گردوپیش:قمر کرانتی
سیاست میں اکثر جو دکھائی دیتا ہے، وہ ہوتا نہیں؛ اور جو ہوتا ہے، وہ آسانی سے سمجھ نہیں آتا۔ حالیہ انتخابی نتائج نے اس سچ کو ایک بار پھر سب کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ پہلے بہار اسمبلی انتخابات 2025 کے نتائج، جہاں سیمانچل کی زمین پر اویسی کی پارٹی (AIMIM) نے اپنی دھمک برقرار رکھی، اور اب مہاراشٹر کے بلدیاتی (MCD) انتخابات میں پارٹی کا اچانک ابھرنا—یہ دونوں ہی واقعات ایک بڑی سیاسی پہیلی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
بلاشبہ، پتنگ کی یہ اونچی اڑان AIMIM کے کارکنوں اور حامیوں کو مسکرانے کا موقع دے رہی ہے۔ مہاراشٹر کے کئی کارپوریشنوں میں، جہاں کل تک بڑی پارٹیوں کا دبدبہ تھا، آج اویسی کی ’مجلس‘ کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ لیکن کیا یہ مسکراہٹ واقعی اس طبقے کی کامیابی کا پیغام ہے، جس کے نام پر یہ پوری بساط بچھائی گئی ہے؟
جب ہم انتخابی اعداد و شمار کی گہرائی میں اترتے ہیں، تو ایک الگ ہی تصویر ابھرتی ہے۔ بہار سے لے کر مہاراشٹر تک، جہاں جہاں AIMIM نے اپنی طاقت دکھائی، وہاں ووٹوں کی ایسی پولرائزیشن (Polarization) ہوئی جس نے آخر کار بی جے پی کی راہ کو آسان بنا دیا۔ مذہب اور جذبات کی اس سیاست نے ایک طرف تو اقلیتی ووٹوں کو بکھیر دیا اور دوسری طرف اکثریتی ووٹوں کو متحد ہونے کا موقع دے دیا۔
ایسے میں سوال یہ نہیں ہے کہ AIMIM نے کتنی سیٹیں جیتیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ ان سیٹوں کی قیمت پر اصلی اقتدار کس کے ہاتھ لگا؟ کیا ہم ’حق کی لڑائی‘ کے نام پر جانے انجانے میں اپنی ہی سیاسی ہار کی کہانی لکھ رہے ہیں؟ اس مضمون میں ہم بہار اور مہاراشٹر کے نتائج کے انہی ان دیکھے پہلوؤں پر غور کریں گے، جو یہ بتاتے ہیں کہ ’جذبات کی اس جیت‘ کے پیچھے اصلی کامیابی کس کی چھپی ہے۔

1. بہار 2025: اعداد و شمار کا ’سیاہ باب‘
اعداد و شمار کبھی جھوٹ نہیں بولتے، وہ صرف سچ کا آئینہ دکھاتے ہیں۔ بہار کی آبادی میں مسلمانوں کا حصہ تقریباًت 17.7 فیصد ہے، لیکن اسمبلی میں ان کی نمائندگی (Representation) کی جو تصویر 2025 میں ابھر کر آئی ہے، وہ دہلا دینے والی ہے:
ماضی کا فخر: ایک دور تھا جب بہار اسمبلی میں 25 سے 32 مسلم ایم ایل اے منتخب ہو کر آتے تھے۔
2015-2020 کی گراوٹ: 2015 میں یہ تعداد 24 تھی، جو 2020 میں گھٹ کر 19 رہ گئی۔
2025 کا خوفناک منظر: اویسی کی پارٹی اور اسی طرح کے ’ووٹ کٹوا‘ چہروں کے زیادہ سرگرم ہونے کا نتیجہ یہ ہوا کہ 2025 میں مسلم ایم ایل اے کی تعداد گر کر محض 11 پر سمٹ گئی ہے۔
مہاراشٹر کا سچ: بلدیاتی انتخابات میں وارڈ کی سطح پر 500-1000 ووٹوں کا بکھراؤ بھی پورا نقشہ بدل دیتا ہے۔ یہاں اویسی کی پارٹی نے مذہب کے نام پر جو صف بندی کی، اس نے اپوزیشن جماعتوں (MVA) کے ووٹ بینک کو کمزور کیا۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا صرف 2-4 کونسلر یا ایم ایل اے جتا کر ہم اس بڑی طاقت کے آنے کا راستہ صاف کر رہے ہیں جو آخر کار اسی کمیونٹی کے مفادات کے خلاف کھڑی ہوتی ہے؟ سیمانچل سے لے کر متھلانچل تک، جہاں مسلم آبادی فیصلہ کن کردار میں ہے، وہاں آخر ایسا کیا ہوا کہ نمائندگی آدھی رہ گئی؟ جواب صاف ہے: ووٹوں کا بکھراؤ اور پولرائزیشن۔
2. ’سلیکٹو‘ سیاست: حکمتِ عملی یا کوئی بڑی سازش؟
کسی بھی علاقائی پارٹی کی ترقی اس کے اپنے گھر سے شروع ہوتی ہے۔ لیکن اسد الدین اویسی کی سیاست کا ماڈل دنیا کے کسی بھی سیاسی علم سے میل نہیں کھاتا۔
حیدرآباد تک محدود، لیکن نظریں شمالی ہند پر: حیدرآباد کی ایک لوک سبھا سیٹ کے علاوہ اویسی کی پارٹی نے تلنگانہ کے باقی اضلاع میں خود کو مضبوط کرنے کی کوشش نہیں کی۔ لیکن جیسے ہی 2014 کے بعد مرکز میں بی جے پی کی حکومت آئی، یہ پارٹی اچانک ہزاروں کلومیٹر دور بہار، یوپی، بنگال اور مہاراشٹر کے مسلم اکثریتی علاقوں میں ’لینڈ‘ کرنے لگی۔
وسائل کا معمہ: ایک دو ممبر پارلیمنٹ والی پارٹی کے پاس اتنا پیسہ، گاڑیاں اور وسائل کہاں سے آتے ہیں کہ وہ ایک قومی پارٹی کی طرح ہر ریاست میں انتخاب لڑنے پہنچ جاتی ہے؟ کیا یہ صرف ’چندہ‘ ہے، یا اس کے پیچھے کوئی نادیدہ قوت (Beneficiary) ہے جو چاہتی ہے کہ سیکولر ووٹ دو حصوں میں بٹ جائیں؟
3. ’پولرائزیشن‘ کا نیا ہتھیار: بھائی چارے میں دراڑ
اس سیاست کا سب سے خطرناک پہلو ’ووٹوں کا سوئنگ‘ ہے۔
کل تک بہار کے گاؤں میں ہندو مسلم ایک دوسرے کے امیدواروں کو ووٹ دیا کرتے تھے۔ ایک ’سیکولر ذہنیت‘ والا ہندو ووٹر بھی مسلم امیدوار کو بلا جھجھک جتاتا تھا۔ لیکن جیسے ہی اویسی یا بنگال میں ہمایوں کبیر جیسے چہرے میدان میں اترتے ہیں اور جذباتی تقریریں کرتے ہیں، ویسے ہی وہ ’سیکولر ہندو ووٹر‘ عدم تحفظ کے احساس میں بی جے پی کی طرف چلا جاتا ہے۔
نتیجہ؟ بی جے پی کا ووٹ فیصد بڑھتا ہے، سیکولر طاقتیں کمزور ہوتی ہیں، اور مسلم امیدوار جو کل تک جیت رہا تھا، وہ تیسرے یا چوتھے نمبر پر پہنچ جاتا ہے۔ یہی وہ ’ایک تیر سے کئی نشانے‘ ہیں، جس میں فائدہ صرف بی جے پی کو ہوتا ہے۔
ٹیلی ویژن کے ’ہیرو‘ اور حقیقت کے ’زیر
یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ جن پارٹیوں کا زمین پر کوئی تنظیم نہیں ہے، انہیں نیشنل ٹیلی ویژن پر بڑی اپوزیشن پارٹیوں سے زیادہ ’اسکرین ٹائم‘ ملتا ہے۔ یہ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے تاکہ مسلم نوجوانوں کے ذہن میں یہ بات بٹھائی جا سکے کہ ان کے اصلی مسیحا یہی غصے والے چہرے ہیں۔
نوجوانوں کو لگتا ہے کہ یہ لیڈر ان کے درد کی دوا ہیں، جبکہ حقیقت میں وہ انہیں مرکزی دھارے سے کاٹ کر ایک الگ ’جزیرے‘ پر کھڑا کر رہے ہیں۔ جس طرح مسلم معاشرہ بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتا، اسی طرح ہندو معاشرہ ان پارٹیوں کو ووٹ نہیں دیتا۔ صرف مسلم ووٹوں کے دم پر آپ 2-4 سیٹیں تو جیت سکتے ہیں (یا ہروا سکتے ہیں)، لیکن حکومت میں حصہ داری کبھی نہیں پا سکتے۔
کیا ہم ’ٹو نیشن تھیوری‘ کی اور بڑھ رہے ہیں؟
آزادی سے پہلے جو کام جناح نے کیا تھا، آج وہی کام نئے چہروں کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے۔ آسام میں اجمل، بنگال میں کبیر اور پورے ملک میں اویسی—یہ سب مل کر ملک کو پھر سے مذہبی بٹوارے کی سیاست کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس بار بھی ’نیا جناح‘ خود پیدا ہوا ہے، یا 2014 کے بعد ایک گہری سازش کے تحت اسے ’پیدا‘ کیا گیا ہے؟
آخر کب جاگیں گے ہم؟
بہار 2025 کے نتائج ایک ’سیاہ باب‘ ہیں۔ یہ مسلم دانشوروں اور سماجی تنظیموں کے لیے ایک ’ویک اپ کال‘ ہیں۔ مسلم نمائندگی کا گر کر 11 پر آ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشرہ دن کے اجالے میں لوٹا جا رہا ہے۔
اگر وقت رہتے اس سازش کو بے نقاب نہیں کیا گیا، تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ اب وقت نعروں پر جھومنے کا نہیں، بلکہ عقل سے کام لینے کا ہے۔ جمہوریت کو بچانے کے لیے جذبات کی نہیں، دماغ کی سیاست کی ضرورت ہے۔










