فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نے اعلان کیا ہے کہ فرانس ستمبر میں فلسطین کو تسلیم کرلے گا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ جنرل اسمبلی میں فسلطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا باضابطہ اعلان کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ مشرقِ وسطیٰ میں منصفانہ اور پائیدار امن کے لیے کیا ہےانھوں نے کہا کہ وہ،فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کاباقاعدہ طور پر اعلان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کریں گے۔فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کے مطابق،فرانس کا یہ قدم فلسطین اور اسرائیل کے درمیان امن کے قیام کے لیے ایک اہم پیش رفت ہوگی۔ایمانوئل میکرون نے اپنے پوسٹ میں مزید لکھا کہ غزہ میں جنگ کا خاتمہ اور عام شہریوں کی جان بچانا سب سے اہم ہے ۔۔خیال رہے کہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکروں نے اس سے قبل فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرنے کے اپنے عزم کا اشارہ دیا تھا۔اس علاوہ فرانس کے وزیر خارجہ آئندہ ہفتے اقوام متحدہ میں دہائیوں سے جاری تنازع کے دو ریاستی حل کے لیے ایک کانفرنس کی شریک میزبانی کرنے والے ہیں دوسری جانب امریکا نے اقوام متحدہ کی اسرائیل فلسطین دو ریاستی حل کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کردیا۔دو ریاستی حل کانفرنس 28 سے 29 جولائی کو ہوگی، کانفرنس فرانس اور سعودی عرب کی سربراہی میں دریں اثنا ہورہییونیسیف کے عالمی ترجمان جیمز ایلڈر نے کہا ہے کہ غزہ میں حالات انتہائی خوفناک اور ہر گزرتے لمحے مزید بگڑ رہے ہیں۔برطانیہ میں یونیسف کی سفیر جمائما خان سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ یہ بچوں پر جنگ ہے کیونکہ صرف چھ ماہ میں 50 ہزار سے زائد بچے شہید یا زخمی ہوئے ہیں، جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے بجلی اور فیول کی بندش نے پانی کی فراہمی بھی روک دی ہے اور اگر ایندھن نہ آیا تو بچے پیاس سے مرنے لگیں گے۔
جیمز ایلڈر نے کہا کہ غزہ کے بچوں کی بقا کے لیے فوری اور پائیدار جنگ بندی ناگزیر ہے








