چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے مسلم پرسنل لا کے تحت جائیداد کی وصیت سے متعلق ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایک مسلمان فرد اپنی کل جائیداد کا صرف ایک تہائی حصہ وصیت کے ذریعے دے سکتا ہے۔ اس حد سے زیادہ کسی بھی وصیت کے لیے ان کی موت کے بعد باقی قانونی ورثاء کی واضح اور آزاد رضامندی درکار ہوتی ہے۔ اس طرح کی رضامندی کے بغیر، پوری جائیداد کی وصیت کو کالعدم سمجھا جائے گا۔ یہ حکم اسلامی قانون کے ایک بنیادی اصول کو تقویت دیتا ہے جس کا مقصد وارثوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔
جسٹس بیبھو دتہ گرو کی سنگل بنچ نے 2 فروری 2026 کو یہ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کوربا ضلع کی ایک بیوہ زیب النساء کی اپیل منظور کرتے ہوئے نچلی عدالتوں کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ نچلی عدالتوں نے ایک سنگین قانونی غلطی کی ہے جب انہوں نے بیوہ کو اس کے قانونی حصہ سے مکمل طور پر محروم کر دیا۔ عدالت نے وصیت سے فائدہ اٹھانے والے کو جائیداد کا ایک تہائی سے زیادہ حصہ دینے سے انکار کر دیا۔
جائیداد وراثت کا کیس کیا تھا؟
یہ تنازعہ ضلع کوربا کی رہائشی 64 سالہ زیب النساء سے متعلق ہے۔ وہ عبدالستار لودھیا مرحوم کی اہلیہ ہیں۔ عبدالستار کا انتقال 19 مئی 2004 کو ہوا۔ ان کے پاس کوربا شہر میں 0.004 ایکڑ (تقریباً آٹھ اعشاریہ 8) اراضی، خسرہ نمبر 1045/3، اور اس پر ایک مکان تھا۔ یہ ان کی ذاتی ملکیت تھی۔
عبدالستار کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ ان کی موت کے بعد، ان کے بھتیجے، محمد سکندر (تقریباً 27 سال) نے دعویٰ کیا کہ وہ عبدالستار کا لے پالک بیٹا تھا اور ساری جائیداد ان کی ہے۔ سکندر نے 27 اپریل 2004 کو ایک وصیت پیش کی جس میں عبدالستار نے مبینہ طور پر تمام جائیداد ان کے نام کر دی تھی۔
***سیکشن 117 اور 118 کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا:
دفعہ 117: وصیت صرف اس صورت میں درست ہے جب باقی ورثاء مرنے کے بعد رضامند ہوں۔ یہاں تک کہ ایک وارث کی رضامندی اس کے حصے کا پابند ہے۔
دفعہ 118: ایک مسلمان شخص جنازہ اور قرض کی ادائیگی کے بعد باقی رہ جانے والی جائیداد کے صرف ایک تہائی کی وصیت کر سکتا ہے۔ اس رقم سے زیادہ کسی بھی چیز کے لیے مرنے کے بعد ورثاء کی رضامندی ضروری ہے۔
ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ رضامندی واضح، آزاد اور موت کے بعد دی جانی چاہیے۔ محض خاموشی یا مقدمہ دائر کرنے میں تاخیر کو رضامندی نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ سکندر نے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا کہ زیب النساء نے موت کے بعد اپنی واضح رضامندی دی۔ گواہوں کے بیانات بھی رضامندی کے بجائے وصیت کی فراہمی تک محدود تھے۔








