(نئی دہلی:آرکے بیورو)
جماعت اسللامی ہند کے نائب امیر اور سرکردہ مسلم لیڈر ملک معتصم خان کا کہنا ہےکہ جماعت بنیادی نصب العین پر مضبوطی سے قائم ہے صرف حکمت عملی تبدیل کی ہے – انہوں نے آسام کے سی ایم کے حالیہ نفرتی بیانات پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ذہنی دیوالیہ پن قرار دیا مسٹر خان موجودہ حالات کے پس منظر میں ‘روزنامہ خبریں’ سے خصوصی گفتگو میں مختلف سوالات کا جواب دے رہے تھے
اس سوال پر کہ عمومی تاثر یہ ہے کہ جماعت اپنے دعوتی مشن ‘اقامت دین’ پر اب زیادہ بات نہیں کرتی ؟ انہوں نے کہا کہ یہ مفروضہ ہے ،ایسا ہرگز نہیں ،یہ ہماری روح ہے ،مسٹر خان نے کہا کہ دراصل 2014کے بعد زیادہ تر حکومتوں کا رویہ،قانون سازی اور پالیسیاں اس طرز کی رہی ہیں کہ صرف جماعت ہی نہیں امت کا عمومی رجحان اپنی بقا اور تحفظ ہر مرکوز ہوگیا ہے ـ اس سے یہ لگ سکتا ہے جماعت اسلامی ہند ان مسائل کے حل میں زیادہ توانائی صرف کرہی ہے ،فرقہ پرستوں کی سازشوں کا ناکام کرنے میں لگی ہیں،لیکن جماعت بنیادی طور پر فکری و دعوتی سرگرمیوں کے ساتھ غیرمسلموں کو قوم پرستانہ کی بجائے خدا پرستانہ راستے کی طرف لانے کی کوشش کو اولیت دیتی ہے ـ یہ پروسس قائم ہے، ملک وملت کو درپیش چیلنجوں کے رسپانس سے لگ سکتا ہے کہ سارا زور ملی کاموں پر ہے،انہوں نے زور دے کر کہا کہ ترجیحات نہیں بدلیں البتہ حکمت عملی بدلی ہے ـ
‘ روزنامہ خبریں’ کے اس سوال پر کہ کیا چیلنجوں کا مقابلہ صرف ردعمل سے ہوگا نائب امیر جماعت نے کہا ہرگز نہیں ،اپنے ایجنڈے پر ایکٹورول ادا کرنا یوگاـ اسلام سے وابستگی شعور کے ساتھ ،اور جارحانہ ہندوتو کے سامنے سرینڈر کی جگہ مزاحمت دکھانی ہوگی آئینی ،قانونی جمہوری طریقوں سے مسلمانوں میں فکری وعملی مزاحمت پروان چڑھانی ہوگی ـ دفاعی نہیں اقدامی کیفیت ابھارنا ہوگی ـ کم نظری اور انتہا پسندی کا آئین و قانون کے سہارے مقابلہ کرنا ہوگا ہم نصب العین کو مرکزیت میں رکھ کر اس سمت میں کام کررہے ہیں ـ
عدلیہ کے فیصلوں کی روشنی میں اس کے رویے کے بارے میں پوچھنے پر ملک معتصم نے کہا کہ عدلیہ اور حکمرانوں کا رویہ مایوس کن ہے ـ مگر ان سے رابطہ اور رجوع کے بغیر کوئی چارہ نہیں ـ مایوسی اور بے تعلقی کی بات مناسب نہیں ـاس تاریکی میں بھی امید کی کرن ہے ـ
یہ معلوم کرنے پر کہ آپ کی باتوں اور رویہ میں تضاد ہے ایک طرف گزشتہ گیارہ سال سے مودی حکومت سے کوئی رابطہ مسلم قیادت نے نہیں رکھا دوسری طرف آپ رابطے اور تعلق کی بات پر زور دے رہے ہیں ،؟انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے ،عدلیہ کے دوسرے فیصلوں کے بعد بھی رجوع کرتے ہیں ،گزشتہ دنوں مرکزی وزیر کرن رجیجو سے ملاقات کی تھی ،جوکچھ کیا مشترکہ فورم سے کیا ـ امیر جماعت اس ملاقات کا حصہ تھے ـ سب کو خط لکھتے رہتے ہیں پی ایم کو لکھ کر ملاقات کی خواہش ظاہر کی ـ
کیا ملک کے حالات میں جین زی کو سڑکوں پر آنا چاہیے ‘ روزنامہ خبریں’ کے سوال پر ملک معتصم نے کہا کہ اگر وہ سڑکوں پر اترنا چاہیے گی تو کسی لیڈر کو اپیل کی ضرورت نہیں ہوگی ـ جہاں بھی تبدیلی آئی وہ لیڈر لیس تھی ،وہ باشعور ہے اسے کسی کی ہدایت کی ضرورت نہیں ،جہاں تک بھارت کا تعلق ہے بقابلہ سری لنکا،نیپال اور ،بنگلہ دیش یہاں سے بہت مختلف ہیں ،،نارتھ ایسٹ،ساؤتھ،نارتھ انڈیا، سب کا کلچر ، رزبان ،الگ ہے ،ہمارا ملک ایسی کسی تبدیلی کا نہ تو متحمل ہے اور نہ ہی ضرورت ہے ،کسی ریاست میں تو ممکن ہوسکتا ہے لیکن ملک گیر سطح پر ناقابل عمل ہے ـ
ان سے اس تاثر کے بارے میں پوچھا گیا کہ دیگر دہلی فساد ملزمین کے مقابلہ عمر خالد وغیرہ کے تعلق سے مسلم جماعتوں کا رویہ کافی سرد اور بے تعلقی کا رہا ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟نائب امیر جماعت نے سوال کیا کہ میں جاننا چاہوں گا کہ وہ کون سے ادارے یا جماعتیں ہیں جو مسائل کو حل کرنے یا رہنمائی کا دعویٰ کرتے ہیں ؟ایک دو چھوڑکر کس کا کل ہند سطح پر وجود ہے ؟،ہر کوئی بساط بھر کرنے کوشش کرتا ہے ،سی اے اے تحریک جین زی کی تھی مقصد مشترک تھا ،یہ سمجھنا یا کہنا کہ مسلم تنظیموں نےکچھ نہیں کیا مبنی بر انصاف نہیں ،نہ کریڈت لیتے ہیں نہ دعویٰ کرتے ہیں جو ہے وہ سب کے سامنے ہے ـ
*سی ایم آسام کی ہیٹ اسپیچ اور لگاتار ایک خاص گروہ کو نشانہ بنانے پر ملک معتصم خان نے کہا کہ کوئی کم ترین انسان ہی ایسا کہہ سکتا ہے ،جب آئینی منصب پر بیٹھا کوئی شخص یہ زبان استعمال کرے تو معاملہ اور سنگین ہوجاتا ہے ،انہوں نے اس بات ہر اطمینان جتایا کہ ملک کی اکثریت نے اس کے خلاف آواز اٹھائی ،کورٹ گئی یہی بھارت کی خوبصورتی ہے جس کو لاکھ کوشش کے باوجود مٹایا نہیں جاسکےگا ان شاءاللہ







