ملاحظات: مولانا عبدالحمید نعمانی
گرچہ سارے ہندوتو وادی ابتدائی ایام ہی سے بھٹکاؤ کی راہ پر چلتے رہے ہیں، تاہم طاقت اور اقتدار میں آنے کے بعد تو پوری طرح بھرشٹ اور بھٹکاؤ کی راہ پر گامزن ہو جاتے ہیں، آر ایس ایس کا قیام ہی فرقہ پرستی اور برہمن واد کو غالب کر کے دیگر کو ماتحت و محکوم بنا کر، خود کو حاکم و حکمراں بنائے رکھنے کے مقصد سے عمل میں آیا تھا، اس سلسلے میں سنگھ کی آئیڈیا لوجی سے متاثر کئی سارے لوگ تاویلات بے جا سے کام لے کر آر ایس ایس کی شبیہ کو چمک دار بنا کر پیش کرتے ہیں، لیکن اس کی، حالات و واقعات پوری طرح تردید و تغلیط کرتے رہے ہیں، اگر اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ سنگھ کے نشانے پر اصلا جیوتی با پھولے، ڈاکٹر امبیڈکر، پیری یار وغیرہم کی جدوجہد سے پیدا شدہ حالات میں پروان چڑھنے والا محنت کش، دلت سماج اور اقلیتوں خصوصا مسلم سماج کے اسلامی تصورات کے زیر اثر پیدا ہونے والے حالات رہے ہیں، ہندو راشٹر کا نعرہ دے کر، برہمن وادی حکومت کا قیام، ہمیشہ سے اس کا مقصد وحید رہا ہے، لیکن سو برس سے زائد وقت گزر جانے کے باوجود، سماج کے سامنے، سنگھ ہندو راشٹر اور ہندوتو کا کوئی ایسا ماڈل پیش کرنے سے قاصر ہے، جو ملک اور عالمی برادری کے لیے قابل قبول اور مثبت و تعمیری نوعیت کا ہو، یہی وجہ ہے کہ اسے ملک و بیرون ممالک میں اپنی بہتر شبیہ دکھانے کے لیے بھاری صرفے پر لابنگ کرنی پڑتی ہے، دیگر ہندوتو وادی تنظیموں اور پارٹیوں کی طرح، آر ایس ایس کی قیادت، ڈاکٹر ہیڈ گیوار سے لے کر ڈاکٹر بھاگوت تک چھے کے چھے سنگھ سرسنچالک، تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی بھی ایسا غیر فرقہ وارانہ بہتر نمونہ پیش نہیں کر سکے ہیں جو انسانی سماج کے لیے قابل توجہ بن سکے، اس کے پاس گاندھی، نہرو کی طرح کوئی بھی قابل قبول رہا نما شخصیت نہیں ہے، ساورکر ،گولولکر کو جھاڑ پونچھ کر چمکانے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن اس میں ابھی تک کوئی خاص کامیابی نہیں ملی ہے، چاہے بی جے پی ہو یا آر ایس ایس، دونوں کی ترقی، اچھے دنوں کے نعرے کے ساتھ، برے دنوں میں ہوئی ہے، آگے بڑھنے اور انتخابی کامیابی کے لیے نفرت انگیز فرقہ وارانہ جذباتی ایشوز کا شروع سے اب تک کھلے عام استعمال کیا جاتا رہا ہے، واقع میں اچھے دنوں میں دونوں کے ساتھ دیگر ہندوتو وادی عناصر کی بری حالت رہی ہے، اس کا صاف مطلب ہے کہ ان کے پاس کوئی مثبت و تعمیری بنیاد نہیں ہے، وہ مسلمانوں کی شدھی اور گھر واپسی کی صحیح بنیاد اور جواز پیش کرنے میں ابھی تک بری طرح ناکام ہیں، ہندوتو وادی برہمنی مت میں شدھی یا گھر واپسی کا سرے سے کوئی تصور نہیں ہے، اس پر بجا طور سے مفتی اعظم مولانا کفایت اللہ رح نے آزادی سے پہلے سوال اٹھایا تھا، جس کا جواب آج تک نہیں دیا جا سکا ہے، آریا سماج کے بانی سوامی دیانند اور ان کے پیروکاروں نے شدھی اور آر ایس ایس کے بانی ہیڈ گیوار اور گولولکر وغیرہ نے گھر واپسی کی نئی راہ اور بدعت ایجاد کر کے دوسرے مذاہب والوں خصوصا مسلمانوں کو ہندوتو وادی سماج کا حصہ بنانے کا آغاز کیا تھا، یہ صحیح ہے کہ بھارت کے مسلمانوں کی اکثریت ہندو اکثریتی سماج سے نکل کر اسلام کے دائرے میں آئی ہے، یہ اس پر بڑا سوال کھڑا کرتا ہے، زور زبردستی اور تلوار کے ڈر سے اسلام قبول کرنے کی تھیوری، سراسر مفروضہ اور مسلمانوں کے آبا۶واجداد کو ڈرپوک اور بزدل ثابت کرنے کی ناکام کوشش ہے، وویکا نند، گاندھی جی وغیرہ نے سچ کو تسلیم کیا ہے کہ قبول اسلام میں برہمن وادی سماج کی خامیاں اور اسلام کی خوبیاں اصل وجہ رہی ہیں، اس میں مسلم صوفیاء و تجار کا اہم رول رہا ہے، مسلم حکمرانوں نے تو زور زبردستی کیا جائز طریقے سے بھی اسلام کی طرف دعوت پر کوئی خاص توجہ نہیں دی، ہندوتو وادیوں کا یہ دعوٰی سراسر غلط ہے کہ ہم تبدیلی مذہب کے خلاف ہیں، صرف جبر و دباؤ اور لالچ سے ہندو سماج سے باہر ہوچکے افراد کی گھر واپسی کرتے ہیں، وسیم رضوی جیسے لوگوں کا ہندو سماج سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے لیکن ان کو ہندوؤں میں شامل کیا جاتا رہا ہے، جب کہ مبینہ برہمن وادی ہندو مت سرے دعوتی و تبلیغی مذہب نہیں ہے، سناتن نام کا سرے سے کوئی دھرم نہیں ہے، ہندو لفظ کے متعلق سوامی دیانند اور خود ڈاکٹر بھاگوت کا ماننا ہے کہ وہ باہر سے آیا اور دوسرے کا دیا نام ہے، وہ ایک جغرافیائی تعارف ہے، نہ کہ کسی مذہب کا کوئی نام ہے، وہ بار بار کہتے رہے ہیں ہندستان میں رہنے والے کو ہندو کہا جاتا ہے، آریا سماج والے تو عدالتوں میں اس دعوے کے ساتھ جا چکے ہیں کہ ہم ہندو نہیں ہیں، اس لحاظ سے تو ہندو و ہندوتو ،کوئی گھر نہیں رہ جاتا ہے، بس صحرا میں ایک ایسا گھر ہے جس کا کوئی درودیوار نہیں ہے، ایسی حالت میں گھر واپسی کی دعوت و ترغیب قطعی بے معنی ہے، ماضی میں ہندوتو وادی سماج سے نکل کر ایک بڑی تعداد اسلام کے دائرے میں آگئی تھی اور آج بھی بڑی تعداد میں آتے رہتے ہیں ، یا تو ان کے لیے کوئی گھر نہیں تھا یا گھروں میں باعزت، سکون سے رہنے کے لیے کوئی جگہ ہی نہیں ہے، اس کی طرف سے توجہ ہٹانے کے لیے ڈاکٹر بھاگوت اور دیگر حضرات دوسری تیسری قسم کی ادھر ادھر کی مفروضہ و متضاد باتیں کر تے ہیں کہ اغل بغل کے لوگوں کو ساتھ رکھا جائے، ڈاکٹر بھاگوت علی الاعلان کہتے رہے ہیں کہ ہمارا اور ہندستانی مسلمانوں کا ڈی این اے ایک ہے اور وہ ہندو ہیں، ہندی، ہندستانی قرار نہ دینے میں ایک بڑا راز پوشیدہ ہے، اسے سی اے اے قانون، ہندو مسلم اور مندر مسجد کے نام پر سماج کی تقسیم و تفریق اور بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست بے نقاب کر دیتی ہے، اگر مسلمان بھی ہندستان میں رہنے، وطنی نسبت اور قدیم آبا۶واجداد سے خونی رشتہ و تعلق رکھنے کے سبب سے ہندو ہی ہیں تو گھر واپسی کی بات، پوری طرح بے معنی ہو جاتی ہے، چوں کہ سنگھ اور ہندوتو وادی سماج کے پاس، فکر و عمل سے متعلق کوئی اساسی اصول و نظریہ نہیں ہے اس لیے وہ اپنے دعوے و دلیل کے درمیان تضاد و تصادم کی خامیوں و کمیوں کو سمجھنے، دیکھنے سے بری طرح قاصر ہے، اس پر سنجیدگی سے غور و فکر کر کے رائے قائم کرنے اور فیصلے سے روکنے کے لیے غیر متعلق فرقہ وارانہ مسائل کو ابھار کر سامنے لایا جاتا ہے، سماج میں جات پات کی گہری خلیج کو پاٹنے میں متضاد و متصادم افکار و روایات کی پاسداری میں تقریبا سارے کے سارے رہ نما ناکام رہے ہیں، حتی کہ وویکا نند، گاندھی جی وغیرہ بھی، عمل و کردار کو چار طبقاتی نظام کی بنیاد کی زبردست تشہیر کے باوجود، آج تک انسانی مساوات اور تکریم انسانیت کی راہ نہیں کی جا سکی ہے، جب کہ بہ قول سوامی وویکا نند اسلام مساوات کے آئیڈیل تک پہنچ چکا ہے، بر خلاف ہندو سماج کے، ڈاکٹر بھاگوت اصل بات سے واقف ہیں کہ سر، منھ، بازو، جانگھ اور پیر سے انسانوں کی پیدائش کا فلسفہ ، عمل پر مبنی چار طبقاتی نظام کی تقسیم کے دعوے کو بے معنی کر دیتا ہے، اس لیے الفاظ کی بازی گری سے ایسے سماج کا تصور پیش کرتے ہیں، جس میں عقائد و اعمال کا باقاعدہ نظام و فلسفہ رکھنے والے مسلمانوں کی بھی واپسی کا راستہ نکالنے کی ناکام کوشش کرتے نظر آتے ہیں، وہ بذات خود نرم انداز میں سلیقے سے گھر واپسی کی دعوت دیتے ہیں جب کہ پیروکار زور زبردستی اور کئی طرح کے دباؤ کے ہتھکنڈے تک اپناتے ہیں، اس سلسلے میں انسانی اقدار کو ترک کرنے کے علاوہ، تمام تر اخلاقیات و شریفانہ طریقوں کو نظرانداز کر کے ہندوتو وادی عناصر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، اس کے بارے میں ملک، بیرون ممالک میں انسانی آزادی و حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے واضح الفاظ میں ہندوتو وادی شدت پسندی اور تشدد کا برابر حوالہ دیتے رہتے ہیں، اس پیدا شدہ صورت حال کی وجہ سے مرکزی و ریاستی سرکاروں کی باتوں کو دیگر ممالک میں قابل اعتنا۶ و توجہ نہیں سمجھا جاتا ہے، اس کی واضح مثال، بنگلہ دیس وغیرہ کے فرقہ وارانہ معاملے ہیں، اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے کی وجہ سے سرکار کا موقف و کردار کمزور اور غیر موثر نظر آتا ہے، ملک کے فرقہ پرست عناصر کی تخریبی وفسادی سرگرمیوں کی مذمت اور روک تھام کے بغیر، دیگر ممالک کے حالات پر تنقید و تبصرہ غیر موثر ہوتا ہے، اس پر ڈاکٹر بھاگوت اور دیگر ہندوتو وادی نمائندوں نے کوئی خاص توجہ نہیں دی ہے، اس لیے وہ کوئی بھی موثر رول ادا کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں، یا وہ عمدا اپنے مخصوص مقاصد کے حصول کے مد نظر ملک میں مطلوبہ کردار ادا نہیں کرنا چاہتے ہیں، ایسی حالت میں مسلمانوں کی گھر واپسی اور ہندوؤں کے کم از کم تین بچے پیدا کرنے کی ترغیب، ان کے بھٹکاؤ کو ہی ظاہر کرتی ہے، اصل گھرواپسی کےمعاملے میں تمام انسانوں کے آبا۶واجداد کا سلسلہ داعی توحید حضرت آدم علیہ السلام تک پہنچتا ہے، ان کی طرف رجوع ،صحیح گھر واپسی ہے، جیسا کہ مولانا ارشد مدنی نے کچھ دنوں پہلے اس طرف توجہ مبذول کرائی تھی، اس پر بحث و گفتگو کی پہل اصلا، مسلم قیادت کو ہی کرنی پڑے گی،










