**ایران میں حکومت مخالف پُرتشدد مظاہرے؛ اسرائیلی جاسوس پکڑا گیا
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ملک گیر مظاہروں کے دوران امن عامہ کی کوششوں کے دوران ایک کارروائی میں اسرائیلی جاسوس کو پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے6تاحال گرفتار جاسوس کی قومیت اور شناخت ظاہر نہیں کی گئی تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ملزم پر حساس معلومات اکٹھی کر کے اسرائیلی اداروں کو فراہم کرنے میں ملوث تھا۔•••
**ٹرمپ نے ایران میں مظاہرین کی مدد کا فیصلہ کرلیا، اسرائیلی میڈیا
اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مظاہرین کی مدد کا فیصلہ بنیادی طور پر کرلیا ہے۔امریکی ٹی وی کے مطابق ایران میں مظاہروں کے بعد صدر کو فوجی آپشنز پر بریفنگ دی گئی۔ ایران کی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے آپشنز پر غور کیا گیاایران کے خلاف سائبر آپریشنز اور نئی پابندیاں بھی زیر غور ہیں۔اسٹار لنک کے ذریعے ایران میں انٹرنیٹ بحال کرنے کے آپشن پر غور کیا گیا•••
**تاریخی انخلا، دو برس میں ڈیڑھ لاکھ اسرائیلی ملک چھوڑ گئے
تاریخی انخلا، دو برس میں ڈیڑھ لاکھ اسرائیلی ملک چھوڑ گئے، جنگ، عدم تحفظ اور سیاسی مایوسی نے صہیونی ریاست کے دعوئوں کو چیلنج کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق اکتوبر 7 کے بعد اسرائیل کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے انسانی انخلا کا سامنا ہے۔ جنگ، عدم تحفظ اور سیاسی مایوسی نے ہزاروں شہریوں کو یک طرفہ ٹکٹ پر ملک چھوڑنے پر مجبور کر دیا، جس سے صہیونی ریاست کے محفوظ پناہ گاہ ہونے کے دعوے پر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں••
**غزہ:چوتھا فلسطینی بچہ ٹھٹھرتی سردی میں جم کر دم توڑ گیا۔
غزہ کے موسم سرما کی سخت سردی میں، دو ماہ کا محمد ابو حربید اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کا تازہ ترین شکار بن گیا ہے جس نے فلسطینیوں سے پناہ، گرمی اور بقا چھین لی ہے۔وزارت صحت میں ہیلتھ انفارمیشن کے ڈائریکٹر ظہیر الوحیدی نے الجزیرہ کو بتایا کہ شیر خوار بچے کی موت الرنتیسی چلڈرن ہسپتال میں شدید ہائپوتھرمیا کی وجہ سے ہوئی۔اس کی موت سے نومبر 2025 سے انکلیو میں منجمد ہونے والے بچوں کی تعداد چار اور اکتوبر 2023 میں نسل کشی کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے 12 ہو گئی۔•••
**نیتن یاہو اور حماس غزہ میں دوبارہ جنگ کے لیے تیاریوں میں مصروف: ذرائع
میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے میں تاخیر کے باعث ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی افواج اور حماس فلسطینی علاقے میں تباہ شدہ غزہ میں لڑائی دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ایک اسرائیلی عہدیدار اور ایک عرب سفارتکار کے مطابق اسرائیلی فوج مارچ میں غزہ میں نئی فوجی کارروائیوں کے لیے منصوبے تیار کر رہی ہے۔سفارتکار جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، نے یہ بھی بتایا کہ یہ کارروائی امریکہ کی حمایت کے بغیر آگے نہیں بڑھے گی، جو جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے نفاذ کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔










