ڈھاکہ:بنگلہ دیش کی سیاست بہت تیزی کے ساتھ کروٹ بدل رہی ہے ،وہاں کی اسلام پسند بنگلہ دیش جماعت اسلامی کی ملک پر گرفت مضبوط ہوتی نظر آرہی ہے ـ حال کے واقعات نے پوری دنیا کو چونکا دیا ہے اور یہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگلے سال ہونے والے عام انتخابات میں یہ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرسکتی ہے جس کا اشارہ ششی تھرور نے کیا ہے ـخبر کے مطابق جماعت اسلامی کی طلبا ونگ اسلامی چھاترا شبر نے ڈھاکہ یونیورسٹی کے بعد جہانگیر نگر یونیورسٹی میں بھی طلبہ یونین کا الیکشن جیت لیا ہے۔شبر پہلی دفعہ ڈھاکہ اور جہانگیر نگر یونیورسٹی میں الیکشن جیتی ہےِ ۔
ڈھاکہ کے بعد بنگلہ دیش کی دوسری سب سے بڑی جہانگیر نگر یونیورسٹی جس کے نتائج چار دن روکے رکھے انتہائی لیٹ کرنے کے باوجود بھ اسلامی چھاتر شبر بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگئی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ چیونٹی کی رفتار سے گنتی ، دھونس دھاندلی اور جھرلو کے اعصاب شکن معرکے کے بعد جامعہ جہانگیر نگر ڈھاکہ میں جنرل سیکرٹری سمیت 25 میں سے 20 عہدوں پر اسلامی چھاترو شبر کامیاب، نائب صدر کا عہدہ آزاد امیدوار نے جیت لیا ہے۔ عوامی لیگ کی چھاترو لیگ اور خالدہ ضیا کے چھاترو دل کا صفایا ہوگیا
یہ غیر معمولی کامیابی پورے ملک میں بحث کا موضوع بن گئی ہے اور اسے بنگلہ دیش کی طلبہ سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ان انتخابات میں مرکزی یونین کی 25 نشستوں پر مقابلہ ہوا۔ اسلامی چھاترا شبر کے حمایت یافتہ امیدواروں نے ان میں سے 20 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جبکہ باقی نشستوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے۔
الیکشن کے دن طلبہ کی بڑی تعداد نے ووٹ کاسٹ کیا اور ووٹنگ کے بعد گنتی کا عمل طویل ہونے کی وجہ سے نتائج کا اعلان تاخیر سے ہوا۔کامیاب امیدواروں میں نائب صدر کے طور پر عبدالرشید زتو آزاد حیثیت میں کامیاب ہوئے، جبکہ جنرل سیکرٹری کا عہدہ مظہر الاسلام نے جیتا جو شبر کی حمایت یافتہ پینل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسی طرح اسسٹنٹ جنرل سیکرٹری کے عہدوں پر فردوس ال حسن اور عائشہ صدیقہ میگلا منتخب ہوئیں۔ اس کے علاوہ زیادہ تر سیکرٹریز کی نشستیں بھی اسی پینل کے امیدواروں کے حصے میں آئیں، جن میں تعلیم و تحقیق، ماحولیات، پبلی کیشن، آئی ٹی، لٹریری اور صحت و خوراک جیسے شعبے شامل ہیں۔یہ جامعہ جہانگیر نگر اسٹوڈنٹس یونین کا دسواں الیکشن تھاآخری مرتبہ یہ انتخابات 1992 میں منعقد ہوئے تھے، جس کے بعد تین دہائیوں سے زیادہ کا وقفہ آیا۔ حالیہ الیکشن میں تقریباً 68 فیصد طلبہ نے ووٹنگ میں حصہ لیا جو کہ یونیورسٹی کی تاریخ میں ایک بڑا ٹرن آؤٹ قرار دیا جا رہا ہے۔اس کامیابی نے بنگلہ دیش کے سیاسی منظرنامے میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ ملک کے اندر اس پر بھرپور بحث جاری ہے کہ اسلامی رجحان رکھنے والے طلبہ گروپ کی مسلسل کامیابیاں مستقبل کی سیاست پر کس طرح اثر انداز ہوں گی۔آج بنگلہ دیش کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے بعد جہانگیر نگر یونیورسٹی میں اسلامی چھاتراشبر نے 25 میں سے 20نشستوں پر شاندار کامیابی حاصل کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔









