اردو
हिन्दी
فروری 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

وجودِ خدا پر حالیہ مناظرہ کیا ضروری تھا: قابل غور پہلو

2 مہینے پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
God Existence Debate Analysis
1
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تجزیہ :(مولانا) محمد اسد فلاحی
حالیہ عرصے میں مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کے درمیان’’کیا خدا موجود ہے؟‘‘ کے موضوع پر ایک مناظرہ منعقد ہوا، جس نے علمی اور سماجی حلقوں میں قابلِ توجہ مباحث کو جنم دیا۔ یہ مناظرہ ایک فکری و نظریاتی گفتگو کے طور پر پیش کیا گیا، جس میں مذہب اور الحاد کے حوالے سے دو مختلف زاویۂ نظر سامنے آئے، اور جس نے سوشل میڈیا کے ذریعے وسیع پیمانے پر عوامی بحث کو جنم دیا۔ بظاہر یہ اقدام ایک فکری و فلسفیانہ سرگرمی کے طور پر پیش کیا گیا، تاہم ہندوستانی سماج کی مذہبی ساخت، اجتماعی ذہنیت اور موجودہ سیاسی و سماجی تناظر کو سامنے رکھا جائے تو اس قسم کے مناظروں کی علمی معنویت، سماجی افادیت اور دعوتی نتائج پر ازسرِنو اور سنجیدہ تحقیقی غور و فکر کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
اسلامی فکری روایت میں مناظرہ اور مذاکرہ دونوں معروف اسالیب ہیں، مگر ان کی نوعیت اور مقاصد یکساں نہیں۔ مناظرہ عموماً ایک جدلی عمل ہوتا ہے، جس میں فریقین کا ہدف اپنی بات کو غالب ثابت کرنا اور مخالف کو مغلوب کرنا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں علمی نکتہ آفرینی کے بجائے اکثر جذباتی یا خطیبانہ فضا پیدا ہو جاتی ہے۔
اس کے برعکس مذاکرہ ایک مکالماتی اور تحقیقی طریقہ ہے، جس میں فریقین ایک دوسرے کے مؤقف کو سمجھنے، سوالات اٹھانے اور علمی دلائل کے تبادلے کے ذریعے حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دعوتِ دین اور فکری مکالمے کے لیے مذاکرہ ایک زیادہ مناسب، سنجیدہ اور دیرپا نتائج دینے والا طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
وجودِ خدا کا مسئلہ اپنی اصل میں ایک فلسفیانہ و ما بعد الطبیعیاتی سوال ہے، تاہم اس کی سماجی معنویت ہر معاشرے میں یکساں نہیں ہوتی۔ ہندوستانی سماج مجموعی طور پر خدا کے وجود کے بارے میں تشکیک یا انکار کے بحران سے دوچار نہیں ہے۔ یہاں مذہب، روحانیت اور تقدس مختلف صورتوں میں سماجی شعور کا حصہ ہیں۔
اسی لیے وجودِ خدا پر مناظرہ ان معاشروں میں زیادہ موزوں معلوم ہوتا ہے جہاں الحاد ایک مضبوط فکری تحریک کی صورت اختیار کر چکا ہو، جیسے یورپ یا امریکہ۔ ہندوستانی تناظر میں اگر فکری مکالمے کی ضرورت تھی تو وہ توحید و شرک، خدا پرستی و بت پرستی، یا مذہب و اخلاق جیسے موضوعات پر زیادہ بامعنی اور سماجی طور پر مؤثر ثابت ہو سکتے تھے۔
موجودہ ہندوستان ایک ایسے سیاسی دور سے گزر رہا ہے جہاں ’’ہندتوا‘‘ کے نام سے ایک مخصوص نظریہ ریاستی قوت اور سیاسی بالادستی حاصل کر چکا ہے۔ اس نظریے کے نتیجے میں مسلمان اور دیگر اقلیتی طبقات مختلف نوعیت کے سماجی، قانونی اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان حالات میں ملک کے لبرل، لیفٹسٹ اور حتیٰ کہ ملحد حلقے بھی اکثر انسانی حقوق اور جمہوری اقدار کے نام پر مظلوم طبقات کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے حساس ماحول میں وجودِ خدا پر یہ مناظرہ دعوتی پیش رفت کے بجائے مسلمانوں اور ان فکری حلقوں کے درمیان فاصلے بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس سے مکالمے کی فضا قائم ہونے کے بجائے ایک نئی فکری خلیج پیدا ہو سکتی ہے، جو موجودہ حالات میں سماجی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ہے۔
ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور کثیر تہذیبی معاشرے میں علماء کرام کی بنیادی ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ وہ مسلم معاشرے میں دعوتی شعور کو بیدار کریں، داعیانہ اخلاق، تحمل اور حکمت کو فروغ دیں اور غیر مسلم سماج کے ساتھ مثبت، بامعنی اور دیرپا روابط قائم کریں۔
اس نوعیت کے مناظرے وقتی طور پر مسلمانوں میں فکری برتری یا جذباتی تسکین تو پیدا کر سکتے ہیں، مگر یہ دعوت کے اصل مقاصد—یعنی مخاطب کے دل و ذہن تک رسائی—کو پورا نہیں کرتے۔ بلکہ بعض صورتوں میں یہ داعیانہ مزاج کے بجائے محاذ آرائی کو فروغ دیتے ہیں۔
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ایسے مناظروں سے منتظمین اور شرکاء کو ذاتی یا ادارہ جاتی سطح پر فائدہ پہنچ سکتا ہے، مثلاً شہرت، مقبولیت یا میڈیا کی توجہ۔ تاہم سماج کو مجموعی طور پر فائدہ پہنچنے کے امکانات محدود ہوتے ہیں، خصوصاً جب موضوع اور اسلوب سماجی ضرورت سے ہم آہنگ نہ ہوں۔ علمی اور دعوتی سرگرمیوں کا اصل معیار یہ ہونا چاہیے کہ وہ سماج میں فکری بالیدگی، اخلاقی اصلاح اور انسانی ربط کو فروغ دیں، نہ کہ محض وقتی سنسنی یا نظریاتی تصادم کو۔
اگر ہندوستان میں فکری مناظرے یا مکالمے منعقد کیے جائیں تو ان کا مرکز وہ موضوعات ہونے چاہییں جو سماج کے اخلاقی اور فکری بحران سے براہِ راست متعلق ہوں، مثلاً:حیا اور پاک دامنی بمقابلہ عریانیت، بت پرستی اور خدا پرستی، نفس پرستی اور مادہ پرستی، ہندتوا اور اسلامی تصورِ انسان، آواگمن بمقابلہ آخرت، غربت، عدم مساوات اور ان کے اسباب اور اخلاقی زوال اور سماجی انصاف وغیرہ ۔ یہ موضوعات نہ صرف فکری طور پر زیادہ بامعنی ہیں بلکہ سماج کی عملی اصلاح میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی، تہذیبی اور سیاسی طور پر حساس معاشرے میں وجودِ خدا جیسے بنیادی فلسفیانہ سوال پر مناظرہ نہ تو سماجی ضرورت سے پوری طرح ہم آہنگ ہے اور نہ ہی دعوتی حکمت کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ اس کے برعکس، علمی و دعوتی ذمہ داری کا تقاضا یہ ہے کہ فکری سرگرمیوں میں موضوع کے انتخاب، اسلوبِ گفتگو اور سماجی سیاق کو ملحوظ رکھا جائے، اور مناظرے کے بجائے مکالمہ، حکمت اور داعیانہ اخلاق کو ترجیح دی جائے۔ اگر فکری مباحث ناگزیر ہوں تو انہیں ان اخلاقی، سماجی اور تہذیبی مسائل تک محدود رکھا جائے جو ہندوستانی سماج کو عملاً درپیش ہیں، تاکہ دین کا پیغام محض نظری غلبے کے اظہار کے بجائے فکری بالیدگی، اخلاقی اصلاح اور سماجی انصاف کے فروغ کا ذریعہ بن سکے۔

ٹیگ: debateExistence of GodIntellectual DiscourseOpinion AnalysisPhilosophyReligion and Societyدین و فلسفہسماجی اثراتفکری بحثمناظرہوجود خدا

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Emotional Politics Political Trap Analysis
مضامین

جذبات کی سیاست یا سیاسی جال: کیا ہم اپنی ہی شکست کی تحریر لکھ رہے ہیں؟

16 فروری
Power Decline Political Narrative
مضامین

اقتدار کا ڈھلتا سورج اور ٹوٹتا ہوا بیانیہ!

07 فروری
Muslims Shudra Category Campaign
مضامین

شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم،

02 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Mohammad Deepak Statement Controversy

دیپک نے کہا مجھے خود کو "محمد دیپک” کہنے کا کوئی افسوس نہیں ہے

فروری 15, 2026
UGC Directive Sangh Programs Participation

تعلیمی ادارے سنگھ سے منسلک تنظیموں کے پروگرام میں شریک ہوں: یو جی سی کی ‘ہدایت’

فروری 15, 2026
World News Brief

عالمی خبریں: اختصار کے ساتھ

جنوری 28, 2026
Urdu Language and Unani Medicine NEP 2020

قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں اردو زبان اور یونانی طب

جنوری 28, 2026
Ramadan Perception Reality Analysis

رمضان: تصور اور حقیقت کے درمیان

Gujarat Marriage Law Sanatan Statement

نشانے پر مسلمان؟ گجرات: ‘سناتن دھرم کی رکشا کے لیے شادی کے قوانین میں تبدیلی کی جائے گی،

Trump 200% Tariff India Pakistan Claim

ٹرمپ کا نیا شگوفہ: دوسو فیصد ٹیرف کی دھمکی دی اور ہند پاک جنگ رکوادی

Bangladesh Tension BNP India Allegation

بنگلہ دیش میں پھر ٹکراؤ کے اثار؟:”طلباء لیڈر نے کہا بی این پی نے چناؤ جیتنے کے لیے بھارت سے سانٹھ گانٹھ کی”

Ramadan Perception Reality Analysis

رمضان: تصور اور حقیقت کے درمیان

فروری 21, 2026
Gujarat Marriage Law Sanatan Statement

نشانے پر مسلمان؟ گجرات: ‘سناتن دھرم کی رکشا کے لیے شادی کے قوانین میں تبدیلی کی جائے گی،

فروری 21, 2026
Trump 200% Tariff India Pakistan Claim

ٹرمپ کا نیا شگوفہ: دوسو فیصد ٹیرف کی دھمکی دی اور ہند پاک جنگ رکوادی

فروری 20, 2026
Bangladesh Tension BNP India Allegation

بنگلہ دیش میں پھر ٹکراؤ کے اثار؟:”طلباء لیڈر نے کہا بی این پی نے چناؤ جیتنے کے لیے بھارت سے سانٹھ گانٹھ کی”

فروری 20, 2026

حالیہ خبریں

Ramadan Perception Reality Analysis

رمضان: تصور اور حقیقت کے درمیان

فروری 21, 2026
Gujarat Marriage Law Sanatan Statement

نشانے پر مسلمان؟ گجرات: ‘سناتن دھرم کی رکشا کے لیے شادی کے قوانین میں تبدیلی کی جائے گی،

فروری 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN