18دسمبر/تجزیاتی رپورٹ
پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی گود میں بیٹھنا چاہیے یا پاکستانی عوام کی خواہشات کا احترام کرنا چاہیے؟ یہ جغرافیائی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے لیے ایک ملین ڈالر کا سوال ہے۔ درحقیقت پاکستان کے طاقتور ترین فوجی سربراہ کو کئی دہائیوں میں اپنے مشکل ترین امتحان کا سامنا ہے۔ ایک طرف، امریکہ اسلام آباد پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ غزہ میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے بھیجی جانے والی بین الاقوامی فورس (غزہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس) میں فوجیوں کا حصہ ڈالے۔ تجزیہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر پاکستانی فوج نے ایسا کوئی قدم اٹھایا تو اس سے پاکستان کے اندر بغاوت ہو سکتی ہے۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق دو ذرائع نے بتایا ہے کہ عاصم منیر آنے والے ہفتوں میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کے لیے واشنگٹن جا سکتے ہیں۔ چھ ماہ میں دونوں کے درمیان یہ تیسری ملاقات ہوگی۔ اجلاس میں ممکنہ طور پر غزہ فورس پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
ٹرمپ کا غزہ کے لیے کیا منصوبہ ہے؟
ٹرمپ نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ روکنے کے لیے اپنا 20 نکاتی غزہ پلان پیش کیا۔ ایک منصوبے میں مسلم ممالک سے فوجیوں کو ایک عبوری مدت کے لیے فلسطینی علاقوں میں بین الاقوامی فورس بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جب کہ تعمیر نو اور اقتصادی بحالی ہو رہی ہے۔ غزہ کو اس تعمیر نو اور اقتصادی بحالی کی اشد ضرورت ہے، جو دو سال سے زائد عرصے سے اسرائیلی فوج کی بمباری سے تباہ ہو چکا ہے۔لیکن بہت سے مسلم ممالک غزہ میں اسلامی عسکریت پسند گروپ حماس کے خلاف ایک مشن شروع کرنے سے محتاط ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ یہ انہیں ایک طویل تنازعہ کی طرف گھسیٹ سکتا ہے اور ان کی فلسطینی حامی اور اسرائیل مخالف آبادی کو ناراض کر سکتا ہے۔
منیر کی الجھن :روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق منیر نے ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے ہیں اور اکثر اپنا موقف بدلتے رہتے ہیں۔ جون میں، ٹرمپ نے منیر کو وائٹ ہاؤس میں لنچ پر مدعو کیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب کسی امریکی صدر نے پاکستانی آرمی چیف کی میزبانی کی ہو۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں قائم اٹلانٹک کونسل میں جنوبی ایشیا کے سینئر فیلو مائیکل کوگل مین نے کہا، "(غزہ اسٹیبلائزیشن فورس میں حصہ نہ ڈالنا) ٹرمپ کو ناراض کر سکتا ہے، جو پاکستان کے لیے کوئی چھوٹی بات نہیں ہوگی، کیونکہ پاکستان ٹرمپ کے احسانات تلے دبے رہنے کا خواہشمند نظر آتا ہے۔ وہ امریکی سرمایہ کاری اور سیکیورٹی امداد کو محفوظ بنانا چاہتا ہے۔”لیکن منیر کی بڑی گھریلو تشویش یہ ہے کہ اگر وہ امریکی حمایت یافتہ منصوبے کے تحت پاکستانی فوجیوں کو غزہ بھیجتا ہے تو اس سے پاکستان کے اندر عوام اسلام پسند جماعتوں کی مخالفت دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، جو امریکہ اور اسرائیل کی سخت مخالف ہیں۔دوزرے عمران خان کی مقبولیت کم ہونے کا نام نہیں لیتی ،ان کو ماردیتا جانے کی افواہیں لگاتار پاکستان میں تناؤ پیدا کررہی ہیں ،کریک ڈاؤن کے باوجود عمران کی پارٹی کے حوصلے کم نہیں ہویے ہیں اور پاکستان کونسل مکھی کے دہانے پر بیٹھا ہے جو منیر اور شہباز کی جوڑی کے لیے پریشان کن ہے







