نئی دہلی: کینیڈا میں جبری وصولی اور کانٹریکٹ کلنگ میں مبینہ طور پر ملوث بدنام زمانہ لارنس بشنوئی گینگ کے بارے میں رائل کینیڈین ماؤنیٹڈ پولیس(آر سی ایم پی) کے ایک دستاویز میں کہا گیا ہے کہ یہ گینگ ‘ہندوستانی حکومت کے لیے کام کر رہا ہے۔’یہ جانکاری کینیڈین میڈیا پلیٹ فارم گلوبل نیوز نے دی ہے ۔بشنوئی گینگ کے بارے میں آر سی ایم پی کے سیکورٹی ڈپارٹمنٹ کی رپورٹ میں صرف تین صفحات میں ہی اس مجرمانہ گینگ کے ہندوستانی حکومت سے مبینہ روابط کا ذکر کم از کم نصف درجن بار کیا گیا ہے۔گلوبل نیوز کو موصولہ آر سی ایم پی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ‘لارنس گینگ ایک پرتشدد مجرمانہ تنظیم ہے، جس کی کینیڈا سمیت کئی ممالک میں سرگرمیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔
دستاویز میں مزید کہا گیا ہے کہ بشنوئی گینگ سیاسی یا مذہبی مقاصد کے بجائے لالچ میں جبری وصولی، منشیات کی اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور کانٹریکٹ کلنگ میں ملوث ہے۔رپورٹ میں کلاسیفائیڈ’اے’کے طور پر درجہ بند دستاویز میں الزام لگایا گیا ہے کہ لارنس گینگ، جو اپنی مجرمانہ سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لیے تشدد کا سہارا لینے کے لیے معروف ہے،وہ ہندوستانی حکومت کی جانب سے کام کرتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ کینیڈا میں بشنوئی گینگ کی بڑھتی ہوئی موجودگی سے متعلق یہ خفیہ دستاویز گلوبل نیوز کو کینیڈین رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت حاصل ہوئی
تاہم یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کینیڈین سیکورٹی حکام نے بشنوئی گینگ کے بارے میں اس طرح کے دعوے کیے ہیں۔ اس سے قبل اکتوبر 2024 میں کینیڈین پولیس نے الزام لگایا تھا کہ ہندوستانی حکومت کے ایجنٹ بشنوئی گینگ جیسے منظم جرائم کرنے والےگروہوں کا استعمال ساؤتھ ایشین ڈائیسپورا کمیونٹی کے لوگوں کی معلومات جمع کرنے کو لے کر دباؤ ڈالنے کے لیے کر رہے تھے۔
اگر چہ دستاویزوں پر کوئی تاریخ نہیں ہے، لیکن اس میں جون 2025 میں ایبی کی جانب سےحکومت سے بشنوئی گینگ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی درخواست کا ذکر ہےبشنوئی اس وقت گجرات کی سابرمتی جیل میں بند ہے۔ اسے 2015 میں گرفتار کیا گیا تھا
اطلاعات کے مطابق، کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی بھی اس سال کے پہلے نصف میں ہندوستان کا دورہ کرنے والے ہیں دی وائر کے ان پٹ کے ساتھ







