امریکا اورایران کے درمیان حالیہ کشیدگی سفارتی رابطوں کے ذریعے کم ہو گئی ہے۔
عرب میڈیا اورحکام کے مطابق امریکی حکام مذاکرات کو وقت دے رہے ہیں اوررابطے اب بھی جاری ہیں تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے اور بات چیت کس سمت میں جاتی ہے، اس کا تعین کیا جا سکے۔عرب عہدیداروں نے بتایا کہ قطر، سعودی عرب اور عمان نے اس معاملے میں سفارتی قیادت فراہم کی، جس سے امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست بات چیت ممکن ہوئی۔فنانشل ٹائمز کے مطابق اس وقت صورتحال میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی کا عندیہ مل رہا ہے۔سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عرب ممالک کی ثالثی نے امریکا اورایران کو مؤثراورپرامن مذاکرات کیلئے موقع فراہم کیا اور اس کے ذریعے خطے میں استحکام کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔اس پیش رفت سے عالمی سطح پر مثبت ردعمل سامنے آیا ہے اورامید ظاہر کی جا رہی ہے کہ بات چیت آگے بھی جاری رہے گی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر کسی بھی ممکنہ فوجی حملے کو مؤخر کرنے کی اپیل کی ۔
امریکی اخبار کے مطابق نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور انہیں ایران پر فوجی کارروائی کے فوری خطرات سے آگاہ کیا۔اسرائیلی وزیراعظم نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو ایران جوابی کارروائی کے طور پر اسرائیل کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے خطے میں شدید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔نیتن یاہو کی اپیل اور عرب ممالک کے مشورے عالمی سطح پر ایران کے ساتھ تعلقات میں ممکنہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اہم اقدام سمجھے جا رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل اورامریکا کی جانب سے فوری فوجی کارروائی سے خطے میں بڑے پیمانے پر تصادم کے خطرات بڑھ سکتے ہیں، اس لیے سفارتی دباؤ کو ترجیح دی جا رہی ہے







