راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے لیڈر اور بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے بدھ کو دو بڑے الزامات لگائے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) بہار میں اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی لیڈروں اور کارکنوں کو دو الیکٹرس فوٹو شناختی کارڈ (ای پی آئی سی) نمبر جاری کر رہا ہے۔ اسے ‘ووٹ چوری’ کا معاملہ قرار دیتے ہوئے تیجسوی نے الیکشن کمیشن پر بی جے پی کے ساتھ ملی بھگت کا الزام لگایا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ بہار میں گجراتی ووٹروں کے نام پائے گئے
**ووٹ چوری: الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات
پٹنہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہا کہ بہار میں ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر ہیرا پھیری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران دیگر ریاستوں جیسے گجرات کے لوگوں کے نام بہار کی ووٹر لسٹ میں شامل کیے جا رہے ہیں۔ ایک مثال دیتے ہوئے تیجاشوی نے کہا، "بی جے پی کے بہار انچارج بھیکھو بھائی دلسانیا، جنہوں نے 2024 میں گجرات میں ووٹ دیا تھا، اب پٹنہ کے ووٹر بن گئے ہیں۔ ان کا نام گجرات کی فہرست سے نکال دیا گیا تھا، لیکن غور طلب ہے کہ پانچ سال بھی نہیں گزرے اور وہ بہار میں ووٹر بن گئے۔”
انہوں نے مزید کہا، "جب بہار کے انتخابات ختم ہوں گے تو یہ لوگ کہاں جائیں گے؟ یہ ایک سازش ہے، جسے سب کو سمجھنا ہوگا۔ بی جے پی الیکشن کمیشن کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر بے ایمانی کر رہی ہے۔تیجسوی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 2020 کے بہار اسمبلی انتخابات میں بھی ‘ووٹ چوری’ ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا، "2020 میں بھی الیکشن کمیشن نے ووٹ چوری کیے، ہم نے 12000 ووٹوں کے فرق سے 10 سیٹیں گنوائیں، چندی گڑھ کے میئر الیکشن میں بی جے پی سی سی ٹی وی کے باوجود پکڑی گئی، پھر بھی کمیشن نے سی سی ٹی وی ہٹا دیے”۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پہلے بی جے پی نے اپوزیشن کے خلاف سی بی آئی، ای ڈی اور محکمہ انکم ٹیکس جیسی ایجنسیوں کا استعمال کیا، لیکن جب یہ طریقے کم کارگر ثابت ہوئے تو الیکشن کمیشن کو آگے لایا گیا۔
ووٹ چوری پر بی جے پی کا ردعمل:بی جے پی نے تیجسوی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی ڈرامہ قرار دیا۔ نائب وزیر اعلیٰ وجے کمار سنہا نے کہا کہ وہ صرف ایک جگہ سے ووٹ دیتے ہیں۔ سنہا نے واضح کیا کہ انہوں نے اپریل 2024 میں اپنی ووٹر لسٹ لکھیسرائے منتقل کرنے کے لیے درخواست دی تھی اور پٹنہ لسٹ سے اپنا نام ہٹانے کی درخواست کی تھی، لیکن تکنیکی وجوہات کی بنا پر ان کا نام نہیں ہٹایا گیا تھا۔”








