نئی دہلی۔ ملک کی راجدھانی دہلی سے بڑی خبر آئی ہے۔ سال 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے معاملے میں آنے والے دنوں میں کابینہ کے وزیر کپل مشرا کی مشکلات میں اضافہ ہونے والا ہے۔ ٹرائل کورٹ نے دہلی کابینہ کی ریکھاگپتا کابینہ کے سینئر وزیر کو راحت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ نچلی عدالت نے دہلی فسادات کیس میں کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے دہلی پولیس کے دلائل کو مسترد کرتے ہوئے یہ حکم دیا ہ۔ ٹرائل کورٹ میں دائر درخواست میں کپل مشرا پر سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔
اس فیصلہ سے کپل مشرا کی مشکلات یقیناً بڑھ گئی ہیں۔ راؤز ایونیو کورٹ نے دہلی پولیس کو فروری 2020 کے دہلی فسادات کے سلسلے میں دہلی کے وزیر کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور مزید تحقیقات کرنے کی ہدایت دے کر بی جے پی کی دہلی سرکار کو بھی پریشانی میں ڈال دیا ہے ۔ دراصل، راؤز ایونیو کورٹ نے یہ حکم دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے میں کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کرنے والی عرضی پر دیا ہے۔ واضح رہے کہ محمد الیاس نے عدالت میں عرضی داخل کی جس میں دہلی فسادات میں کپل مشرا اور دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ تاہم دہلی پولیس نے کپل مشرا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کی مخالفت کی تھی۔ دہلی پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ کپل مشرا کو پھنسانے کی سازش رچی جارہی ہے۔ اگست 2024 میں دائر کی گئی اس درخواست میں محمد الیاس نے دعویٰ کیا ہے کہ 23 فروری 2020 کو انہوں نے کپل مشرا اور ان کے ساتھیوں کو کردم پوری میں سڑک بلاک کرتے دیکھا۔ اس دوران انہوں نے سڑکوں پر دکانداروں کی گاڑیوں کو بھی توڑ پھوڑ کرتے دیکھا۔ اس وقت کے شمال مشرقی ڈپٹی پولیس کمشنر اور دہلی پولیس کے دیگر افسران موقع پر کپل مشرا کے ساتھ کھڑے تھے۔ اب تک کی تحقیقات کے مطابق کپل مشرا نے مظاہرین کو دھمکی دی تھی کہ وہ جگہ خالی کر دیں ورنہ نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔