بنگلہ دیش کے فروری میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل ایک بڑا ڈیولپمنٹ ہوا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش کی نو تشکیل طلبہ کی زیرقیادت جماعت نیشنل سیٹیزن پارٹی ،( این سی پی) نے اتوار کو جماعت اسلامی اور دوسرے گروپ کے ساتھ مل کر ‘گناتنتر سنگساکر جوٹ’ کے نام سے ایک اتحاد تشکیل دیا۔ NCP جو اس سال فروری میں عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس کی حوصلہ افزائی سے بنائی گئی تھی، اسٹوڈنٹس اگینسٹ ڈسکریمینیشن (SAD) کا ایک سیاسی ونگ ہے، جس نے گزشتہ سال پرتشدد مظاہروں کی قیادت کی اور 5 اگست 2024 کو وزیر اعظم شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔
این سی پی نے امر بنگلہ دیش (AB) پارٹی کے ساتھ اتحاد بنایا، جو دائیں بازو کی جماعت اسلامی کی شاخ ہے، اس کے علاؤہ نیشنل سنگساکر آندولن بھی شامل ہے ۔ این سی پی کنوینر ناہید اسلام نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ اس اتحاد کو "ریپبلکن سنگساکر جوٹ” کہا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ دو سال سے زائد عرصے پر محیط طویل المدتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ 8 اگست 2024 کو یونس کے چیف ایڈوائزر کا عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد اسلام سمیت تین طلبہ رہنما اس مشاورتی کونسل کا حصہ تھے۔ تاہم، اسلام نے این سی پی کی تشکیل کے لیے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اسلامی جماعت، جماعت اسلامی نے حال ہی میں فروری کے انتخابات کے لیے ہم خیال سیاسی تنظیموں کے درمیان اتحاد پیدا کرنے کی کوششوں کے تحت آٹھ اسلامی جماعتوں کا اتحاد بنایا ہے۔ یونس کی حکومت نے حسینہ کی عوامی لیگ کو تحلیل کر دیا، جس سے سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کی قیادت میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) ملک کے سیاسی منظر نامے میں اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ ضیاء اس وقت شدید علیل ہیں۔ ضیاء کی بی این پی کو ان کے بڑے بیٹے اور پارٹی کے قائم مقام صدر طارق رحمان چلاتے ہیں، جو 2008 سے لندن میں مقیم ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے اور بدلے ہوئے سیاسی منظر نامے نے بنگلہ دیش میں جماعت اور انتہائی دائیں بازو کے گروہوں کے ابھرنے کی گنجائش پیدا کر دی ہے۔بیشتر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بنگلہ دیش جماعت اسلامی ہر طبقہ میں مقبول ہے اور اس کے جیتنے کے امکانات سب سے زیادہ روشن ہیں









