تجزیہ :(مولانا) محمد اسعد فلاحی
حالیہ عرصے میں مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان’’کیا خدا موجود ہے؟‘‘ کے موضوع پر ایک مناظرہ منعقد ہوا، جس نے علمی اور سماجی حلقوں میں قابلِ توجہ مباحث کو جنم دیا۔ یہ مناظرہ ایک فکری و نظریاتی گفتگو کے طور پر پیش کیا گیا، جس میں مذہب اور الحاد کے حوالے سے دو مختلف زاویۂ نظر سامنے آئے، اور جس نے سوشل میڈیا کے ذریعے وسیع پیمانے پر عوامی بحث کو جنم دیا۔ بظاہر یہ اقدام ایک فکری و فلسفیانہ سرگرمی کے طور پر پیش کیا گیا، تاہم ہندوستانی سماج کی مذہبی ساخت، اجتماعی ذہنیت اور موجودہ سیاسی و سماجی تناظر کو سامنے رکھا جائے تو اس قسم کے مناظروں کی علمی معنویت، سماجی افادیت اور دعوتی نتائج پر ازسرِنو اور سنجیدہ تحقیقی غور و فکر کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
اسلامی فکری روایت میں مناظرہ اور مذاکرہ دونوں معروف اسالیب ہیں، مگر ان کی نوعیت اور مقاصد یکساں نہیں۔ مناظرہ عموماً ایک جدلی عمل ہوتا ہے، جس میں فریقین کا ہدف اپنی بات کو غالب ثابت کرنا اور مخالف کو مغلوب کرنا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں علمی نکتہ آفرینی کے بجائے اکثر جذباتی یا خطیبانہ فضا پیدا ہو جاتی ہے۔
اس کے برعکس مذاکرہ ایک مکالماتی اور تحقیقی طریقہ ہے، جس میں فریقین ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھنے، سوالات اٹھانے اور علمی دلائل کے تبادلے کے ذریعے حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دعوتِ دین اور فکری مکالمے کے لیے مذاکرہ ایک زیادہ مناسب، سنجیدہ اور دیرپا نتائج دینے والا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
وجودِ خدا کا مسئلہ اپنی اصل میں ایک فلسفیانہ و ما بعد الطبیعیاتی سوال ہے، تاہم اس کی سماجی معنویت ہر معاشرے میں یکساں نہیں ہوتی۔ ہندوستانی سماج مجموعی طور پر خدا کے وجود کے بارے میں تشکیک یا انکار کے بحران سے دوچار نہیں ہے۔ یہاں مذہب، روحانیت اور تقدس مختلف صورتوں میں سماجی شعور کا حصہ ہیں۔
اسی لیے وجودِ خدا پر مناظرہ ان معاشروں میں زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے جہاں الحاد ایک مضبوط فکری تحریک کی صورت اختیار کر چکا ہو، جیسے یورپ یا امریکہ۔ ہندوستانی تناظر میں اگر فکری مکالمے کی ضرورت تھی تو وہ توحید و شرک، خدا پرستی و بت پرستی، یا مذہب و اخلاق جیسے موضوعات پر زیادہ بامعنی اور سماجی طور پر مؤثر ثابت ہو سکتے تھے۔
موجودہ ہندوستان ایک ایسے سیاسی دور سے گزر رہا ہے جہاں ’’ہندتوا‘‘ کے نام سے ایک مخصوص نظریہ ریاستی قوت اور سیاسی بالادستی حاصل کر چکا ہے۔ اس نظریے کے نتیجے میں مسلمان اور دیگر اقلیتی طبقات مختلف نوعیت کے سماجی، قانونی اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان حالات میں ملک کے لبرل، لیفٹسٹ اور حتیٰ کہ ملحد حلقے بھی اکثر انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے نام پر مظلوم طبقات کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے حساس ماحول میں وجودِ خدا پر یہ مناظرہ دعوتی پیش رفت کے بجائے مسلمانوں اور ان فکری حلقوں کے درمیان فاصلے بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس سے مکالمے کی فضا قائم ہونے کے بجائے ایک نئی فکری خلیج پیدا ہو سکتی ہے، جو موجودہ حالات میں سماجی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہے۔
ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور کثیر تہذیبی معاشرے میں علماء کرام کی بنیادی ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ وہ مسلم معاشرے میں دعوتی شعور کو بیدار کریں، داعیانہ اخلاق، تحمل اور حکمت کو فروغ دیں اور غیر مسلم سماج کے ساتھ مثبت، بامعنی اور دیرپا روابط قائم کریں۔
اس نوعیت کے مناظرے وقتی طور پر مسلمانوں میں فکری برتری یا جذباتی تسکین تو پیدا کر سکتے ہیں، مگر یہ دعوت کے اصل مقاصد—یعنی مخاطب کے دل و ذہن تک رسائی—کو پورا نہیں کرتے۔ بلکہ بعض صورتوں میں یہ داعیانہ مزاج کے بجائے محاذ آرائی کو فروغ دیتے ہیں۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ایسے مناظروں سے منتظمین اور شرکاء کو ذاتی یا ادارہ جاتی سطح پر فائدہ پہنچ سکتا ہے، مثلاً شہرت، مقبولیت یا میڈیا کی توجہ۔ تاہم سماج کو مجموعی طور پر فائدہ پہنچنے کے امکانات محدود ہوتے ہیں، خصوصاً جب موضوع اور اسلوب سماجی ضرورت سے ہم آہنگ نہ ہوں۔ علمی اور دعوتی سرگرمیوں کا اصل معیار یہ ہونا چاہیے کہ وہ سماج میں فکری بالیدگی، اخلاقی اصلاح اور انسانی ربط کو فروغ دیں، نہ کہ محض وقتی سنسنی یا نظریاتی تصادم کو۔
اگر ہندوستان میں فکری مناظرے یا مکالمے منعقد کیے جائیں تو ان کا مرکز وہ موضوعات ہونے چاہییں جو سماج کے اخلاقی اور فکری بحران سے براہِ راست متعلق ہوں، مثلاً:حیا اور پاک دامنی بمقابلہ عریانیت، بت پرستی اور خدا پرستی، نفس پرستی اور مادہ پرستی، ہندتوا اور اسلامی تصورِ انسان، آواگمن بمقابلہ آخرت، غربت، عدم مساوات اور ان کے اسباب اور اخلاقی زوال اور سماجی انصاف وغیرہ ۔ یہ موضوعات نہ صرف فکری طور پر زیادہ بامعنی ہیں بلکہ سماج کی عملی اصلاح میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی، تہذیبی اور سیاسی طور پر حساس معاشرے میں وجودِ خدا جیسے بنیادی فلسفیانہ سوال پر مناظرہ نہ تو سماجی ضرورت سے پوری طرح ہم آہنگ ہے اور نہ ہی دعوتی حکمت کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ اس کے برعکس، علمی و دعوتی ذمہ داری کا تقاضا یہ ہے کہ فکری سرگرمیوں میں موضوع کے انتخاب، اسلوبِ گفتگو اور سماجی سیاق کو ملحوظ رکھا جائے، اور مناظرے کے بجائے مکالمہ، حکمت اور داعیانہ اخلاق کو ترجیح دی جائے۔ اگر فکری مباحث ناگزیر ہوں تو انہیں ان اخلاقی، سماجی اور تہذیبی مسائل تک محدود رکھا جائے جو ہندوستانی سماج کو عملاً درپیش ہیں، تاکہ دین کا پیغام محض نظری غلبے کے اظہار کے بجائے فکری بالیدگی، اخلاقی اصلاح اور سماجی انصاف کے فروغ کا ذریعہ بن سکے۔










