کیا وقف بل کے بہانے ملک کو دوبارہ تقسیم کرنے کی سازش رچی جارہی ہے؟ مرکزی حکومت کے اس بل کو تقسیم کرنے والا قرار دیتے ہوئے اپوزیشن نے متحدہ محاذ کھول دیا ہے۔ انڈیا الائنس کی میٹنگ کے بعد اتحاد کی جانب سے کہا گیا کہ کل پورا انڈیا بلاک وقف بل کے خلاف ووٹ دے گا۔ اپوزیشن نے متحد ہو کر مرکزی حکومت کی طرف سے تجویز کردہ وقف (ترمیمی) بل 2024 پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ یہ بل بدھ 2 اپریل کو لوک سبھا میں پیش کیا جانا ہے اور اپوزیشن جماعتوں نے اسے غیر آئینی اور اقلیت مخالف قرار دیا ہے۔
انڈیا بلاک میٹنگ میں کانگریس، ڈی ایم کے، سماج وادی پارٹی، ترنمول کانگریس اور دیگر اتحادیوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ وہ اس بل کی مخالفت کریں گے۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے کہا، ‘یہ بل آئین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے اور مذہبی آزادی پر حملہ کرتا ہے۔ ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔’ ڈی ایم کے ایم پی کنیموزی نے بھی کہا، ‘ہم سیکولرازم اور آئین کے تحفظ کے لیے متحد ہیں۔ یہ بل اقلیتوں کے حقوق کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔