امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر بھارت پر ٹیرف بم گرانے کا اعلان کیا ہے۔ بدھ کی شام، ٹرمپ نے ہندوستان پر اضافی 25 فیصد ٹیرف لگانے کے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے۔ امریکہ نے کہا کہ یہ فیصلہ ہندوستان کی طرف سے روسی تیل کی مسلسل خریداری کے جواب میں کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ نے ہندوستان پر کل 50 فیصد ٹیرف لگانے کا اعلان کیا ہے۔
درحقیقت اس سے قبل امریکہ نے ہندوستان پر 25 فیصد ٹیرف اور جرمانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کی وجہ ٹرمپ نے روس سے تیل خریدنا بتایا۔
ٹرمپ کے دستخط کردہ حکم نامے کے مطابق یہ ٹیرف 21 دن کے اندر نافذ ہو جائے گا، یعنی یہ 27 اگست 2025 سے بھارت سے امریکہ بھیجے جانے والے سامان پر لاگو ہو گا۔ تاہم، وہ سامان جو اس تاریخ سے پہلے روانہ ہو کر 17 ستمبر 2025 سے پہلے امریکہ پہنچ گئے ہیں، اس ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوں گے۔ حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ ٹیرف دیگر تمام ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کے علاوہ ہوگا اور بعض صورتوں میں چھوٹ بھی دی جاسکتی ہے
اس حکم کی بنیاد سال 2022 میں اعلان کردہ قومی ایمرجنسی ہے، جس میں یوکرین پر روس کی فوجی کارروائی کے پیش نظر امریکا نے روسی تیل کی درآمد پر پابندی لگا دی تھی۔ اب صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ بھارت اس پابندی کو نظرانداز کرتے ہوئے روس سے تیل خریدنا جاری رکھے ہوئے ہے جس سے روس کو معاشی فائدہ پہنچ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ٹیرف بھارت پر عائد کیا گیا ہے۔
نئے حکم نامے کے مطابق یہ اضافی ڈیوٹی 21 دن بعد یعنی 27 اگست 2025 سے نافذ العمل ہوگی۔ اس کا مطلب ہے کہ بھارت سے امریکہ بھیجی جانے والی اشیا جو 27 اگست سے درآمد کی جائیں گی ان پر 25 فیصد اضافی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ تاہم وہ سامان جو اس تاریخ سے پہلے جہاز پر لاد چکے ہوں گے اور جو 17 ستمبر 2025 سے پہلے امریکہ پہنچ جائیں گے وہ اس ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوں گے۔







