راجستھان میں منی لانڈرنگ کے ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش کرنے کا دعویٰ کرتےہوئے، ای ڈی نے بیکانیر میں الفرقان ایجوکیشنل ٹرسٹ (AET) کے سابق صدر محمد صادق عرف صادق خان کو گرفتار کیا ہے۔ اس کارروائی کو نہ صرف کسی ایک ٹرسٹ یا فرد کے لیے بلکہ پورے سسٹم کے لیے دھچکا قرار دیا جا رہا ہے جس کے ذریعے مذہبی عطیات، غیر ملکی رابطوں اور نقدی نیٹ ورکس کو مبینہ طور پر مشکوک سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ جے پور زونل آفس کی ٹیم نے صادق کو پی ایم ایل اے 2002 کے تحت گرفتار کیا اور 4 دسمبر 2025 کو خصوصی پی ایم ایل اے عدالت میں پیش کیا جہاں عدالت نے 6 دسمبر 2025 تک ای ڈی کی تحویل میں دے دیا۔نیوز18ہ دی نے یہ رپورٹ کی ہے
اس خبر کے مطابق ای ڈی کی ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ صادق نے اے ای ٹی ٹرسٹ اور مسجد عائشہ کے انتظام کے نام پر عوامی عطیات کا بے دریغ استعمال کیا۔ ٹرسٹ کے نام پر بڑی رقم جمع کی گئی، دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا گیا۔ تمام نقدی صادق کے ذاتی قبضے میں رہی اور اسے ذاتی، مشکوک اور (مبینہ )غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس رقم سے اس کے بار بار غیر ملکی سفر ہوئے جس کی کوئی جائز مالی بنیاد نہیں تھی۔
ای ڈی کے مطابق، ٹرسٹ کو عطیہ مکمل طور پر نقد میں قبول کیا گیا تھا۔ کوئی رسیدیں نہیں تھیں، رجسٹر نہیں تھے، کوئی آڈٹ نہیں تھا- سارا نظام صادق کے کنٹرول میں تھا۔ اس کے بعد یہ نقدی ٹرسٹ کے مقصد سے غیر متعلق مقاصد کے لیے استعمال کی گئی۔ اس نے اس رقم سے بنگلہ دیش، نیپال، قطر اور عمان جیسے ممالک کا سفر کیا۔ ای ڈی کو شبہ ہے کہ ان دوروں کا مقصد مذہبی اور سماجی روابط کو فروغ دینا نہیں تھا بلکہ ایسے نیٹ ورکس کے ساتھ روابط قائم کرنا تھا جو بنیاد پرست نظریات کو فروغ دیتے ہیں۔ اپنے بنگلہ دیش کے دورے کے دوران، سی ڈی کے مطابق صادق نے محمد سلیم عرف سوربھ ویدیا سے ملاقات کی، جسے بعد میں حزب التحریر کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر ایم پی اے ٹی ایس نے گرفتار کیا تھا۔ ای ڈی کے مطابق یہ تعلق اس نیٹ ورک کی سنگینی کو ثابت کرتا ہے۔
دہلی دھماکے کے بعد جس طرح الفلاح یونیورسٹی (فرید آباد) اور مہاراشٹر کا عشات العلوم انسٹی ٹیوٹ تحقیقاتی ایجنسی کے رڈار پر آئے، اب اس فہرست میں راجستھان کے بیکانیر میں واقع الفرقان ایجوکیشنل ٹرسٹ کا نام بھی شامل ہوگیا ہے۔ صادق کو حراست میں لینے کے بعد، ای ڈی نے اب پورے نیٹ ورک کی تحقیقات شروع کر دی ہے جس نے ٹرسٹ کو پیسہ پہنچایا اور پھر اس کی منزل تک پہنچایا۔ ایجنسی کا خیال ہے کہ یہ معاملہ صرف فنڈنگ سے متعلق نہیں ہے بلکہ ایک بڑی نظریاتی اور مجرمانہ سازش کا حصہ ہے۔ تفتیش میں مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔ سورس:نیوز18ہندی








