اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ منگل کے فضائی حملے جس میں غزہ میں سینکڑوں فلسطینیوں کی ہلاکتیں "صرف آغاز” ہیں اور اسرائیل اس وقت تک آگے بڑھے گا جب تک کہ وہ اپنے تمام جنگی اہداف کو حاصل نہیں کر لیتا – حماس کو تباہ کرنا اور گروپ کے زیر حراست تمام قیدیوں کو آزاد کرنا۔
غزہ میں دو ماہ کی نازک جنگ بندی کو ختم کرنے والے اسرائیل کے نئے حملوں میں کم از کم 404 افراد ہلاک ہو گئے ہیں، جن میں کئی بچے بھی شامل ہیں۔ وزارت صحت کے مطابق متاثرین کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ بہت سے متاثرین ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔اسرائیل نے غزہ میں کشیدگی روکنے کے ثالث ممالک کے مسترد کرنے کے ساتھ ساتھ پوری طاقت کے ساتھ غزہ میں حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیل نے غزہ میں کشیدگی روکنے کے ثالث ممالک کے مسترد کرنے کے ساتھ ساتھ پوری طاقت کے ساتھ غزہ میں حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
•••حماس اور اسلامی جہاد کے اہداف پر حملہ
اسرائیلی فوج نے منگل کو ایک بیان میں اعلان کیا کہ وہ اور داخلی سلامتی کے ادارے ’شین بیت‘ غزہ کی پٹی میں حماس اور اسلامی جہاد کے اہداف کے خلاف حملے جاری رکھیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ گھنٹوں میں جن اہداف کو نشانہ بنایا گیا ان میں سیلز، لانچنگ پوائنٹس، جنگی سازوسامان اور دیگر فوجی ڈھانچے شامل ہیں جو ان کے دعوے کے مطابق، منصوبہ بندی اور عسکری سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے دونوں تحریکوں کے ذریعے استعمال کیے گئے تھے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ اہداف اسرائیلی افواج اور شہریوں کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ انہوں نے غزہ کی پٹی میں دی گئی ہدایات میں تبدیلیاں کی ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے بھی اعلان کیا کہ اسرائیل حماس کے خلاف فوجی طاقت میں اضافے کے ساتھ کارروائی کرے گا۔ دفتر نے کہا کہ فوج کو مکمل طاقت کے ساتھ مقررہ اہداف پر حملہ کرنے کی ہدایات ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے غزہ میں پیش رفت پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے وزیر دفاع اور سکیورٹی سربراہان کی موجودگی میں سکیورٹی مشاورت کے لیے اجلاس طلب کیاہے۔
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے تباہ شدہ غزہ کی پٹی میں درجنوں اہداف پر بمباری کی ہے۔ بیان میں کہا کہ جب تک ضروری ہوا حملے جاری رہیں گے ۔(الجزیرہ کے ان پٹ کے ساتھ )