*تجزیہ: ڈاکٹر سید ابوذر کمال الدین
سیاست (politics ) اور اقتدار کی سیاست Power politics کی جو اندرونی چال بازیاں Internal Maneuvering/ہیں اس سے بہت سے لوگ واقف نہیں ہیں۔جو چیزیں ہمارے سامنے جس شکل میں آتی ہیں ضروری ۔نہیں وہ اپنی اصل میں وہی ہو ں ورنہ صحیح بات یہ ہے کہ ہیں کواکب کچھ نظر اتے ہیں کچھ ۔
بہار کا 2025کے چناؤ کا عمل شروع ہو چکا ہے ۔بظاہر مقابلہ آن ڈی اے اور انڈیا الاینس کے بیچ ہونا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کیی پار ٹیان ہیں جو آزادانہ چناؤ لڑ رہی ہیں ۔اصل مقابلہ آن دونوں گٹھ بندھن کے بیچ ہے۔۔ کون جیتے گا کون ہارے گا اس کا قیاس لگانا قبل از وقت ہے۔ کبھی کبھی چناؤ میں دوچار دن پہلے ایک ڈرامائی تبدیلی رونما ہوتی ہے جو پورے چناؤ کی ہوا فضا بدل دیتی ہے۔
ابھی جو صورتحال ہے اس میں دونوں گٹھ بندھن میں بے اطمینانی کی کیفیت پائی جاتی ہے ۔ دونوں طرف باغی امیدوار جن کو ٹکٹ نہیں ملا ہے اور جو پہلے سے ودھایک اور منتری تھے وہ اپنے پارٹی امیدوار کے خلاف کھڑے ہو گیے ہیں۔ لوگوں کے اندر پارٹی بدلنے کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ راتوں رات لوگ زعفرانی سے ہرا اور ترنگا رنگ میں رنگ رہے ہیں اسی طرح کچھ زعفرانی چولا بھی اپنا رہے ہیں۔ سیاست میں اصول اخلاق اور انسانیت کی اتنی اہمیت بھی نہیں ہوتی ہے جتنی جوتے کچھے اور بنیان کی ہے۔لوگ آسانی سے بغیر کسی اخلاقی حس کے اپنی وفاداری بدلتے رہتے ہیں ۔آنہیں اس کی پرواہ نہیں ہوتی کہ لوگ کیا کہیں گے ۔وہ سمجھتے ہیں کہ لوگ ذات دھرم اور پیسے کے بل پر ووٹ دیتے ہیں ۔ سیاست ایک بہت ہی نفع بخش تجارت ہے اگر جیت گیے تو دسوں انگلیاں گھی میں ہونگی اور ہار گیے تو آیندہ جیتنے کی راہ ہموار کرنے گی۔ عوام کا چوالیس بہت محدود ہے۔ اپ کو اختیار ہے اس انتخابی عمل میں حصہ نہ لیں لیکن اس سے کوی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ جتنا ووٹ ڈالا گیا ہے اسی بنیاد پر ہار جیت ہوگی ۔اب دو آپشن اور ہے ایک جس کو جتانا چاہیں ان کے حق میں ووٹ کریں یا اس پورے سسٹم اور تمام پارٹیوں اور کیڈیٹ سے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے نوٹا کا بٹن دبائیں ۔ اس منفی ووٹنگ سے جیت اور ہار پر اثر نہیں پڑے گا ۔اس لیے صحیح بات یہ ہے کہ ووٹ ڈالیں اور اپ کے نقطہ نظر سے جو نسبتاً بہتر پارٹی اور امیدوار ہے اس کو جتانے کی بھرپور کوشش کریں ۔
سیاست کا یہ مزاج نیا نہیں ہے ۔ قدیم ترین زمانے سے دیکھا گیا ہے کہ لوگ اقتدار کی خاطر باپ اور بھائی کو بھی قید قتل اور جلا وطن کرتے رہے ہیں آج بھی سیاست کا یہی مزاج ہے۔یہی وجہ ہے کہ اپ دیکھتے ہیں کہ بھای بھای کی خلاف کھڑاہے ،شوہر بیوی کے درمیان مقابلہ ہو رہاہے باپ بیٹے حریف بنے ہوئے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک ہی خاندان کے کی امیدوار الگ الگ پارٹیوں سے کھڑے ہیں اس ماحول میں ہماری سیاسی ترجیحات۔ کیا ہوں گی یہ غور کرنے کی ضرورت ہے
پہلی بات تو سمجھ لیجئے کے سیاسی پارٹیوں اور سیاست دانوں کا مقصد ملک اور قوم کی خدمت نہیں ہے بلکہ اس کا سیدھا مقصد کسی طرح جیتنا اقتدار حاصل کرنا اور اس کے ذریعے اپنی طاقت اور دولت میں اضافہ کر نا ہےیہی وجہ ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوتے ہیں ۔ سیاست میں دوستی دشمنی نہیں ہوتی ہے جو چیز اہمیت رکھتی ہے وہ مفادات ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ شام تک جو ادمی گالی دے رہا تھا اور زہر اگل رہا تھا صبح میں گلے ملتے دیکھا جاتا ہے ۔ اس ماحول میں جو عام آدمی ہے اور سنجیدہ ووٹر ہے وہ ٹھگاہوا محسوس کرتاہے ۔ اس لیے بہت سے لوگ ہیں جو پاور بروکر بن جاتے ہیں اور پیسے لے کر ووٹ دیتے اور دلاتے ہیں۔
لیکن چاہے ہم پسند کریں یا نہ کریں۔ سیاست اقتدار کا کھیل ہے اور ہم اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکتے ہیں ۔ ہم نے کمبل چھوڑ دی ہے لیکن کمبل ہم کو نہیں چھوڑے گا۔ اس لیے ہم اس معاملے میں لا تعلق نہیں رہ سکتے ہیں ۔ ہمیں ہر حال میں اپنا سیاسی موقف طے کرنا ہوگا اور جو فیصلہ ہم کریں اس کو زمین پر اتارنے کی جدوجہد بھی کر نی ہوگی ۔سیاست بنیاد ی طور پر نمایندگی کا کھیل ہے۔ ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ چناؤ در چناؤ اسمبلی اور پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائیندگی گھٹتی جا رہی ہے ۔بی جے پی نے تو یہ طے کر لیا ہے کہ بھارت کی سیاست میں مسلمانوں کی حصہ داری ختم کر دینی ہے اس لیے وہ کسی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیتی ہے ۔نام نہاد سیکولر پارٹیاں بھی مسلمانوں کو پوری نمایندگی دینے سے کتراتی ہیں۔ مسلمان جن ہندو ذاتوں اور برادریوں کو تھوک کے بھاؤ ووٹ دیتے ہیں اور ان کو جتانے اور اقتدار میں لانے کے لیے خون پسینا ایک کر دیتے ہیں اسی ذات برادری کے لوگ انہیں پارٹیوں سے کھڑے مسلمان امید وار کو ووٹ نہیں دیتے ہیں ۔ اس طرح سے پوری سیاست ون وے ٹریفک بن گیی ہے۔
بہر حال یہ سیاسی منظر نامہ فی الوقت ہمارے چاہنے سے تو نہیں بدلے گا ۔اس کے لئے لانگ ٹرم اسٹریٹجی بنانے کی ضرورت ہوگی جس کا ابھی کوی وقت ہے اور نہ فائدہ ۔ اس لیے ہمیں موجودہ حالات میں ایک صحیح سیاسی فیصلہ لینا ہےمیرے خیال میں ہمارے پاس چوایس بہت لیمیٹیڈ ہے۔ ہمیں تین باتوں پر توجہ دینی چاہیے
پہلی بات یہ ہے کہ جو مسلمان کنڈیڈیٹ جس پارٹی سے کھڑا ہے اور وہ مقابلے میں ہے اور اپ کی معاونت سے جیت سکتا ہے اس کو ضرور ووٹ دیجیے اور اس کے جیت کو یقینی بنانے کی کوشش کیجئے ۔شکوہ شکایت کا ازالہ بعد میں کر لیا جائے گا ۔
سیمانچل میں مسلمان سیاسی قیادت کی کوشش کی جارہی ہے ۔اس کی اپنی کمیاں اور خامیاں ہیں ۔مگر نمایید ہ سیاست میں جب تمام پارٹیاں ایک دوسرے سے ہاتھ ملا رہی ہیں ۔معاہدات کر رہی ہیں جب ان سے کہا گیا کہ ام ای ام سے بھی تال میل کریں اور انہیں بھی انڈیا گٹھ بندھن میں شامل کریں تو ان پارٹیوں نے ان سے معاہدہ کرنے سے انکارکردیا ۔اس صورت میں ہمارا موقف یہ ہے کہ سیمانچل میں ایم ای ام امیدوار کو ووٹ دے کر کامیاب بنایا جائے تاکہ ان کے تعاون سے سرکار بنتی ہے تو مؤثر طور پر مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کی جاسکے ۔ یہ بات صرف سیمانچل کے لیے ہے۔سیمانچل سے باہر ایسی کوی کوشش مس ایڈونچر کہلاتے گی جس سے بچنے کی ضرورت ہے ۔اس کے باوجود کے انڈیا گٹھ بندھن میں تال میل صحیح طور پر نہیں ہو سکا ہے اور کی جگہوں پر حلیف پارٹیاں اور ان کے امیدوار آمنے سامنے ہیں۔ اور کی جگہوں پر بھیتر گھات کا بھی اندیشہ ہے ۔ان سب کے باوجود ہمارے سامنے صرف یہ چوایس ہے کہ ہم کانگریس اور آر جے ڈی اور سی پی ای ال ام کو ووٹ دیں اور ان کے امیدواروں کو کامیاب بنائیں ۔تاکہ ملک میں غیر فرقہ پرست قوتیں مضبوط ہوں اور فرقہ پرست قوتیں کمزور ہوں۔
ہم نے سوجھ بوجھ سے کام لیا تو ہم سیاسی پانسہ پلٹ بھی سکتے ہیں بصورت دیگر جو اللہ کو منظور ہوگا وہ ہوکر رہے گا ۔
(مضمون نگار سابق پروفیسر ہیں اور ان کا تعلق بہار سے ،یہ ان کے ذاتی خیالات ہیں )








