مجھے کچھ کہنا ہے:نازش احتشام اعظمی
تاریخِ انسانی کے دفتر کو کھول کر دیکھیے تو ایک حقیقت ہر صفحے پر جگمگاتی نظر آتی ہے: انسان اپنی فطری کمزوری اور محدود عقل کے باعث کبھی اپنے زورِ بازو سے حقیقت کے آخری کمال تک نہیں پہنچ سکا۔ ہمیشہ آسمانی ہدایت کی روشنی اس کے لیے چراغِ راہ بنی، کبھی یہ نور موسیٰ علیہ السلام کے عصا سے پھوٹا، کبھی عیسیٰ علیہ السلام کی دعا سے، کبھی ہندو رشیوں کے منتر سے، اور کبھی زرتشت کے اشلوک سے۔ مگر یہ سب انوار اپنی اصل تکمیل کو اُس وقت پہنچے جب صحرائے عرب سے ایک ایسا آفتاب طلوع ہوا جس کی کرنوں نے عالمِ انسانیت کو ہمیشہ کے لیے منور کر دیا—وہ آفتاب جناب محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے۔یہی وہ نقطہ ہے جہاں دلوں میں سوال جاگتا ہے: کیا محمد ﷺ کا ذکر صرف قرآن و حدیث تک محدود ہے؟ یا یہ عظیم ترین ہستی ان صحیفوں میں بھی جھلکتی ہے جو صدیوں پہلے یہود و نصاریٰ اور ہندو مفکرین کے مابین الہامی حیثیت کے ساتھ جلوہ گر ہوئیں؟یہ سوال محض جذباتی تسکین کا ذریعہ نہیں بلکہ فکر و فلسفہ، تاریخ و مذہب اور روحانیت و حقیقت کی گہرائیوں کو چھونے والا سوال ہے۔ یہی سوال ہمیں اس روح پرور جستجو پر لے جاتا ہے کہ محمد ﷺ کی بشارتیں کہاں کہاں اور کس کس صورت میں دنیا کے مختلف مذاہب میں نظر آتی ہیں۔
نبوت کا عالمگیر تصور
اسلام کا امتیاز یہ ہے کہ وہ نبوت کو کسی ایک نسل یا قبیلے تک محدود نہیں کرتا، بلکہ اسے ایک عالمگیر حقیقت قرار دیتا ہے۔ قرآن کا اعلان ہے:”وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ” (ہر قوم کے لیے ایک رہنما بھیجا گیا)۔یہ اصول محض نظری بات نہیں بلکہ انسانی تاریخ کا عکس ہے۔ ہر قوم کے دل میں کسی نہ کسی دور میں ہدایت کا چراغ روشن کیا گیا۔ موسیٰؑ نے اپنی قوم کے لیے شریعت کا قانون دیا، عیسیٰؑ نے زخمی دلوں کو رحمت و محبت کا سہارا بخشا، ہندو رشیوں نے انسان کو باطن کی دنیا کی خبر دی۔ ان سب مشعلوں کا آخری سرا اسی عظیم ہستی کی طرف تھا جسے "رحمۃ للعالمین” کہا گیا۔یہی وجہ ہے کہ اہلِ ایمان ہمیشہ اس جستجو میں رہے ہیں کہ پچھلے صحیفوں کی گہرائی میں محمد ﷺ کی کوئی جھلک ضرور موجود ہوگی۔
اہلِ یہود کے صحیفوں میں بشارتیں
یہودی روایت کے بنیادی صحیفے تورات میں موسیٰ علیہ السلام کے الفاظ آج بھی گونجتے ہیں:”خداوند تیرا خدا تیرے لیے تیرے بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا۔ تم کو اس کی سننی ہوگی۔” (استثناء 18:15)یہ "میرے جیسا” جملہ معمولی نہیں۔ موسیٰؑ محض واعظ یا درویش نہ تھے، بلکہ صاحبِ شریعت اور صاحبِ ملت تھے۔ انہوں نے بنی اسرائیل کو قانون دیا، معاشرہ تشکیل دیا، ایک نظامِ حیات ان پر نافذ کیا۔ اسی طرح محمد ﷺ بھی وہی ہستی ہیں جن پر قرآن نازل ہوا—ایک ایسا کامل دستورِ حیات جس نے بکھری ہوئی انسانیت کو ایک امت میں ڈھالا۔اسی کتابِ مقدس میں ایک اور حیرت انگیز اشارہ ملتا ہے۔ گیت سلیمان میں ایک لفظ”محمدیم” آیا ہے، جسے عبرانی لغت میں "بالکل پیارا” کہا گیا۔ یہودی مفسرین اسے محض عشقیہ استعارہ قرار دیتے ہیں، مگر اس لفظ کی صوتی ہم آہنگی اور ساخت یہ باور کراتی ہے کہ محبوبِ حقیقی کا اشارہ محمد ﷺ کی طرف ہے۔یقیناً یہودی علما ان تاویلات سے اختلاف کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ "میرے جیسا نبی” کی بشارت اور "محمدیم” کا ذکر انسان کو جھنجھوڑ دیتا ہے کہ یہ سب محض اتفاق نہیں ہو سکتے۔
اہلِ انجیل کی پیشین گوئیاں
اب آئیے مسیحی متون کی طرف۔ انجیل یوحنا میں عیسیٰ علیہ السلام اپنے حواریوں کو ایک آنے والے "مددگار” (Paraclete) کی خوشخبری دیتے ہیں:”اور میں باپ سے مانگوں گا، اور وہ تمہیں ایک اور مددگار دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گا۔” (یوحنا 14:16)یہ مددگار کون ہے؟ کیا وہ محض روح القدس ہے، یا پھر وہ انسانی رہنما ہے جو "تمہیں تمام سچائی کی طرف لے جائے گا” (یوحنا 16:13)؟مسیحی علماء اسے روح القدس قرار دیتے ہیں، مگر مسلم شارحین استدلال کرتے ہیں کہ روح القدس تو پہلے بھی نازل ہوتا رہا، مگر یہاں جس ہستی کا ذکر ہے وہ مستقل رہنمائی کرنے والا ہے—اور یہ وصف صرف محمد مصطفی ﷺ میں پایا جاتا ہے جنہوں نے اعلان کیا:
"اليوم أكملت لكم دينكم” (آج میں نے تمہارے لیے دین کو مکمل کر دیا)۔یوں انجیل کا "مددگار” اور قرآن کا "خاتم النبیین” ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔
ہندو صحیفوں میں روشن جھلکیاں
مشرق کی طرف رخ کیجیے تو ہندو دھرم کے صحیفے بھی حیرت انگیز اشارات سے خالی نہیں۔بھویشیا پوران میں "محمدہ” نامی ایک استاد کا ذکر ہے جو صحرائی خطے میں آئے گا، بتوں کو توڑ دے گا اور توحید کا پرچار کرے گا۔ یہ "محمدہ” کون ہے؟ کیا یہ وہی ہستی نہیں جسے تاریخ "محمد ﷺ” کے نام سے جانتی ہے؟اتھرو وید میں ایک پیشین گوئی ملتی ہے: "وہ غیر ملکی ہوگا، اونٹ پر سوار ہوگا، اور ہزاروں اس کے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔” یہ منظرنامہ جزیرۂ عرب کے سوا کہاں دکھائی دیتا ہے؟یقیناً ہندو شارحین میں اختلاف ہے۔ بعض اسے استعارات کہتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ استعارات آخر کار محمد بن عبداللہ ﷺ کی زندگی سے کیوں جا ملتے ہیں؟
علمی نقد اور منطق استدلال
یقیناً ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ سب تاویلات ہیں، متون میں بعد کی زیادتیاں ہیں، یا محض اتفاقات ہیں۔ لیکن منطق یہی کہتی ہے کہ محمد ﷺ کے ظہور نے تاریخ کو اس طرح بدل دیا کہ ہر قوم اپنے اپنے صحیفے میں ان کی جھلک تلاش کرنے لگی۔یہ معاملہ بالکل ویسا ہے جیس گھنے جنگل میں مسافر کو دور کہیں روشنی دکھائی دے۔ ہر ایک اپنی جگہ کھڑا ہو کر اس روشنی کو اپنی تعبیر میں بیان کرتا ہے، مگر روشنی حقیقت میں ایک ہی چراغ سے پھوٹتی ہے۔اسی اصول پر تمام صحیفے محمد ﷺ کی آمد کے لیے ایک ابتدائی خاکہ فراہم کرتے ہیں، اور جب وہ آئے تو وہ خاکہ حقیقت میں ڈھل گیا۔
بین المذاہب وحدت کا پیغام
یہ تذکرے محض مسلمانوں کے لیے باعثِ تسکین نہیں، بلکہ ساری انسانیت کے لیے وحدت اور ہم آہنگی کا پیغام رکھتے ہیں۔ یہ بتاتے ہیں کہ مذاہب کے درمیان اصل رشتہ تقسیم نہیں بلکہ اشتراک ہے؛ جھگڑا نہیں بلکہ اتفاق ہے۔
اسی لیے قرآن نے اعلان کیا:
"وما أرسلناك إلا رحمة للعالمين” (ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر جہانوں کے لیے رحمت بنا کر)۔
اگر یہودی متون ایک آنے والے نبی کی بشارت دیتے ہیں، اگر انجیل ایک "مددگار” کی نوید سناتی ہے، اور اگر ہندو وید ایک "محمدہ” کا ذکر کرتے ہیں، تو ان سب کے دھاگے ایک ہی مرکز پر جُڑ جاتے ہیں—محمد ﷺ۔
کلام آخر
اس جستجو کا حاصل یہ ہے کہ محمد مصطفی ﷺ محض عرب کے رسول نہیں بلکہ تاریخِ انسانی کے رسول ہیں۔ ان کا ذکر یہودیت کے اوراق میں بھی ملتا ہے، عیسائیت کے بابوں میں بھی جھلکتا ہے، اور ہندو دھرم کے صفحات میں بھی روشن ہے۔
یہ بشارتیں بتاتی ہیں کہ انسانیت کی کشتی آخرکار اسی ساحل پر لگی جہاں محمد ﷺ کھڑے ہیں۔ وہی "خاتم النبیین” ہیں، وہی "رحمۃ للعالمین” ہیں، اور وہی وہ چراغ ہیں جس نے تاریک دنیا کو ہمیشہ کے لیے منور کر دیا۔








