فیفا ورلڈ کپ 2026 میں پہلی بار پاکستانی نژاد فٹبالر عالمی فٹبال کے سب سے بڑے اسٹیج پر نظر آنے جا رہا ہے۔ سابق مانچسٹر یونائیٹڈ کھلاڑی اور عراق کی قومی ٹیم کے مڈفیلڈر زیدان اقبال ورلڈ کپ میں شرکت کے ساتھ ایک نئی تاریخ رقم کرنے والے ہیں۔ زیدان اقبال کے والد کا تعلق پاکستان کے شہر ساہیوال سے ہے جبکہ ان کی والدہ عراقی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ان کی کامیابی کو پاکستان میں بھی غیر معمولی دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے۔
23 سالہ زیدان اقبال نے عراق کی جانب سے ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا اور اب وہ مردوں کے فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والے پہلے پاکستانی نژاد فٹبالر بننے جا رہے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق زیدان اقبال نے اپنے خصوصی فٹبال بوٹس پر پاکستان اور عراق دونوں ممالک کے پرچم نمایاں کیے ہیں۔ ان کے دائیں جوتے پر پاکستانی پرچم جبکہ دوسرے جوتے پر عراقی پرچم موجود ہے، جسے دنیا بھر میں پاکستانی فٹبال شائقین فخر کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
زیدان اقبال نے اپنے کیریئر کا آغاز مانچسٹر یونائیٹڈ کی اکیڈمی سے کیا تھا اور وہ کلب کی تاریخ میں تقریباً دو دہائیوں بعد چیمپئنز لیگ میں کھیلنے والے پہلے برطانوی جنوبی ایشیائی فٹبالر بنے تھے۔ اس وقت وہ نیدرلینڈز کے کلب ایف سی یوٹریخت سے وابستہ ہیں اور عراق کی قومی ٹیم کے اہم کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔
اگرچہ پاکستان کی قومی ٹیم اب تک ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکی، تاہم زیدان اقبال کی موجودگی پاکستانی فٹبال کے لیے ایک تاریخی لمحہ تصور کی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر پاکستانی شائقین کی جانب سے زبردست ردعمل سامنے آیا ہے اور بہت سے صارفین اسے عالمی فٹبال میں پاکستان کی علامتی نمائندگی قرار دے رہے ہیں۔








