گستاخی معاف: قاسم سید
ہندوستان میں مسلمانوں کے سب سے زیادہ محفوظ ہونے کی گواہی دینے والے اے یو ڈی ایف کے صدر اور سابقہ الیکشن میں دس لاکھ سے زائد ووٹوں سے ہار کا ریکارڈ بنانے والے بدرالدین اجمل آخر اپنے وزیرِ اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما کے آئے دن مسلم مخالف زہر میں بجھے بیانات پر چپ شاہ کا روزہ کیوں رکھے ہوئے ہیں یہ سوال ہر حساس شخص کے دل میں موجود ہے
لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آسام کے بنگالی مسلمانوں کے خلاف مہم اپنی انتہا کو پہنچی ہوئی ان کو ایسا بیان دینے کی کیا مجبوری تھی ؟،ان کی ‘مدر آرگنائزیشن’ نے سرزنش کیوں نہیں کی،،ایسا تو ہرگز نہیں ہوسکتا کہ بدرالدین اجمل کے بیان کو ‘ہائی کمان’ کی حمایت یا سرپرستی ہو کیونکہ وہ تو خود سپریم کورٹ چلی گئی ہےـ
وہیں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ اور اس طرح کے بیانات کسی ‘مجبوری’ کا نتیجہ ہیں یا ‘ضرورت’ کا ـ رضاکارانہ ہیں یا دباؤ کا مرثیہ اس جیسے بیانات کسی زمانہ میں ٹھیک ہوتے ہوں گے مگر موجودہ وقت میں زخموں پر نمک چھڑکنا ہے،کیا یہ گواہی عوام کی عدالت میں قابل قبول ہے ؟
ہمانتا بسوا سرما کی زبان سے مسلسل ایسے جملے نکل رہے ہیں جو کسی ذمہ دار، منتخب آئینی عہدے دار کے نہیں بلکہ کسی نفرت انگیز مہم کے سپہ سالار کے لگتے ہیں: “غیر ملکی مسلمانوں” کو نکالنے کی بات،ان کو اذیت پہنچانے کی ترغیب، “زمین واپس لینے” کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنانا،آبادی، نسل اور مذہب کو سکیورٹی خطرہ بنا کر پیش کرنا،یہ سب کچھ کسی دور افتادہ ریاست میں نہیں، اسی آسام میں ہورہا ہے جہاں سے بدرالدین اجمل منتخب ہو کر آتے ہیں ـایسے ماحول میں اگر کوئی مسلمان لیڈر اسی آسام کی حدود میں یہ سرٹیفکیٹ دے کہ مسلمان سب سے زیادہ محفوظ ہیں، یسیاسی بقا کی قیمت پر سچ کی قربانی ہے ـ بدقسمتی سے، ۔یہ بیان دراصل ایک طرح کی پیشگی صفائی (pre-emptive submission) ہے:طاقت کے مرکز اور سسٹم کو یہ پیغام دینا کہ ہم مسئلہ نہیں ہیں، ہم شکایت نہیں کریں گے، ہم سوال نہیں اٹھائیں گے۔” حالا نکہ نفرت کی سیاست کو خوشامد سے کبھی مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔
جو طاقت مسلمانوں کو مسئلہ مان چکی ہو، وہ ان کے لیڈروں کے سرٹیفیکیٹ سے اپنا ذہن نہیں بدلتی ـ وہ صرف ان بیانات کو بطور ثبوت استعمال کرتی ہے کہ “دیکھئے، خود ان کے لیڈر کہہ رہے ہیں سب چنگاسی’ سب ٹھیک ہے۔” یہ جملہ مظلوم کے تحفظ میں نہیں، بلکہ ظلم کرنے والے کے بیانیے کے حق میں جاتا ہے۔
اگر مسلمان واقعی اتنے محفوظ ہوتے، تو یہ جملہ کہنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔یہ جملہ خود اس بات کا اعتراف ہے کہ عدمِ تحفظ اتنا واضح ہے کہ اسے
جھٹلانے کے لیے اعلان کرنا پڑ رہا ہے۔
، سیاسی پسپائی اور خودسپردگی کی علامت ہے اور پسپائی وقتی سکون،مہلت تو دے سکتی ہے، مکمل اور مستقل تحفظ کبھی نہیں۔یہ اس پیرول کی طرح ہے جس کی مدت ختم ہونے کے بعد قیدی کو واپس سزا بھگتنے کے لیے آنا پڑتا ہے
یہ بیان احتجاج نہیں، درخواست ، سرٹیفیکیٹ ہے۔ا مزاحمت نہیں، سیاسی ری پوزیشننگ ہے۔،عالم دین کی جرات تو بہت دور یہ اخلاقی اور سیاسی دیوالیہ پن اور ووٹروں کے ساتھ بھدا مذاق ہے ـ










