نُ ملک بھر میں ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قلت نے عام لوگوں میں تشویش پیدا کردی ہے۔ دہلی، ممبئی، بھوپال، حیدرآباد، لکھنؤ اور احمد آباد سمیت ملک بھر کے شہروں میں گیس ایجنسیوں کے باہر لمبی قطاریں دیکھی گئیں، جہاں لوگ اپنے سلنڈر کو ری فل کرانے کے لیے گھنٹوں کھڑے رہے۔ تاہم یہ صرف مقامی بحران نہیں ہے بلکہ عالمی حالات کا بھی عکاس ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور تیل اور گیس کی بین الاقوامی منڈی میں غیر یقینی صورتحال نے اس میں اہم کردار ادا کیا
سموسے، اور چائے فروشوں نے قیمتیں بڑھا دیں۔
ملک بھر میں ایل پی جی کی قلت نے چھوٹے کاروباروں اور سڑک کنارے دکانداروں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ نوئیڈا، دہلی اور غازی آباد میں چائے کے بہت سے اسٹالز اور کھانے فروش گیس سلنڈر کی کمی اور بڑھتی ہوئی قیمتوں سے دوچار ہیں، جس سے ان کے کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔۔
انڈکشن کک ٹاپس کی مانگ بڑھ رہی ہے۔
ایران جنگ کے دوران ممکنہ طور پر ایل پی جی کی قلت کے خوف سے، لوگ گیس کی بجائے انڈکشن کک ٹاپس خریدنے کے لیے آن لائن پلیٹ فارمز پر جمع ہو گئے ہیں۔ ای کامرس سائٹس پر فروخت میں اضافہ ہوا ہے، اور کچھ فوری ڈیلیوری ایپس پہلے ہی بہت سے شہروں میں ختم ہو چکی ہیں۔
ایل پی جی گیس کی قلت کا اثر دہلی کے ریسٹورنٹس پر بھی پڑ رہا ہے۔گیس کی محدود سپلائی کے سبب ریسٹورنٹس مالکان کو مشکلوں کا سامنا ہے۔ سلنڈروں کی کمی کے سبب بدھ کے روز دہلی میں کم از کم 12 ریسٹورنٹس اور فوڈ جوائنٹس مالکان کو کاروبار عارضی طور پر بند کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ سلنڈر کی محدود سپلائی کی وجہ سے دیگرریسٹورنٹس مالکان کوبھی مشکلات کا سامنا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ریسٹورنٹ مالکان کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے کمرشل سلنڈر کی سپلائی محدود ہوگئی ہےجس کی وجہ سے کئی ریسٹورنٹس بند ہو گئے ہیں۔ اس انڈرسٹری سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر سپلائی جلد معمول پر نہ آئی تو آنے والے دنوں میں مزید ریسٹورنٹس متاثر ہو سکتے ہیں۔
5000 روپے میں بلیک ہورہاایل پی جی سلنڈر‘
اس بیچ ، ایک ریسٹورنٹ کے مالک گگن دیپ سنگھ سپرا نے سوشل میڈیا پر بلیک مارکیٹنگ کے سنگین الزامات لگائے ہیں۔ اکنامک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، گگن دیپ نے لکھا کہ وہ بھی گیس کی قلت کی وجہ سے اپنا ریسٹورنٹ بند کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور بلیک مارکیٹ میں ایک سلنڈر کی قیمت 5000 روپے سے زیادہ وصول کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ سرکاری سپلائی نہ ہونے پر سلنڈر کہاں سے آ رہے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہورہی ہے
گیس کی قلت سے دیگر مقامات بھی متاثر ہوئے ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ میں وکلاکی کینٹین میں کھانا پکانے کی گیس ختم ہونے کے بعد بدھ کو مرکزی کورسز کی خدمت روکنی پڑی۔ تاہم بعد میں نئی سپلائی ملنے کے بعد خدمات دوبارہ شروع کر دی گئیں۔ ریسٹورنٹ کی صنعت سے وابستہ افراد صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں
پارلیمنٹ کیمپس میں احتجاج
دریں اثنا جمعرات کو اپوزیشن نے ایل پی جی گیس سلنڈر بحران پر پارلیمنٹ کے احاطے اور پارلیمنٹ کے اندر زبردست ہنگامہ کیا۔ لوک سبھا میں اپوزیشن کے احتجاج کے باعث ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی گئی۔ کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت پر مغربی ایشیائی تنازعہ کی وجہ سے پیدا ہونے والے توانائی کے بحران سے نمٹنے میں ناکام ہونے کا الزام لگایا اور پارلیمنٹ میں مکمل بحث کا مطالبہ کیا۔ کیمپس میں احتجاج کے دوران ارکان پارلیمنٹ نے پی ایم مودی کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ نے نعرے لگائے جیسے – نریندر سرنڈر، نریندر غائب، سلنڈر بھی غائب۔ اس دوران قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور وائناڈ کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا بھی موجود تھیں۔ راہل گاندھی نے پی ایم پر بھی حملہ کیا۔



