اتر پردیش کے جونپور میں بیٹے نے جس بے دردی سے اپنے ماں باپ کا قتل کر دیا، اس نے سب کو ہلاکر رکھ دیا ’’قاتل‘‘ نے جب پولیس کو یہ ہولناک واقعہ سنایا تو سننے والے دنگ رہ گئے۔ کوئی بھی اس بات پر یقین نہیں کر سکتا تھا کہ ایک بیٹا زمین، پیسے یا دوسرے مذہب کی لڑکی سے شادی کے تنازع پر اپنے ہی پیاروں کو ایسی وحشیانہ موت دے سکتا ہے۔ "کلیگ” کے بیٹے نے بربریت کی تمام حدیں پار کر دیں۔ اس نے اپنی ماں کی لاش کو آری سے کاٹا، اپنے پتا کا رسی سے گلا گھونٹ دیا، اور پھر ثبوت مٹانے کے لیے جسم کے ٹکڑوں کو سیمنٹ کے بورون میں بھر کر گومتی اور سئی ندیوں میں پھینک دیا۔
آری سے ماں کی لاش کے ٹکڑے کئے اور باپ کا گلا گھونٹ دیا۔
جونپور کے احمد پور گاؤں میں واقعہ کی رات امبیش کا اپنے باپ شیام بہادر اور ماں ببیتا کے ساتھ پیسوں کو لے کر جھگڑا ہوا۔ امبیش نے کولکتہ میں ایک مسلم لڑکی سے شادی کی تھی، اور اس کی بیوی کفالت کا مطالبہ کر رہی تھی۔ جب اس کے والدین نے پیسے دینے سے انکار کیا تو امبیش غصے میں آکر لگاتار ان کے سر پر لوہے کی سلاخ سے وار کیا۔جب اس کے باپ نے مدد کے لیے پکارنے کی کوشش کی تو اس نے ایک بار پھر ان کے سر پر مارا اور رسی سے گلا گھونٹ دیا۔ اس کے بعد اس نے گھر کے تہہ خانے سے آری نکالی اور اپنی ماں کی لاش کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا قتل کے بعد، امبیش نے کسی بھی نشان سے بچنے کے لیے اپنے والدین کے کپڑوں سے فرش پر گرے ہوئے خون کو صاف کیا۔ اس نے دونوں لاشوں کو تین ٹکڑوں میں کاٹ کر سیمنٹ کے چھ تھیلوں میں بھر دیا۔ اس کی ماں کے جسم کا ایک حصہ تھیلے میں فٹ نہیں تھا، اس لیے اس نے اسے ایک طرف رکھ دیا۔ پھر، اس نے اپنی کار نکالی، تھیلے ٹرنک میں ڈالے، اور سات کلومیٹر دور بیلو پل پر واقع دریائے گومتی میں پھینک دیا۔ اس کے بعد اس نے وارانسی جاتے ہوئے بقیہ لاش کو دریائے سئی میں پھینک دیا۔
–جسم کے اعضاء کی تلاش جاری
امبیش نے اپنی بہن وندنا کو یہ باور کرایا کہ اس کے والدین غائب ہو گئے ہیں۔ وندنا نے 13 دسمبر کو لاپتہ شخص کی رپورٹ درج کرائی۔ جب پولیس نے 15 دسمبر کو امبیش کو گرفتار کیا تو اس نے بار بار اپنا بیان بدلا۔ اے ایس پی سٹی آیوش سریواستو کے مطابق اس نے سخت پوچھ گچھ کے بعد جرم کا اعتراف کر لیا۔ پولیس نے جائے وقوعہ کو دوبارہ معائنہ اور غوطہ خوروں کی مدد سے اس کے والد کی لاش کا ایک حصہ برآمد کر لیا۔ جسم کے دیگر حصوں کی تلاش جاری ہے۔آج تک کے ان پٹ کے ساتھ








