اردو
हिन्दी
فروری 22, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اہلِ کتاب اور ہندو مفکرین کی تحریروں میں سیرتِ محمد ﷺ کا روشن تذکرہ

6 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
اہلِ کتاب اور ہندو مفکرین کی تحریروں میں سیرت محمد ﷺ Seerat of Prophet Muhammad mentioned by Ahle Kitab and Hindu thinkers
366
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

مجھے کچھ کہنا ہے:نازش احتشام اعظمی
تاریخِ انسانی کے دفتر کو کھول کر دیکھیے تو ایک حقیقت ہر صفحے پر جگمگاتی نظر آتی ہے: انسان اپنی فطری کمزوری اور محدود عقل کے باعث کبھی اپنے زورِ بازو سے حقیقت کے آخری کمال تک نہیں پہنچ سکا۔ ہمیشہ آسمانی ہدایت کی روشنی اس کے لیے چراغِ راہ بنی، کبھی یہ نور موسیٰ علیہ السلام کے عصا سے پھوٹا، کبھی عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے، کبھی ہندو رشیوں کے منتر سے، اور کبھی زرتشت کے اشلوک سے۔ مگر یہ سب انوار اپنی اصل تکمیل کو اُس وقت پہنچے جب صحرائے عرب سے ایک ایسا آفتاب طلوع ہوا جس کی کرنوں نے عالمِ انسانیت کو ہمیشہ کے لیے منور کر دیا—وہ آفتاب جناب محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔یہی وہ نقطہ ہے جہاں دلوں میں سوال جاگتا ہے: کیا محمد ﷺ کا ذکر صرف قرآن و حدیث تک محدود ہے؟ یا یہ عظیم ترین ہستی ان صحیفوں میں بھی جھلکتی ہے جو صدیوں پہلے یہود و نصاریٰ اور ہندو مفکرین کے مابین الہامی حیثیت کے ساتھ جلوہ گر ہوئیں؟یہ سوال محض جذباتی تسکین کا ذریعہ نہیں بلکہ فکر و فلسفہ، تاریخ و مذہب اور روحانیت و حقیقت کی گہرائیوں کو چھونے والا سوال ہے۔ یہی سوال ہمیں اس روح پرور جستجو پر لے جاتا ہے کہ محمد ﷺ کی بشارتیں کہاں کہاں اور کس کس صورت میں دنیا کے مختلف مذاہب میں نظر آتی ہیں۔
نبوت کا عالمگیر تصور
اسلام کا امتیاز یہ ہے کہ وہ نبوت کو کسی ایک نسل یا قبیلے تک محدود نہیں کرتا، بلکہ اسے ایک عالمگیر حقیقت قرار دیتا ہے۔ قرآن کا اعلان ہے:”وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ” (ہر قوم کے لیے ایک رہنما بھیجا گیا)۔یہ اصول محض نظری بات نہیں بلکہ انسانی تاریخ کا عکس ہے۔ ہر قوم کے دل میں کسی نہ کسی دور میں ہدایت کا چراغ روشن کیا گیا۔ موسیٰؑ نے اپنی قوم کے لیے شریعت کا قانون دیا، عیسیٰؑ نے زخمی دلوں کو رحمت و محبت کا سہارا بخشا، ہندو رشیوں نے انسان کو باطن کی دنیا کی خبر دی۔ ان سب مشعلوں کا آخری سرا اسی عظیم ہستی کی طرف تھا جسے "رحمۃ للعالمین” کہا گیا۔یہی وجہ ہے کہ اہلِ ایمان ہمیشہ اس جستجو میں رہے ہیں کہ پچھلے صحیفوں کی گہرائی میں محمد ﷺ کی کوئی جھلک ضرور موجود ہوگی۔
اہلِ یہود کے صحیفوں میں بشارتیں
یہودی روایت کے بنیادی صحیفے تورات میں موسیٰ علیہ السلام کے الفاظ آج بھی گونجتے ہیں:”خداوند تیرا خدا تیرے لیے تیرے بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا۔ تم کو اس کی سننی ہوگی۔” (استثناء 18:15)یہ "میرے جیسا” جملہ معمولی نہیں۔ موسیٰؑ محض واعظ یا درویش نہ تھے، بلکہ صاحبِ شریعت اور صاحبِ ملت تھے۔ انہوں نے بنی اسرائیل کو قانون دیا، معاشرہ تشکیل دیا، ایک نظامِ حیات ان پر نافذ کیا۔ اسی طرح محمد ﷺ بھی وہی ہستی ہیں جن پر قرآن نازل ہوا—ایک ایسا کامل دستورِ حیات جس نے بکھری ہوئی انسانیت کو ایک امت میں ڈھالا۔اسی کتابِ مقدس میں ایک اور حیرت انگیز اشارہ ملتا ہے۔ گیت سلیمان میں ایک لفظ”محمدیم” آیا ہے، جسے عبرانی لغت میں "بالکل پیارا” کہا گیا۔ یہودی مفسرین اسے محض عشقیہ استعارہ قرار دیتے ہیں، مگر اس لفظ کی صوتی ہم آہنگی اور ساخت یہ باور کراتی ہے کہ محبوبِ حقیقی کا اشارہ محمد ﷺ کی طرف ہے۔یقیناً یہودی علما ان تاویلات سے اختلاف کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ "میرے جیسا نبی” کی بشارت اور "محمدیم” کا ذکر انسان کو جھنجھوڑ دیتا ہے کہ یہ سب محض اتفاق نہیں ہو سکتے۔
اہلِ انجیل کی پیشین گوئیاں
اب آئیے مسیحی متون کی طرف۔ انجیل یوحنا میں عیسیٰ علیہ السلام اپنے حواریوں کو ایک آنے والے "مددگار” (Paraclete) کی خوشخبری دیتے ہیں:”اور میں باپ سے مانگوں گا، اور وہ تمہیں ایک اور مددگار دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گا۔” (یوحنا 14:16)یہ مددگار کون ہے؟ کیا وہ محض روح القدس ہے، یا پھر وہ انسانی رہنما ہے جو "تمہیں تمام سچائی کی طرف لے جائے گا” (یوحنا 16:13)؟مسیحی علماء اسے روح القدس قرار دیتے ہیں، مگر مسلم شارحین استدلال کرتے ہیں کہ روح القدس تو پہلے بھی نازل ہوتا رہا، مگر یہاں جس ہستی کا ذکر ہے وہ مستقل رہنمائی کرنے والا ہے—اور یہ وصف صرف محمد مصطفی ﷺ میں پایا جاتا ہے جنہوں نے اعلان کیا:
"اليوم أكملت لكم دينكم” (آج میں نے تمہارے لیے دین کو مکمل کر دیا)۔یوں انجیل کا "مددگار” اور قرآن کا "خاتم النبیین” ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔
ہندو صحیفوں میں روشن جھلکیاں
مشرق کی طرف رخ کیجیے تو ہندو دھرم کے صحیفے بھی حیرت انگیز اشارات سے خالی نہیں۔بھویشیا پوران میں "محمدہ” نامی ایک استاد کا ذکر ہے جو صحرائی خطے میں آئے گا، بتوں کو توڑ دے گا اور توحید کا پرچار کرے گا۔ یہ "محمدہ” کون ہے؟ کیا یہ وہی ہستی نہیں جسے تاریخ "محمد ﷺ” کے نام سے جانتی ہے؟اتھرو وید میں ایک پیشین گوئی ملتی ہے: "وہ غیر ملکی ہوگا، اونٹ پر سوار ہوگا، اور ہزاروں اس کے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔” یہ منظرنامہ جزیرۂ عرب کے سوا کہاں دکھائی دیتا ہے؟یقیناً ہندو شارحین میں اختلاف ہے۔ بعض اسے استعارات کہتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ استعارات آخر کار محمد بن عبداللہ ﷺ کی زندگی سے کیوں جا ملتے ہیں؟
علمی نقد اور منطق استدلال
یقیناً ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ سب تاویلات ہیں، متون میں بعد کی زیادتیاں ہیں، یا محض اتفاقات ہیں۔ لیکن منطق یہی کہتی ہے کہ محمد ﷺ کے ظہور نے تاریخ کو اس طرح بدل دیا کہ ہر قوم اپنے اپنے صحیفے میں ان کی جھلک تلاش کرنے لگی۔یہ معاملہ بالکل ویسا ہے جیس گھنے جنگل میں مسافر کو دور کہیں روشنی دکھائی دے۔ ہر ایک اپنی جگہ کھڑا ہو کر اس روشنی کو اپنی تعبیر میں بیان کرتا ہے، مگر روشنی حقیقت میں ایک ہی چراغ سے پھوٹتی ہے۔اسی اصول پر تمام صحیفے محمد ﷺ کی آمد کے لیے ایک ابتدائی خاکہ فراہم کرتے ہیں، اور جب وہ آئے تو وہ خاکہ حقیقت میں ڈھل گیا۔
بین المذاہب وحدت کا پیغام
یہ تذکرے محض مسلمانوں کے لیے باعثِ تسکین نہیں، بلکہ ساری انسانیت کے لیے وحدت اور ہم آہنگی کا پیغام رکھتے ہیں۔ یہ بتاتے ہیں کہ مذاہب کے درمیان اصل رشتہ تقسیم نہیں بلکہ اشتراک ہے؛ جھگڑا نہیں بلکہ اتفاق ہے۔
اسی لیے قرآن نے اعلان کیا:
"وما أرسلناك إلا رحمة للعالمين” (ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر جہانوں کے لیے رحمت بنا کر)۔
اگر یہودی متون ایک آنے والے نبی کی بشارت دیتے ہیں، اگر انجیل ایک "مددگار” کی نوید سناتی ہے، اور اگر ہندو وید ایک "محمدہ” کا ذکر کرتے ہیں، تو ان سب کے دھاگے ایک ہی مرکز پر جُڑ جاتے ہیں—محمد ﷺ۔
کلام آخر
اس جستجو کا حاصل یہ ہے کہ محمد مصطفی ﷺ محض عرب کے رسول نہیں بلکہ تاریخِ انسانی کے رسول ہیں۔ ان کا ذکر یہودیت کے اوراق میں بھی ملتا ہے، عیسائیت کے بابوں میں بھی جھلکتا ہے، اور ہندو دھرم کے صفحات میں بھی روشن ہے۔
یہ بشارتیں بتاتی ہیں کہ انسانیت کی کشتی آخرکار اسی ساحل پر لگی جہاں محمد ﷺ کھڑے ہیں۔ وہی "خاتم النبیین” ہیں، وہی "رحمۃ للعالمین” ہیں، اور وہی وہ چراغ ہیں جس نے تاریک دنیا کو ہمیشہ کے لیے منور کر دیا۔

ٹیگ: news todayrabbi ul awwalSeerat Muhammad

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Gujarat Marriage Law Sanatan Statement
خبریں

نشانے پر مسلمان؟ گجرات: ‘سناتن دھرم کی رکشا کے لیے شادی کے قوانین میں تبدیلی کی جائے گی،

21 فروری
Trump 200% Tariff India Pakistan Claim
خبریں

ٹرمپ کا نیا شگوفہ: دوسو فیصد ٹیرف کی دھمکی دی اور ہند پاک جنگ رکوادی

20 فروری
Bangladesh Tension BNP India Allegation
خبریں

بنگلہ دیش میں پھر ٹکراؤ کے اثار؟:”طلباء لیڈر نے کہا بی این پی نے چناؤ جیتنے کے لیے بھارت سے سانٹھ گانٹھ کی”

20 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammad Deepak Statement Controversy

دیپک نے کہا مجھے خود کو "محمد دیپک” کہنے کا کوئی افسوس نہیں ہے

فروری 15, 2026
UGC Directive Sangh Programs Participation

تعلیمی ادارے سنگھ سے منسلک تنظیموں کے پروگرام میں شریک ہوں: یو جی سی کی ‘ہدایت’

فروری 15, 2026
World News Brief

عالمی خبریں: اختصار کے ساتھ

جنوری 28, 2026
Urdu Language and Unani Medicine NEP 2020

قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں اردو زبان اور یونانی طب

جنوری 28, 2026
Ramadan Perception Reality Analysis

رمضان: تصور اور حقیقت کے درمیان

Gujarat Marriage Law Sanatan Statement

نشانے پر مسلمان؟ گجرات: ‘سناتن دھرم کی رکشا کے لیے شادی کے قوانین میں تبدیلی کی جائے گی،

Trump 200% Tariff India Pakistan Claim

ٹرمپ کا نیا شگوفہ: دوسو فیصد ٹیرف کی دھمکی دی اور ہند پاک جنگ رکوادی

Bangladesh Tension BNP India Allegation

بنگلہ دیش میں پھر ٹکراؤ کے اثار؟:”طلباء لیڈر نے کہا بی این پی نے چناؤ جیتنے کے لیے بھارت سے سانٹھ گانٹھ کی”

Ramadan Perception Reality Analysis

رمضان: تصور اور حقیقت کے درمیان

فروری 21, 2026
Gujarat Marriage Law Sanatan Statement

نشانے پر مسلمان؟ گجرات: ‘سناتن دھرم کی رکشا کے لیے شادی کے قوانین میں تبدیلی کی جائے گی،

فروری 21, 2026
Trump 200% Tariff India Pakistan Claim

ٹرمپ کا نیا شگوفہ: دوسو فیصد ٹیرف کی دھمکی دی اور ہند پاک جنگ رکوادی

فروری 20, 2026
Bangladesh Tension BNP India Allegation

بنگلہ دیش میں پھر ٹکراؤ کے اثار؟:”طلباء لیڈر نے کہا بی این پی نے چناؤ جیتنے کے لیے بھارت سے سانٹھ گانٹھ کی”

فروری 20, 2026

حالیہ خبریں

Ramadan Perception Reality Analysis

رمضان: تصور اور حقیقت کے درمیان

فروری 21, 2026
Gujarat Marriage Law Sanatan Statement

نشانے پر مسلمان؟ گجرات: ‘سناتن دھرم کی رکشا کے لیے شادی کے قوانین میں تبدیلی کی جائے گی،

فروری 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN