اردو
हिन्दी
فروری 23, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

ملاحظات: بھاگوت بھٹکاؤ کی راہ پر

7 گھنٹے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
Bhagwat Commentary Critical Analysis
0
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

ملاحظات: مولانا عبدالحمید نعمانی

گرچہ سارے ہندوتو وادی ابتدائی ایام ہی سے بھٹکاؤ کی راہ پر چلتے رہے ہیں، تاہم طاقت اور اقتدار میں آنے کے بعد تو پوری طرح بھرشٹ اور بھٹکاؤ کی راہ پر گامزن ہو جاتے ہیں، آر ایس ایس کا قیام ہی فرقہ پرستی اور برہمن واد کو غالب کر کے دیگر کو ماتحت و محکوم بنا کر، خود کو حاکم و حکمراں بنائے رکھنے کے مقصد سے عمل میں آیا تھا، اس سلسلے میں سنگھ کی آئیڈیا لوجی سے متاثر کئی سارے لوگ تاویلات بے جا سے کام لے کر آر ایس ایس کی شبیہ کو چمک دار بنا کر پیش کرتے ہیں، لیکن اس کی، حالات و واقعات پوری طرح تردید و تغلیط کرتے رہے ہیں، اگر اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ سنگھ کے نشانے پر اصلا جیوتی با پھولے، ڈاکٹر امبیڈکر، پیری یار وغیرہم کی جدوجہد سے پیدا شدہ حالات میں پروان چڑھنے والا محنت کش، دلت سماج اور اقلیتوں خصوصا مسلم سماج کے اسلامی تصورات کے زیر اثر پیدا ہونے والے حالات رہے ہیں، ہندو راشٹر کا نعرہ دے کر، برہمن وادی حکومت کا قیام، ہمیشہ سے اس کا مقصد وحید رہا ہے، لیکن سو برس سے زائد وقت گزر جانے کے باوجود، سماج کے سامنے، سنگھ ہندو راشٹر اور ہندوتو کا کوئی ایسا ماڈل پیش کرنے سے قاصر ہے، جو ملک اور عالمی برادری کے لیے قابل قبول اور مثبت و تعمیری نوعیت کا ہو، یہی وجہ ہے کہ اسے ملک و بیرون ممالک میں اپنی بہتر شبیہ دکھانے کے لیے بھاری صرفے پر لابنگ کرنی پڑتی ہے، دیگر ہندوتو وادی تنظیموں اور پارٹیوں کی طرح، آر ایس ایس کی قیادت، ڈاکٹر ہیڈ گیوار سے لے کر ڈاکٹر بھاگوت تک چھے کے چھے سنگھ سرسنچالک، تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی بھی ایسا غیر فرقہ وارانہ بہتر نمونہ پیش نہیں کر سکے ہیں جو انسانی سماج کے لیے قابل توجہ بن سکے، اس کے پاس گاندھی، نہرو کی طرح کوئی بھی قابل قبول رہا نما شخصیت نہیں ہے، ساورکر ،گولولکر کو جھاڑ پونچھ کر چمکانے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن اس میں ابھی تک کوئی خاص کامیابی نہیں ملی ہے، چاہے بی جے پی ہو یا آر ایس ایس، دونوں کی ترقی، اچھے دنوں کے نعرے کے ساتھ، برے دنوں میں ہوئی ہے، آگے بڑھنے اور انتخابی کامیابی کے لیے نفرت انگیز فرقہ وارانہ جذباتی ایشوز کا شروع سے اب تک کھلے عام استعمال کیا جاتا رہا ہے، واقع میں اچھے دنوں میں دونوں کے ساتھ دیگر ہندوتو وادی عناصر کی بری حالت رہی ہے، اس کا صاف مطلب ہے کہ ان کے پاس کوئی مثبت و تعمیری بنیاد نہیں ہے، وہ مسلمانوں کی شدھی اور گھر واپسی کی صحیح بنیاد اور جواز پیش کرنے میں ابھی تک بری طرح ناکام ہیں، ہندوتو وادی برہمنی مت میں شدھی یا گھر واپسی کا سرے سے کوئی تصور نہیں ہے، اس پر بجا طور سے مفتی اعظم مولانا کفایت اللہ رح نے آزادی سے پہلے سوال اٹھایا تھا، جس کا جواب آج تک نہیں دیا جا سکا ہے، آریا سماج کے بانی سوامی دیانند اور ان کے پیروکاروں نے شدھی اور آر ایس ایس کے بانی ہیڈ گیوار اور گولولکر وغیرہ نے گھر واپسی کی نئی راہ اور بدعت ایجاد کر کے دوسرے مذاہب والوں خصوصا مسلمانوں کو ہندوتو وادی سماج کا حصہ بنانے کا آغاز کیا تھا، یہ صحیح ہے کہ بھارت کے مسلمانوں کی اکثریت ہندو اکثریتی سماج سے نکل کر اسلام کے دائرے میں آئی ہے، یہ اس پر بڑا سوال کھڑا کرتا ہے، زور زبردستی اور تلوار کے ڈر سے اسلام قبول کرنے کی تھیوری، سراسر مفروضہ اور مسلمانوں کے آبا۶واجداد کو ڈرپوک اور بزدل ثابت کرنے کی ناکام کوشش ہے، وویکا نند، گاندھی جی وغیرہ نے سچ کو تسلیم کیا ہے کہ قبول اسلام میں برہمن وادی سماج کی خامیاں اور اسلام کی خوبیاں اصل وجہ رہی ہیں، اس میں مسلم صوفیاء و تجار کا اہم رول رہا ہے، مسلم حکمرانوں نے تو زور زبردستی کیا جائز طریقے سے بھی اسلام کی طرف دعوت پر کوئی خاص توجہ نہیں دی، ہندوتو وادیوں کا یہ دعوٰی سراسر غلط ہے کہ ہم تبدیلی مذہب کے خلاف ہیں، صرف جبر و دباؤ اور لالچ سے ہندو سماج سے باہر ہوچکے افراد کی گھر واپسی کرتے ہیں، وسیم رضوی جیسے لوگوں کا ہندو سماج سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ہے لیکن ان کو ہندوؤں میں شامل کیا جاتا رہا ہے، جب کہ مبینہ برہمن وادی ہندو مت سرے دعوتی و تبلیغی مذہب نہیں ہے، سناتن نام کا سرے سے کوئی دھرم نہیں ہے، ہندو لفظ کے متعلق سوامی دیانند اور خود ڈاکٹر بھاگوت کا ماننا ہے کہ وہ باہر سے آیا اور دوسرے کا دیا نام ہے، وہ ایک جغرافیائی تعارف ہے، نہ کہ کسی مذہب کا کوئی نام ہے، وہ بار بار کہتے رہے ہیں ہندستان میں رہنے والے کو ہندو کہا جاتا ہے، آریا سماج والے تو عدالتوں میں اس دعوے کے ساتھ جا چکے ہیں کہ ہم ہندو نہیں ہیں، اس لحاظ سے تو ہندو و ہندوتو ،کوئی گھر نہیں رہ جاتا ہے، بس صحرا میں ایک ایسا گھر ہے جس کا کوئی درودیوار نہیں ہے، ایسی حالت میں گھر واپسی کی دعوت و ترغیب قطعی بے معنی ہے، ماضی میں ہندوتو وادی سماج سے نکل کر ایک بڑی تعداد اسلام کے دائرے میں آگئی تھی اور آج بھی بڑی تعداد میں آتے رہتے ہیں ، یا تو ان کے لیے کوئی گھر نہیں تھا یا گھروں میں باعزت، سکون سے رہنے کے لیے کوئی جگہ ہی نہیں ہے، اس کی طرف سے توجہ ہٹانے کے لیے ڈاکٹر بھاگوت اور دیگر حضرات دوسری تیسری قسم کی ادھر ادھر کی مفروضہ و متضاد باتیں کر تے ہیں کہ اغل بغل کے لوگوں کو ساتھ رکھا جائے، ڈاکٹر بھاگوت علی الاعلان کہتے رہے ہیں کہ ہمارا اور ہندستانی مسلمانوں کا ڈی این اے ایک ہے اور وہ ہندو ہیں، ہندی، ہندستانی قرار نہ دینے میں ایک بڑا راز پوشیدہ ہے، اسے سی اے اے قانون، ہندو مسلم اور مندر مسجد کے نام پر سماج کی تقسیم و تفریق اور بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست بے نقاب کر دیتی ہے، اگر مسلمان بھی ہندستان میں رہنے، وطنی نسبت اور قدیم آبا۶واجداد سے خونی رشتہ و تعلق رکھنے کے سبب سے ہندو ہی ہیں تو گھر واپسی کی بات، پوری طرح بے معنی ہو جاتی ہے، چوں کہ سنگھ اور ہندوتو وادی سماج کے پاس، فکر و عمل سے متعلق کوئی اساسی اصول و نظریہ نہیں ہے اس لیے وہ اپنے دعوے و دلیل کے درمیان تضاد و تصادم کی خامیوں و کمیوں کو سمجھنے، دیکھنے سے بری طرح قاصر ہے، اس پر سنجیدگی سے غور و فکر کر کے رائے قائم کرنے اور فیصلے سے روکنے کے لیے غیر متعلق فرقہ وارانہ مسائل کو ابھار کر سامنے لایا جاتا ہے، سماج میں جات پات کی گہری خلیج کو پاٹنے میں متضاد و متصادم افکار و روایات کی پاسداری میں تقریبا سارے کے سارے رہ نما ناکام رہے ہیں، حتی کہ وویکا نند، گاندھی جی وغیرہ بھی، عمل و کردار کو چار طبقاتی نظام کی بنیاد کی زبردست تشہیر کے باوجود، آج تک انسانی مساوات اور تکریم انسانیت کی راہ نہیں کی جا سکی ہے، جب کہ بہ قول سوامی وویکا نند اسلام مساوات کے آئیڈیل تک پہنچ چکا ہے، بر خلاف ہندو سماج کے، ڈاکٹر بھاگوت اصل بات سے واقف ہیں کہ سر، منھ، بازو، جانگھ اور پیر سے انسانوں کی پیدائش کا فلسفہ ، عمل پر مبنی چار طبقاتی نظام کی تقسیم کے دعوے کو بے معنی کر دیتا ہے، اس لیے الفاظ کی بازی گری سے ایسے سماج کا تصور پیش کرتے ہیں، جس میں عقائد و اعمال کا باقاعدہ نظام و فلسفہ رکھنے والے مسلمانوں کی بھی واپسی کا راستہ نکالنے کی ناکام کوشش کرتے نظر آتے ہیں، وہ بذات خود نرم انداز میں سلیقے سے گھر واپسی کی دعوت دیتے ہیں جب کہ پیروکار زور زبردستی اور کئی طرح کے دباؤ کے ہتھکنڈے تک اپناتے ہیں، اس سلسلے میں انسانی اقدار کو ترک کرنے کے علاوہ، تمام تر اخلاقیات و شریفانہ طریقوں کو نظرانداز کر کے ہندوتو وادی عناصر اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، اس کے بارے میں ملک، بیرون ممالک میں انسانی آزادی و حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے واضح الفاظ میں ہندوتو وادی شدت پسندی اور تشدد کا برابر حوالہ دیتے رہتے ہیں، اس پیدا شدہ صورت حال کی وجہ سے مرکزی و ریاستی سرکاروں کی باتوں کو دیگر ممالک میں قابل اعتنا۶ و توجہ نہیں سمجھا جاتا ہے، اس کی واضح مثال، بنگلہ دیس وغیرہ کے فرقہ وارانہ معاملے ہیں، اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے کی وجہ سے سرکار کا موقف و کردار کمزور اور غیر موثر نظر آتا ہے، ملک کے فرقہ پرست عناصر کی تخریبی وفسادی سرگرمیوں کی مذمت اور روک تھام کے بغیر، دیگر ممالک کے حالات پر تنقید و تبصرہ غیر موثر ہوتا ہے، اس پر ڈاکٹر بھاگوت اور دیگر ہندوتو وادی نمائندوں نے کوئی خاص توجہ نہیں دی ہے، اس لیے وہ کوئی بھی موثر رول ادا کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں، یا وہ عمدا اپنے مخصوص مقاصد کے حصول کے مد نظر ملک میں مطلوبہ کردار ادا نہیں کرنا چاہتے ہیں، ایسی حالت میں مسلمانوں کی گھر واپسی اور ہندوؤں کے کم از کم تین بچے پیدا کرنے کی ترغیب، ان کے بھٹکاؤ کو ہی ظاہر کرتی ہے، اصل گھرواپسی کےمعاملے میں تمام انسانوں کے آبا۶واجداد کا سلسلہ داعی توحید حضرت آدم علیہ السلام تک پہنچتا ہے، ان کی طرف رجوع ،صحیح گھر واپسی ہے، جیسا کہ مولانا ارشد مدنی نے کچھ دنوں پہلے اس طرف توجہ مبذول کرائی تھی، اس پر بحث و گفتگو کی پہل اصلا، مسلم قیادت کو ہی کرنی پڑے گی،

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Emotional Politics Political Trap Analysis
مضامین

جذبات کی سیاست یا سیاسی جال: کیا ہم اپنی ہی شکست کی تحریر لکھ رہے ہیں؟

16 فروری
Power Decline Political Narrative
مضامین

اقتدار کا ڈھلتا سورج اور ٹوٹتا ہوا بیانیہ!

07 فروری
Muslims Shudra Category Campaign
مضامین

شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم،

02 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammad Deepak Statement Controversy

دیپک نے کہا مجھے خود کو "محمد دیپک” کہنے کا کوئی افسوس نہیں ہے

فروری 15, 2026
UGC Directive Sangh Programs Participation

تعلیمی ادارے سنگھ سے منسلک تنظیموں کے پروگرام میں شریک ہوں: یو جی سی کی ‘ہدایت’

فروری 15, 2026
World News Brief

عالمی خبریں: اختصار کے ساتھ

جنوری 28, 2026
Urdu Language and Unani Medicine NEP 2020

قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں اردو زبان اور یونانی طب

جنوری 28, 2026
Sexual Assault Shankaracharya Arrest Possibility

جنسی زیادتی کیس:شنکراچاریہ اویمکتیشورانند سرسوتی کی گرفتاری کسی بھی وقت ممکن ،کہا میری کوئی سی ڈی ہے تو عام کریں

Lucknow University Harmony Human Chain

ہم آہنگی کی انسانی زنجیر: ہندو طلباء نے لکھنؤ یونیورسٹی میں نماز کے دوران مسلم اسٹوڈنٹس کی حفاظت کی

Naga Students Oppose Vande Mataram Order

ناگا طلبہ تنظیم نے وندے ماترم پر مرکزی احکامات کی سخت مخالفت کی۔

Bhagwat Commentary Critical Analysis

ملاحظات: بھاگوت بھٹکاؤ کی راہ پر

Sexual Assault Shankaracharya Arrest Possibility

جنسی زیادتی کیس:شنکراچاریہ اویمکتیشورانند سرسوتی کی گرفتاری کسی بھی وقت ممکن ،کہا میری کوئی سی ڈی ہے تو عام کریں

فروری 23, 2026
Lucknow University Harmony Human Chain

ہم آہنگی کی انسانی زنجیر: ہندو طلباء نے لکھنؤ یونیورسٹی میں نماز کے دوران مسلم اسٹوڈنٹس کی حفاظت کی

فروری 23, 2026
Naga Students Oppose Vande Mataram Order

ناگا طلبہ تنظیم نے وندے ماترم پر مرکزی احکامات کی سخت مخالفت کی۔

فروری 23, 2026
Bhagwat Commentary Critical Analysis

ملاحظات: بھاگوت بھٹکاؤ کی راہ پر

فروری 23, 2026

حالیہ خبریں

Sexual Assault Shankaracharya Arrest Possibility

جنسی زیادتی کیس:شنکراچاریہ اویمکتیشورانند سرسوتی کی گرفتاری کسی بھی وقت ممکن ،کہا میری کوئی سی ڈی ہے تو عام کریں

فروری 23, 2026
Lucknow University Harmony Human Chain

ہم آہنگی کی انسانی زنجیر: ہندو طلباء نے لکھنؤ یونیورسٹی میں نماز کے دوران مسلم اسٹوڈنٹس کی حفاظت کی

فروری 23, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN