بنگلہ دیش کا سیاسی منظرنامہ ایک بار پھر الزامات اور جوابی الزامات کی لپیٹ میں آنے کا ساتھ ٹکراؤ کے اشارے دے رہا ہے ـطلبا لیڈروں کی جماعت این سی پی کے کنوینر اور اپوزیشن پارٹی کے چیف وہپ ناہید الاسلام نے الزام لگایا کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے انتخابات میں بھارت اور عوامی لیگ کے ساتھ ملی بھگت کی۔ عوامی لیگ شیخ حسینہ کی پارٹی ہے اور بی این پی اس کی سخت مخالف رہی ہے۔
ناہید اسلام نے نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ووٹ بینک کی سیاست کے لیے عوامی لیگ کو سیاسی طور پر دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی تو عوام اس کی بھرپور مخالفت کریں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک کے عوام کسی بھی ’’سیاسی بحالی‘‘ کی سازش کو قبول نہیں کریں گے اور جمہوری طریقے سے اس کی مزاحمت کریں گے۔
ناہید اسلام نے کہا کہ اگر حکومت عوامی لیگ کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی تو اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر پارٹی کی تنظیم نو اور فعال کرنے کا عمل جاری رہا تو ان کی پارٹی وسیع پیمانے پر سیاسی مزاحمت کی کال دے گی۔
ناہید اسلام نے الزام لگایا کہ قائدین کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے باوجود عوامی لیگ کے دفاتر ملک بھر کے مختلف اضلاع اور ذیلی اضلاع میں دوبارہ کھولے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدام سیاسی حرکیات پر اثر انداز ہونے کی سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔
ناہید نے انتخابی نتائج پر بھی سنگین سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نتائج سے مایوس ہے اور انہیں "مشتبہ” پاتی ہے۔ ان کے مطابق انتخابی عمل میں مبینہ طور پر ہیرا پھیری کی گئی جس سے اصل مینڈیٹ متاثر ہوا۔
انتخابی عمل کی تحقیقات کا مطالبہ
ناہید اسلام نے کہا کہ جس طرح سے نتائج کا اعلان کیا گیا اس سے شفافیت اور انصاف پر سوالات اٹھتے ہیں۔ انہوں نے جمہوری نظام پر ووٹرز کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے پورے انتخابی عمل کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
ناہید اسلام نے واضح کیا کہ ان کی جماعت جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے ہر آئینی اور پرامن قدم اٹھائے گی۔ بنگلہ دیش کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ان الزامات نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے اور آنے والے دنوں میں سیاسی کشمکش میں مزید اضافے کا امکان ہے۔







