فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں نے تصدیق کی ہے کہ ان کی حکومت نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرلیا ـانھوں نے نیویارک میں اقوام متحدہ سے خطاب میں فرانس کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کرنے سے قبل کہا کہ ’غزہ میں جنگ بند کرنے اور حماس کی جانب سے حراست میں لیے گئے باقی 48 یرغمالیوں کو رہا کرنے کا وقت آگیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’چند لمحوں کی دوری ہے اور پھر دنیا امن کو روک نہیں پائے گی ‘۔انھوں نے مزید کہا ’ہم مزید انتظار نہیں کر سکتے۔‘صدر میخواں نے سات اکتوبر کے حملوں کی مذمت کی اور کہا ہے کہ وہ خطے میں امن دیکھنا چاہتے ہیں جو دو ریاستوں کو ساتھ ساتھ رہنے سے پیدا کیا جائے۔فرانس کے صدر کا کہنا تھا کہ ’جاری جنگ کا کوئی جواز نہیں ہے‘۔ ’انھوں نے مزید کہا کہ ’ہر چیز ہمیں مجبور کرتی ہے‘ کہ اسے حتمی انجام تک پہنچائیں واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کے 193 رُکن ممالک میں سے 75 فیصد فلسطین کو پہلے ہی بطور ایک ریاست تسلیم کر چکے ہیں۔ جن ممالک نے یہ قدم اب تک نہیں اُٹھایا ہے ان میں امریکہ، اسرائیل، اٹلی اور جرمنی بھی شامل ہیں۔
دریں اثنا اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں ’بستیوں کی مسلسل توسیع‘ کا کوئی جواز پیش نہیں۔’انھوں نے متنبہ کیا کہ اس کے ساتھ ساتھ ’الحاق کے بڑھتے ہوئے خطرے‘ اور ’آباد کاروں کے تشدد میں اضافے‘ کو بھی روکنا چاہیے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ اس کا واحد حل وہ ہے جس میں دو آزاد اور خود مختار ریاستیں باہمی طور پر تسلیم کی جائیں اور وہ بین الاقوامی برادری میں مکمل طور پر ضم ہوں۔انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینیوں کے لیے ریاست کا قیام ’ایک حق ہے، انعام نہیں‘۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’ریاست سے انکار کرنا ہر جگہ انتہا پسندوں کے لیے ایک تحفہ ہوگا۔‘دوسری جانب سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں اپنے رہنما محمد بن سلمان کی جانب سے خطاب کیا۔انھوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر ایمانوئل میخواں کا شکریہ ادا کیا اور اس بات کا اعادہ کیا کہ خطے میں منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کا واحد راستہ دو ریاستی حل ہے۔








