دوٹوک: قاسم سید
سوال شاید سخت ہے، تلخ بھی، مگر اس کے بغیر نہ سچ تک پہنچنا ممکن ہے اور نہ اپنی مسلسل اجتماعی لغزشوں کا احاطہ۔ آخر یہ کیسے ہوا کہ وقف جیسا حساس، تاریخی اور قانونی ادارہ، جسے مسلمانوں کی اجتماعی امانت ہونا چاہیے تھا، آج ریاستی اسٹیٹ) مداخلت اور داخلی کمزوریوں کے درمیان اس قدر بے بس دکھائی دیتا ہے کہ یہ سوال ازخود ابھرتا ہے کہ کیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی فعال ،بیدار مغز اور اوقاف پر جان نچھاور کرنے کا ہر دم ہر جلسے میں دم بھرنے والے
ایک اور لڑائ ہارگئے جسے جیتنے کا سچا عزم نظر ہی نہیں آیا ـ شاید لڑائی شروع ہی نہیں کی؟ بظاہر یہ قانونی معاملہ ہے، سیاسی مسئلہ ہے، اور ریاست و عدالت کا کھیل ہے، مگر اصل میں یہ قیادت، تیاری، اور اجتماعی شعور کی کمزوری کا استعارہ بن چکا ہے۔ ڈر،خوف، مصلحت، اندیشوں اور نعرے بازیوں(یاد کریں ایک سکریٹری بورڈ کا تواتر کے ساتھ دیا جانے والا جذباتی بیان جس پر کبھی تنبیہ نہیں کی گئی "تمہارے پاس اتنی گولیاں نہیں جتنے ہمارے پاس سینے ہیں,تمہاری گولیاں کم پڑ جائیں گی ہمارے سینے نہیں”) سے کوئی جنگ کبھی نہیں جیتی گئی اور جب قربانی کا وقت آیا تو یہی لوگ گھر کی کنڈی بند کرکے بیٹھ گئے
وقف کی لڑائی نئی نہیں۔ دہائیوں سے یہ احساس موجود تھا کہ ریاست وقف بورڈز کو آہستہ آہستہ اپنے ماتحت لا رہی ہے، کبھی قوانین کے ذریعے، کبھی انتظامی ترمیمات سے، اور کبھی بدعنوانی یا بدنظمی کے نام پر ادارے معطل کر کے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے اس ادارے کو جتنی بے توجہی، اندرونی غیر شفافیت اور بدترین سیاسی تقسیم کاری کا شکار بنایا، اس نے دشمنوں کا کام آسان تر کر دیا۔ سوال یہ نہیں کہ حکومت نے کن کن طریقوں سے قبضہ مضبوط کیا؛ سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کی اجتماعی دانش کہاں تھی؟ مسلم پرسنل لا بورڈ، جو مسلمانوں کی اجتماعی آواز اور شرعی و سماجی حقوق کے لیے جہدوجہد کرتا ہے ، اس حقیقت کو بخوبی سمجھتا ہوگا کہ وقف صرف جائیداد کا معاملہ نہیں بلکہ طاقت، شناخت اور ادارہ جاتی مستقبل کا مسئلہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ صرف پریس کانفرنسوں،بڑے بڑے جلسوں سے وقف کی زمینیں، اوقاف کی وقفیت اور اداروں کی خودمختاری محفوظ نہیں رہ سکتی ـافسوس کی بات ہے کہ بورڈ کے اندر موجود مکتبہ فکر کی تقسیم، مسلکی حساسیت، شخصی وجماعتی گروہ بندی ، نجی اثرورسوخ کی کشمکش اور کریڈٹ کی لڑائی نے اس کے اجتماعی کردار کو کہیں نہ کہیں متاثر کیا ہے۔ وقف جیسے بڑے مسئلے کو بھی اسی داخلی کمزوری کا سامنا ہوا—کوئی مشترکہ لائحۂ عمل نہیں، کوئی واضح قانونی اسٹریٹجی نہیں، اور نہ ہی عوام میں کوئی مضبوط اعتماد سازی۔ نتیجہ یہ کہ حکومت اپنےبیانیے کے ساتھ آگے بڑھتی رہی، عدالتیں اپنے راستے پر چلتی رہیں، اور ہم اپنی روایتی سستی اور باہمی تحفظات کے خول میں مقید رہے۔
یہ بھی سچ ہے کہ وقف کے نام پر اندرونی بدعنوانی کے ایسے شواہد موجود رہے ہیں جنہوں نے مسلمانوں کی اخلاقی زمین کمزور کی۔ حکومت جب اصلاحات کی بات کرتی ہے تو مسلمانوں کے پاس جواب میں کوئی بے داغ ریکارڈ نہیں ہوتا، اور بورڈ اس بداعتمادی کو صاف کرنے کے لیے بھی کوئی عملی کوشش نہیں کرتا۔ یوں ریاست آسانی سے یہ بیانیہ قائم کر لیتی ہے کہ "یہ ادارے خود نہیں سنبھل سکتے”، ہماری طرف سے اس کا جواب صرف جذباتی جملوں سے دینے کی کوشش ہوتی ہجو ظاہر ہے کہ حقیقت بدل نہیں سکتے۔
تو کیا ہم بورڈ کی قیادت میں واقعی ایک اور لڑائی ہار گئے؟ یا یہ لڑائی ہم سب نے اجتماعی طور پر ہاری؟ اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ ہار اُس دن لکھ دی گئی تھی جب ہم ادارہ جاتی سیاست کو ذاتی سیاست کے تابع کر دیا، جب اجتماعی حقوق کے بجائے مصلحتوں کو ترجیح دی گئی، جب ہر مسئلے کا جواب محض بیان بازی سمجھ لیا گیا۔ وقف اس ملک میں مسلمانوں کی آخری بڑی اجتماعی امانتوں میں سے ایک ہمگر اس کی حفاظت کے لیے جتنا قانونی، سماجی، سیاسی اور بیانیاتی کام درکار ہے، اس کی جھلک ہمارے رویے میں نظر ہی نہیں آئی۔
یہ اداریہ کسی ایک ادارے پر فردِ جرم نہیں، بلکہ ایک اجتماعی آئینہ ہے۔ اگر آج بھی نہ جاگے، نہ نئے مزاج اور نئے ذہن کے ساتھ سامنے آئے، نہ قانونی ماہرین، پالیسی تھنک ٹینکس اور نوجوان قیادت کے ساتھ مل کر ایک منظم حکمت عملی تیار کی تو آنے والے برسوں میں ہار صرف وقف تک محدود نہیں رہے گی۔ پھر مدرسے ہوں گے، پھر پرسنل لاز ہوں گے، پھر شناختی ادارے ہوں گاور ہر بار سوال یہی گونجے گا: کیا ہم ایک اور لڑائی ہار گئے؟
سوال کا جواب صرف بورڈ کو نہیں بلکہ پوری قوم کو دینا ہوگا۔اس لیے کہ صرف بورڈ کو ہی ہر جرم کا ذمہ دار قرار دینا مبنی بر انصاف نہیں ـ










