لکھنؤ، اتر پردیش کے وزیر اور سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے سربراہ اوم پرکاش راج بھر کو اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے ایک رکن نے قانونی نوٹس بھیجا ہے، جس میں ان پر طلبہ تنظیم کے خلاف ہتک آمیز اور توہین آمیز تبصرہ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
ہندوستان ٹائمز Hindustan Times کی رپورٹ کے مطابق نوٹس میں کہا گیا ہے کہ راج بھر کا آر ایس ایس کے طلبہ ونگ اے بی وی پی، کارکنوں کو ’’غنڈہ‘‘ قرار دینا اور طلبہ کے احتجاج میں ان کے کردار پر ان کی تنقید تنظیم سے وابستہ لاکھوں طلبہ کی ہتک اور توہین کے مترادف ہے۔اے بی وی پی کے رکن آدرش تیواری کی جانب سے جاری کیا گیا، نوٹس بارہ بنکی کی شری رام سوروپ میموریل یونیورسٹی میں پیر کو اے بی وی پی کے ارکان سمیت پولیس اور طلباء کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے بعد جاری کیا گیا ہے۔ وہ مبینہ طور پر غیر تسلیم شدہ لاء کورس کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔اس کے بعد بدھ کو اے بی وی پی کارکنوں نے راج بھر کی لکھنؤ رہائش گاہ کے باہر احتجاج کیا، کیونکہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزیر نے پولیس کے لاٹھی چارج کی حمایت کی اور انہیں غنڈے قرار دیا۔اس کے بعد اتر پردیش ہائر ایجوکیشن کمیشن نے انکوائری کا حکم دیا، اور بغیر کسی منظوری کے طلباء کو داخلہ دینے پر یونیورسٹی کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔جہاں اے بی وی پی رہنماؤں نے وزیر کے استعفیٰ اور معافی کا مطالبہ کیا، راج بھر کے بیٹے ارون راج بھر نے اپنے گھر کے باہر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اسے "غنڈہ گردی کہا ، طلباء کی سرگرمی نہیں” قرار دیا۔
واضح رہے راج بھر ہمیشہ کرسی کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں ـ کبھی سماجوادی کے ساتھ تو کبھی بی جے پی کے ساتھ اور وہ اس کو چھپاتے بھی نہیں ہیں ،مگر اس بار وہ بری طرح پھنس گیے ہیں اے بی وی پی سنگھ پریوار کا حصہ ہے








