اسرائیل کی جانب سے غزہ شہر پر زمینی حملے کے دوسرے دن، حماس کے ایک ذریعے نے بتایا کہ "القسام بریگیڈز” نے اسرائیلی یرغمالیوں کو شہر کے مختلف مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔
ذریعے نے آج بدھ کے روز العربیہ کو بتایا کہ یہ نقل و حرکت یرغمالیوں کو زخمی ہونے سے بچانے کے لیے کی گئی۔انھوں نے مزید کہا کہ "اسرائیل کی شدید بم باری کے سبب یرغمالیوں کی زندگی کو خطرہ ہے … ان کی زندگی پر غیر یقینی حالات چھائے ہوئے ہیں کیونکہ حملے مسلسل جاری ہیں”۔اسرائیلی یرغمالیوں کے خاندانوں کے فورم نے کل اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ انھوں نے "سیاسی وجوہات کی بنا پر یرغمالیوں کو قربان کرنے کا فیصلہ کیا، نیتن یاہو نے فوج اور سکیورٹی اداروں کے رہنماؤں کی رائے کو نظرانداز کر دیا”۔اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے زور دیا کہ اسرائیلی فورسز یرغمالیوں کی زندگی کو اولین ترجیح دے رہی ہیں اور شہر میں فیصلہ کن مگر تدریجی پیش رفت کر رہی ہیں۔
دوسری جانب حماس نے زمینی حملے کے آغاز سے قبل ایک بیان میں اسرائیل پر یرغمالیوں کی زندگی کی ذمے داری عائد کی اور امریکہ کو بھی الزام دیا کہ وہ "اسرائیلی پروپیگنڈے” کے پیچھے چل رہا ہے، جس میں کہا جا رہا ہے کہ حماس یرغمالیوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔یاد رہے کہ اب بھی 48 اسرائیلی یرغمالی غزہ کی پٹی میں محصور ہیں، جبکہ اسرائیلی اطلاعات کے مطابق ان میں سے صرف 20 زندہ ہیں۔








