ملک کی راجدھانی کی ہر سڑک ،ہر گلی، اور ہر محلے میں بھیڑتو ہے، لیکن بھروسہ دھیرے دھیرے ختم ہو رہا ہے۔ دہلی اب نہ صرف ٹریفک، میٹرو اور اونچی عمارتوں کی راجدھانی بنتی جا رہی ہے بلکہ لاپتہ افراد کا دارالحکومت بھی بنتا جا رہا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ گزشتہ 36 دنوں میں 2 ہزار 884 افراد اچانک لاپتہ ہو گئے جن میں سے صرف 409 کا پتہ چل سکا ہے جبکہ 83 فیصد لاپتہ ہیں۔
یومیہ 82 افراد لاپتہ، ہر گھنٹے میں 3
اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو دہلی میں روزانہ اوسطاً 82 لوگ لاپتہ ہوتے ہیں اور ہر گھنٹے میں تقریباً 3 لوگ لاپتہ ہوتے ہیں۔ یہ صرف ایک عدد نہیں بلکہ ان سینکڑوں خاندانوں کا درد ہے، جو تھانوں کے چکر لگاتے راتیں اور دن بے خوابی سے گزارتے ہیں۔سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ لا پتہ رہنے والوں میں 616 بچے اور 1,372 خواتین شامل ہیں۔
مثال کے طور پر ہریتک کے والد سدشت جھا کا کہنا ہے کہ انہوں نے دہلی پولیس میں اسی دن ایف آئی آر درج کرائی تھی جس دن ان کا بیٹا لاپتہ ہوا تھا۔ ان کے مطابق ہریتک اپنا لیپ ٹاپ لائے بغیر کوچنگ سے واپس آیا۔ماں کے ڈانٹنے کے بعد وہ گھر سے چلا گیا۔ گھر والوں نے سمجھا کہ وہ اپنا لیپ ٹاپ لینے گیا ہوگا، لیکن جب وہ کافی دیر تک واپس نہیں آیا تو پولیس میں شکایت درج کروائی گئی۔
اہل خانہ کا الزام ہے کہ پولیس نے نہ تو بروقت سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کی اور نہ ہی مناسب تلاشی لی۔ ایسا کرنے پر مجبور، ہریتک کے والد اور چچا، سنتوش جھا،نے گھر گھر جا کر کیمرے کی فوٹیج حاصل کی۔
لواحقین خود ’’سراغرساں‘‘ بن گئے۔
خاندان کی مستعدی سے پتہ چلتا ہے کہ ہریتک سفید سویٹر پہن کر گھر سے نکلا، ای رکشہ میں سوار ہوا اور پھر مجلس پارک میٹرو اسٹیشن پہنچا۔ گھر والوں نے یہ تمام معلومات خود اکٹھی کیں۔ جب انہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کو پیش کی تو اسے میٹرو ہیڈ کوارٹر بھیج دیا گیا۔
اہل خانہ کا الزام ہے کہ وہاں پہنچنے پر کبھی انہیں بتایا گیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج حذف کر دی گئی ہے اور کبھی آپریٹر کا رویہ مشکوک تھا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اگر پولیس شروع سے ہی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی تو شاید انہیں آج ریتک کے بارے میں کچھ سراغ مل جاتا۔
لاپتہ ہونے والوں میں 1,372 خواتین دارالحکومت میں خواتین کے تحفظ سے متعلق تمام دعووں پر شکوک پیدا کرتے ہیں۔ 36 دنوں میں پولیس نے صرف 17 فیصد لاپتہ افراد کو تلاش کیا ہے جبکہ 83 فیصد لاپتہ ہیں۔ متاثر فیملی والے خود اپنے معاملہ کی تحقیقات کر رہے ہیں، اور پولیس کے کردار کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے پیاروں کو ڈھونڈنے کے لیے پریشان ہیں بلکہ سسٹم کی بے حسی کا بھی شکار ہیں۔
راجدھانی دہلی میں جس رفتار سے لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں اور جس رفتار سے انہیں ڈھونڈا جا رہا ہے، وہ دہلی پولیس کے کام کاج پر واضح طور پر سنگین سوال اٹھاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا دہلی واقعی محفوظ ہے، یا لاپتا گنج بن رہی ہے؟اے بی پی نیوز کے ان پٹ کے ساتھ











