آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسابلے نے کہا ہے کہ سنگھ کا متھرا اور کاشی کے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ لیکن کارکنان چاہیں تو احتجاج کرسکتے ہیں۔ تنظیم ایسے کارکنوں کو نہیں روکے گی۔ ایک کنڑ میگزین کو انٹرویو کے دوران پوچھا گیا تھا کہ سنگھ کے کام سے متاثر ہو کر بہت سے لوگ مسجدوں کے نیچے مندر ڈھونڈ رہے ہیں ؟ ا انہوں نے تمام مساجد کو نشانہ بنانے کی بڑے پیمانے پر کوششوں کے خلاف خبردار کیا اور سماجی اختلاف سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا۔
کنڑ میگزین نے بات کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ سنگھ کے کام سے متاثر ہو کر بہت سے لوگ مسجدوں اور کھنڈرات کے نیچے مندر تلاش کر رہے ہیں اور ان معاملات کو اسی طرح حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس طرح رام جنم بھومی کا معاملہ حل ہوا تھا۔ کیا سنگھ ایسی کوششوں کی حمایت کرتا ہے؟ کیا وہ غیر جانبدار رہے گا؟ یا وہ ان کی مخالفت کرے گا؟اس کے جواب میں، انہوں نے کہا، "اسے پچھلے 50 سالوں کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ رام جنم بھومی کی تحریک سنگھ نے شروع نہیں کی تھی۔ بہت سے سادھوؤں، سنتوں اور مٹھوں کے سربراہوں نے رام جنم بھومی کو دوبارہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے سنگھ سے تعاون طلب کیا اور ہم نے اتفاق کیا کہ بقول ان کے رام جنم بھومی پر مندر کی تعمیر کے لیے ثقافتی نقطہ نظر سے یہ ضروری تھا۔ وشو ہندو پریشد اور مذہبی گروپوں نے تین مندروں کے بارے میں بات کی ہے اگر سنگھ کے کچھ رضاکار ان تینوں مندروں سے متعلق کوششوں میں شامل ہیں تو سنگھ انہیں نہیں روک رہا ہے۔ہوسابلے نے مزید کہا کہ اگر ہم باقی تمام مساجد اور ڈھانچوں کی بات کریں تو کیا ہمیں 30,000 مساجد کی کھدائی شروع کر کے تاریخ کو دوبارہ لکھنے کی کوشش کرنی چاہیے؟ کیا اس سے معاشرے میں مزید دشمنی اور ناراضگی پیدا نہیں ہوگی؟ کیا ہمیں ایک معاشرے کے طور پر آگے بڑھنا چاہیے یا ماضی میں پھنسے رہنا چاہیے؟ ہم تاریخ میں کتنے پیچھے چلے گئے ہیں؟ اگر ہم یہی کرتے رہے تو دیگر اہم سماجی تبدیلیوں پر کب توجہ دیں گے؟
انہوں نے کہا کہ آج سماج کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے جیسے مذہب تبدیلی، گائے کا ذبیحہ، لوجہاد وغیرہ۔ سنگھ نے کبھی نہیں کہا کہ ان مسائل کو نظر انداز کیا جائے یا ان پر کام نہ کیا جائے۔
دتاتریہ ہوسابلے کے بیان پر کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ مانکم ٹیگور نے کہا ہے کہ رام مندر کے بعد انہیں 400 سیٹیں ملنے والی تھیں ۔ کتنی آئیں؟ صرف 240۔ یہی ہوگا جب وہ بار بار مندر مسجد کا کھیل کریں گے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس صرف ملک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ دریں اثنا، نگینہ کے ایم پی چندر شیکھر آزاد نے کہا کہ جب متھرا اور کاشی کا تنازعہ ہے تو کیا بی جے پی اور سنگھ کو قانون پر اعتماد نہیں ہے؟ عدالت کا حکم آنے دیں۔ یہ لوگ ایسے متنازعہ بیانات سے ملک کو کیوں تقسیم کرنا چاہتے ہیں؟