اسرائیلی جنگی طیاروں نے غزہ کے مختلف علاقوں پر شدید فضائی حملے کیے، خاص طور پر شمالی غزہ میں جبالیہ کے مشرقی حصے کو نشانہ بنایا گیا۔ اس دوران غزہ کے مشرق میں الزیتون، درج اور التفاح کے محلے مسلسل فضائی اور توپ خانے کی گولہ باری سے لرز اٹھے۔اسرائیلی فوج نے منگل کو وسطی غزہ میں دیرالبلح پر سلسلہ وار حملے کیے، جبکہ جنوبی غزہ میں خان یونس پر بھی فضائی حملے کیے گئے، جن سے شہریوں کے مکانات اور املاک کو وسیع نقصان پہنچا۔
اسی دوران اسرائیلی فوج نے وسطی غزہ میں نیٹزاریم کے علاقے میں امدادی مراکز کے قریب لوگوں کو نشانہ بنایا، جہاں شدید انسانی بحران جاری ہے۔فلسطینی پناہ گزینوں کی بہبود اور بحالی کے لیے اقوام متحدہ کی ریلیف ایجنسی "اُنروا” نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ اور قحط کے سبب روزانہ اوسطا 28 بچے ہلاک ہو رہے ہیں اور بچے اس جنگ کے سب سے زیادہ متاثرہ گروپ ہیں۔غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی حملے جاری ہیں، جہاں سول ڈیفنس کے مطابق منگل کو 45 فلسطینی ہلاک ہوئے۔
سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ ان میں سے 11 افراد فوج کی فائرنگ سے امدادی مراکز کے قریب مارے گئے۔بصل نے الزیتون اور الصبرہ محلے کے حالات کو "انتہائی خطرناک اور ناقابل برداشت” قرار دیا اور کہا کہ سول ڈیفنس کے اہلکار متعدد زخمیوں اور ہلاک شدگان تک رسائی نہیں پا رہے ہیں، کیونکہ فوجی کارروائیاں اور اسرائیلی حملے جاری ہیں۔اسرائیلی فوج نے جمعہ کو کہا تھاکہ اس کی زمینی افواج نے غزہ شہرکے مضافات میں الزیتون کے علاقے میں کارروائیاں شروع کر دی ہیںاس جنگ کے آغاز کے بعد سے اسرائیلی فوج کی کارروائیوں میں کم از کم 62064 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں، یہ اعداد و شمار حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق ہیں اور اقوام متحدہ نے انہیں معتبر قرار دیا ہے۔








