بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے 300 میں سے 204 نشستیں حاصل کر لی ہیں جو اگلی حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت ہے۔ اس کی حریف جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ ’ہم انتخابات کے نتائج کے عمل سے مطمئن نہیں ہیں‘
خبر کے مطابق بی این پی پارلیمنٹ میں کم از کم دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی راہ پر ہے اور سرکاری نتائج کے مطابق اس نے 204 نشستیں جیت لی ہیں، جو دو تہائی اکثریت کے ہدف سے صرف پانچ نشستیں کم ہیں۔نتیجہ بی این پی اور اس کے رہنما طارق رحمان کے لیے ایک ڈرامائی موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جو اب بنگلہ دیش کے اگلے وزیرِاعظم بننے کی راہ پر گامزن دکھائی دیتے ہیں۔
جماعت اسلامی دوسری پوزیشن پر ہے جس کے پاس 76 نشستیں ہیں۔رہے کہ جماعتِ اسلامی ملک کی سب سے بڑی اسلام پسند جماعت ہے اور ماضی میں بی این پی کی اتحادی رہ چکی ہے۔ اسے پہلے انتخابات میں حصہ لینے سے روکا گیا تھا، تاہم اس بار عوامی لیگ کی پابندی کے بعد یہ بیلٹ پیپر پر واحد بڑی متبادل جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔
پی ایم مودی نے مبارکباد دی
پی ایم مودی سمیت کئی سربراہان مملکت نے بی این پی کے طارق رحمان کو اس جیت پر مبارکباد دی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے پی ایم مودی نے لکھا کہ یہ جیت (طارق رحمان) بنگلہ دیشی عوام کے ان کی قیادت پر اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں پی ایم مودی نے مزید لکھا، "میں بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات میں بی این پی کو فیصلہ کن جیت دلانے کے لیے طارق رحمان کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ یہ جیت بنگلہ دیش کے عوام کے ان کی قیادت پر اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔” انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک جمہوری اور ترقی پسند بنگلہ دیش کی حمایت جاری رکھے گا اور امید کرتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط ہوں گے۔







