امریکی جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق خفیہ دستاویزات کے انکشاف نے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ امریکی محکمہ انصاف نے 30 جنوری کو تقریباً 30 لاکھ صفحات پر مشتمل دستاویزات جاری کیں۔ جس کے بعد 10 ممالک میں 15 سے زائد اعلیٰ حکام کو مستعفی ہونے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔ 80 سے زیادہ طاقتور افراد زیر تفتیش ہیں۔
ان فائلوں میں سیاستدانوں، سفیروں، ارب پتیوں اور شاہی خاندانوں کے نام شامل ہیں۔ ای میلز، فلائٹ لاگز، اور رابطے کے ریکارڈ میں 700 سے 1000 بااثر لوگوں کا ذکر ہے۔
بہت سے معاملات میں نابالغ لڑکیوں کے جنسی استحصال کے الزامات ہیں۔ دستاویزات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، سابق صدر بل کلنٹن اور ہلیری کلنٹن جیسے ہائی پروفائل نام مختلف حوالوں سے ظاہر ہوتے ہیں۔
برطانیہ میں سب سے زیادہ استعفے ۔
ایپسٹین کے انکشافات سے یورپ سب سے زیادہ متاثر ہوا،تقریباً 10 ممالک میں استعفوں کی لہر شروع ہو گئی
برطانیہ میں سب سے زیادہ تین عہدے داروں نے استعفیٰ دیا۔ سابق سفیر پیٹر مینڈیلسن، ایڈوائزر ایڈم پیری اور پی ایم کیئر اسٹارمر کے چیف آف اسٹاف مورگن میک سوینی۔
سلوواکیہ میں، سابق وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر میروسلاف لیچک نے 300 سے زیادہ مجرمانہ ای میلز اور چیٹس کے انکشاف کے بعد استعفیٰ دے دیا۔
سویڈن کی سینئر سفارت کار جوانا روبینسٹائن نے استعفیٰ دے دیا۔ ناروے کی سفیر مونا جول، امریکی وزیر محنت الیکس اکوسٹا اور ایم آئی ٹی لیب کے سربراہ جوچی ایتو مستعفی ہو گئے۔
حکومتوں کا تحقیقات کا حکم
ایپسٹین فائلز نے کئی ممالک کی حکومتوں کے لیے سفارتی اور سیاسی شرمندگی کا باعث بنا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم سٹارمر کو معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا، جبکہ برطانوی پولیس نے نئی فائلوں کی بنیاد پر پرنس اینڈریو کے خلاف "تازہ جائزہ”شروع کیا۔
ناروے میں سفیر مونا جوئل کو معطل کر دیا گیا اور سابق وزیر اعظم تھوربجورن جاگلینڈ کے خلاف بدعنوانی کی تحقیقات شروع کر دی گئیں۔ سینئر سفارت کار ٹیرجے روڈ لارسن بھی زیر تفتیش ہیں۔
فرانس کے سابق وزیر جیک لینگ کو باضابطہ طور پر طلب کیا گیا۔ پولینڈ، لٹویا اور ترکی نے انسانی اسمگلنگ میں سرکاری ملوث ہونے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں۔
ٹرمپ کا نام 38000 بار آیا
ٹرمپ کا نام 38,000 بار سے زیادہ ریکارڈ میں 1990 کی دہائی میں ایپسٹین کے نجی طیارے میں سات یا آٹھ دوروں کا ذکر ہے۔ وہ ٹرمپ کے مار-اے-لاگو کلب کے مہمانوں کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ جنسی استحصال کا نیٹ ورک صرف امریکہ تک محدود نہیں تھا۔ ایپسٹین نے اسمگلنگ کا ایک منظم نیٹ ورک بنایا۔ اب تک 15 ممالک کی دولت مند شخصیات، سیاست دانوں اور بین الاقوامی شخصیات کے نام سامنے آ چکے ہیں۔








