متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے پیر کو ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی اجازت نہیں دے گا۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اپنی فضائی حدود، زمینی یا علاقائی پانی کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے لاجسٹک مدد فراہم کرنے سے انکار کرتا ہے۔گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا ایران میں مظاہرین کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن کے بعد ایران پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ کا ایک بحری بیڑا خلیج کی طرف بڑھ رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی کے قریب الظفرہ ایئر بیس پر ہزاروں امریکی فوجی تعینات ہیں جو خلیج میں کئی امریکی فوجی اڈوں میں سے ایک ہے۔متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے "مذاکرات، کشیدگی میں کمی، بین الاقوامی قانون کی پاسداری، اور اقوام کی خودمختاری کا احترام” کو موثر ذریعہ قرار دیا ہے۔
متحدہ عرب امارات نے موجودہ بحرانوں کے حل کے لیے بات چیت اور کشیدگی میں کمی پر زور دیا ہے۔
اماراتی وزارت خارجہ نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور ریاستی خود مختاری کے احترام پر یقین رکھتے ہیں اور تنازعات کے حل کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دیتے ہیں









