وی ایچ پی اور دیگر تنظیموں کی اورنگ زیب کے مقبرے کو سمبھاجی نگر سے ہٹا نےکی مہم اور اس کے نتیجہ میں
ناگپور فساد کے بعد سنگھ بھی اورنگ زیب تنازع میں کود گیا -سنگھ کے ترجمان سنیل امبیکر کا بیان اورنگ زیب کو لے کر تنازع کے درمیان آیا ہے۔اج تک کے مطابق امبیکر نے کہا کہ یہ مسئلہ آج سے متعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کا تشدد معاشرے کے لیے اچھا نہیں ہے۔
دراصل، سنیل امبیکر سے پوچھا گیا تھا کہ کیا اورنگ زیب آج کے دور میں متعلقہ ہیں؟ اور کیا قبر کو ہٹایا جائے؟ امبیکر نے اس سوال کا واضح جواب دیا ہے۔ انہوں نے اورنگ زیب ایشوکو غیر متعلقہ کہا ہے۔ آر ایس ایس کے ترجمان نے کہا کہ مغل بادشاہ آج کے دور میں معنویت نہیں رکھتا ہے۔ اور نہ ہی کسی قسم کے تشدد کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے۔ آر ایس ایس کا یہ موقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اورنگ زیب کی قبر کو ہٹانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اور کشیدگی کے بعد ناگپور میں تشدد دیکھنے میں آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کا تنازعہ درست نہیں۔ پولس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور جو بھی ضروری ہوا کرے گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اورنگزیب کے نام کا تنازعہ آج کے دور میں مناسب ہے؟ امبیکر نے جواب دیا – یہ بالکل بھی متعلقہ نہیں ہے- آر ایس ایس کی اکھل بھارتیہ پرتیندھی سبھا کی میٹنگ 21-23 مارچ کو بنگلورو میں ہونے والی ہے۔ اس میٹنگ میں سنگھ کے صد سالہ پروگراموں پر تبادلہ خیال کیا جائے گا اور گزشتہ سال کے کاموں کا جائزہ لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ 17 مارچ کو تشدد اس وقت شروع ہوا جب ایک افواہ پھیل گئی کہ ہندو تنظیمیں ایک مذہبی علامت کی توہین کر رہی ہیں اور اسے جلا رہی ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان تشدد میں کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی اور کئی گھروں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ تشدد میں 34 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس اس معاملے میں مسلسل کارروائی کر رہی ہے۔ اب تک 5 ایف آئی آر درج ہو چکی ہیں۔ 51 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ 32 سے زیادہ پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جن میں 3 ڈی سی پی رینک کے افسران بھی شامل ہیں۔ علاج کے بعد بیشتر پولیس اہلکار ڈیوٹی جوائن کر چکے ہیں۔ ناگپور کے 11 تھانوں کے علاقوں میں کرفیو بدستور جاری ہے۔ ناگپور پولیس سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی گئی افواہ کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔ سی سی ٹی وی کی جانچ کی جا رہی ہے۔