بنگلادیش جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان کا کہنا ہے کہ صرف ایک سال پہلے ہماری جماعت کو غیر اہم سمجھا جارہا تھا۔ آج جماعت اکثریت کے مقام پر کھڑی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں ڈاکٹر شفیق الرحمان نے کہا کہ اوباما نے ’’یس وی کین‘‘ کے نعرے کے ساتھ کامیابی حاصل کی، اُس وقت جب ہر اخبار یہ کہہ رہا تھا کہ ایک سیاہ فام شخص کبھی امریکا کا صدر نہیں بن سکتا
انہوں نے کہا کہ سری لنکا اور نیپال میں بدعنوانی کے خلاف تحریکوں نے تمام تر مشکلات کے باوجود بڑی سیاسی جماعتوں کو شکست دی، نیو یارک میں ظہران ممدانی نے عام ووٹروں کے ساتھ کھڑے ہو کر کامیابی حاصل
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ صرف ایک سال پہلے، ہماری جماعت کو ایک غیر اہم قوت قرار دیا جا رہا تھا اور پیش گوئیاں کی جا رہی تھیں کہ ہم چند نشستوں سے زیادہ نہیں جیت سکیں گے
عوام کی مرضی ہے، جب عوام متحد ہو جائیں تو انہیں کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت نے کبھی دھونس یا جبر کا سہارا نہیں لیا اور نہ آئندہ لے گی، ہمارے پاس جعلی ووٹر نہیں ہیں اور ہمیں انتخابات میں دھاندلی کی کوئی ضرورت نہیں، لیکن یہ بات واضح رہے کہ اگر کسی نے عوام کے ووٹ کو چرانے یا ان کے جمہوری حق سے انکار کی کوشش کی، تو ہم عوام کے ساتھ مل کر اس حق کا دفاع کریں گے، جیسا کہ ہم نے جولائی 2024 میں کیا تھا۔
جماعت اسلامی بنگلادیش کے حق میں ہندو رہنما کرشنا نندی نے سیاسی موقف کے ساتھ ذاتی گواہی پیش کردی۔الجریزہ کی ویب سائٹ پر شائع کرشنا نندی کے مضمون کا عنوان ’اگر جماعت اسلامی اقتدار میں آئی تو بنگلادیشی ہندو محفوظ ہوں گے، میں اس کا زندہ ثبوت ہوں
صاحب تحریر بنگلادیشی ہندو تاجر اور حالیہ پارلیمانی الیکشن میں جماعت اسلامی کے امیدوار ہیں، نے اس تاثر کو چیلنج کیا کہ اسلامی سیاست اقلیتوں کے لیے خطرہ ہوتی ہے۔انہوں نے جماعت اسلامی میں 2003ء میں شمولیت اختیار کی، وہ اپنے 23 سالہ ذاتی مشاہدے اور مطالعے کی بنیاد پر لکھتے ہیں کہ جماعت اسلامی اگر اقتدار میں آئی تو بنگلادیش میں ہندو اور دیگر اقلیتیں مکمل تحفظ، عزت اور مساوی شہری کے ساتھ رہ سکیں گے







