دنیا کے نقشے پر مشرق وسطیٰ کہلانے والا خطہ ایک بار پھر وار زون بن گیا ہے جہاں کئی محاذوں پر جنگ جاری ہے۔ ایک طرف امریکہ نے یمن کو نشانہ بنایا ہے تو دوسری طرف اسرائیل نے جنگ بندی کے بعد غزہ پر سب سے بڑا حملہ کر دیا ہے۔ جبکہ شام بھی اسرائیل کا ہدف ہے، ایران اپنی سرزمین میں امریکی ڈرون کو چکر لگاتے دیکھ کر پریشان دکھائی دیتا ہے۔ یہاں ہم آپ کو 10 نکات میں بتاتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں کیا ہو رہا ہے؟
1ـ اسرائیل نے پورے غزہ میں یکے بعد دیگرے دھماکے شروع کر دیے ہیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ 19 جنوری کو جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔ ڈاکٹروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس حملے میں کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
2-غزہ پر اسرائیل کے حملے کی تصدیق خود وہاں کی فوج نے بھی کی ہے۔ اسرائیلی فوج نے کہا، "سیاسی شعبے کی ہدایت کے تحت، (اسرائیلی فوج) اور شن بیٹ غزہ کی پٹی میں حماس دہشت گرد تنظیم کے دہشت گرد اہداف پر وسیع حملے کر رہے ہیں۔”
3– ایکسز Axiosکے رپورٹر Barak Ravid کےای مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے کہا ہے کہ حماس کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کی امریکی تجویز کو مسترد کیے جانے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں دوبارہ فوجی آپریشن شروع کر دیا ہے۔
4-اس کے علاوہ اسرائیل شام کو بھی نشانہ بناتا رہا۔ اسرائیلی فوج نے پیر کو کہا کہ وہ جنوبی شام میں فوجی مقامات پر حملہ کر رہی ہے۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق شام کے سرکاری میڈیا نے جنوبی شہر درعا کے قریب اسرائیلی حملے میں دو افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔
5-اسرائیلی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "آئی ڈی ایف (فوج) اس وقت جنوبی شام میں فوجی اہداف پر حملے کر رہی ہے، جس میں کمانڈ سینٹرز اور فوجی مقامات پر شامی حکومت کے پرانے ہتھیار اور فوجی گاڑیاں شامل ہیں”۔
6-اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر یمن کی حوثی تنظیم نے اس کی بین الاقوامی شپنگ لین پر حملے جاری رکھے تو اسے ’سنگین‘ نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اب سے ایرانی قیادت کو "حوثیوں کی طرف سے چلائی گئی ہر گولی” کے پیچھے محرک کے طور پر دیکھا جائے گا۔ قابل ذکر ہے کہ حوثی تہران کی حمایت کر رہے ہیں۔
7-دوسری جانب ایران نے اسلامی جمہوریہ کے بارے میں "انتہا پسندانہ بیانات” دینے پر امریکی صدر ٹرمپ کی سرزنش کی۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل یعنی یو این ایس سی کو لکھے گئے خط میں ان پر اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا تھا۔
8-امریکہ نے ہفتے کے روز حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملہ کیا، جس میں 53 افراد کے ہلاک اور 98 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ یہ امریکی حملے اب بھی جاری ہیں۔ امریکہ نے حوثیوں کے خلاف بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر بار بار حملوں کے بعد کریک ڈاؤن شروع کیا ہے، جس سے اہم تجارتی راستے پر دباؤ ہے۔
9-امریکی حملے کے جواب میں حوثیوں نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز پر دو حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ یمن کے اس کے زیر کنٹرول علاقوں میں بھی ہزاروں افراد مظاہروں میں جمع ہوئے۔
10-ایرانی فضائی حدود کے قریب ایک امریکی MQ-4C جاسوس ڈرون کا پتہ چلا ہے۔ یہ رپورٹ نور نیوز ایجنسی نے ایرانی فوج کے حوالے سے شائع کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی ڈرون ایرانی لڑاکا طیاروں کے ساتھ مقابلے کے بعد پیچھے ہٹ گیا۔