اردو
हिन्दी
اپریل 6, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

عالمی عوامی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے میں سائنس کا کردار

27 منٹس پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
Global Health Science Analysis
0
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

میزان :نازش احتشام اعظمیانسانی تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ بقا کی جدوجہد میں نوعِ انسانی کا سب سے معتبر اور طاقتور رفیق ‘سائنس’ رہی ہے۔ عوامی صحت محض ایک طبی اصطلاح نہیں بلکہ یہ وہ بنیادی اساس ہے جس پر کسی بھی عظیم تہذیب، مستحکم سماج اور خوشحال ریاست کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ جب ہم عالمی سطح پر عوامی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کی بات کرتے ہیں تو درحقیقت ہم اس سائنسی فکر اور بصیرت کا اعتراف کر رہے ہوتے ہیں جو اندھیروں میں چراغ جلانے کا ہنر جانتی ہے۔ آج کی باہم مربوط اور عالمگیریت کے رنگ میں رنگی ہوئی دنیا میں، جہاں جغرافیائی سرحدیں بیماریوں کے سامنے بے بس ہو چکی ہیں، سائنس ہی وہ واحد حصار ہے جو انسانیت کو آفات سے بچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ محض تجربہ گاہوں کے بند کمروں تک محدود کوئی خشک شعبہ نہیں بلکہ یہ انسانی حیات کے ہر سانس کی نگہبان ہے، جو ہمیں سکھاتی ہے کہ کس طرح احتیاط، تحقیق اور شواہد کی بنیاد پر ایک ایسی دنیا کی تخلیق ممکن ہے جہاں بیماری کمزور اور زندگی توانا ہو۔سائنس کا پہلا اور عظیم ترین احسان یہ ہے کہ اس نے ہمیں بیماریوں کی ماہیت اور ان کی پوشیدہ وجوہ سے آگاہ کیا۔ ایک طویل عہد ایسا گزرا جب وبائی امراض کو آسمانی قہر، بدروحوں کا اثر یا ستاروں کی گردش سے تعبیر کیا جاتا تھا، لیکن سائنس نے خوردبین کی آنکھ سے ان خوردبینی جانداروں کو بے نقاب کیا جو انسانی آنکھ سے اوجھل رہ کر پوری بستیوں کو قبرستان میں بدل دیتے تھے۔ وبائی امراض کے مطالعے یعنی ایپی ڈیمیولوجی نے ہمیں وہ نقشہ فراہم کیا جس کی مدد سے ہم وائرس اور بیکٹیریا کے حملوں کی پیش گوئی کر سکتے ہیں۔ یہ سائنسی فہم ہی ہے جو آج کے حکام کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ محض اندازوں یا قیاس آرائیوں پر نہیں بلکہ ٹھوس ڈیٹا اور اعداد و شمار کی بنیاد پر فیصلے کریں۔ جب ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مرض کس طرح منتقل ہوتا ہے، اس کا ماخذ کیا ہے اور وہ کس عمر یا طبقے کو زیادہ نشانہ بناتا ہے، تو ہم اس کے خلاف ایک ایسی ناقابلِ عبور دیوار کھڑی کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں جسے عبور کرنا مرض کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے۔ یہی وہ سائنسی منہاج ہے جو عوامی صحت کے ڈھانچے کو وہ لچک اور قوت عطا کرتا ہے جو کسی بھی ناگہانی طبی بحران میں اسے لڑکھڑانے نہیں دیتی۔عوامی صحت کے میدان میں سائنس کا سب سے درخشاں معجزہ ویکسینیشن یا حفاظتی ٹیکہ کاری کا وہ ہمہ گیر نظام ہے جس نے تاریخ کا دھارا بدل کر رکھ دیا۔ اگر ہم ماضی قریب کی تاریخ دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ چیچک، پولیو، تپِ دق اور خسرہ جیسی بیماریوں نے کس طرح انسانی نسلوں کو اپاہج اور برباد کیا۔ لیکن دہائیوں پر محیط سائنسی ریاضت نے ان مہلک دشمنوں کے خلاف مدافعت کے ایسے قلعے تعمیر کیے کہ آج چیچک جیسی ہولناک بیماری صرف تاریخ کی کتابوں تک محدود رہ گئی ہے۔ ویکسین صرف ایک دوا کا نام نہیں بلکہ یہ انسانی ذہانت کا وہ شاہکار ہے جو جسم کے قدرتی دفاعی نظام کو یہ سکھاتا ہے کہ دشمن کے حملے سے پہلے ہی اس سے کیسے نمٹنا ہے۔ ‘اجتماعی مدافعت’ یعنی ہرڈ امیونٹی کا انقلابی تصور سائنس ہی کی مرہونِ منت ہے، جو ہمیں بتاتا ہے کہ جب معاشرے کے زیادہ تر افراد محفوظ ہو جاتے ہیں تو وہ معاشرے کے کمزور اور بیمار افراد کے گرد بھی تحفظ کا ایک ایسا دائرہ کھینچ دیتے ہیں جہاں مرض کا داخلہ ممنوع ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسی زنجیر ہے جس کا ہر حلقہ سائنسی تحقیق سے جڑا ہوا ہے اور یہی زنجیر عالمی صحت کے نظام کو وہ استحکام فراہم کرتی ہے جو کسی بھی سیاسی یا معاشی اتار چڑھاؤ سے متاثر نہیں ہوتا۔سائنس کی کرشمہ سازی صرف امراض کی روک تھام تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس نے تشخیص اور علاج کے پورے فلسفے کو ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ آج کی جدید ترین لیبارٹریاں، مالیکیولر ٹیسٹنگ کی سہولیات اور طبی امیجنگ کی ٹیکنالوجی وہ بصیرت افروز آنکھیں ہیں جو مرض کو اس وقت بھی دیکھ لیتی ہیں جب وہ ابھی انسانی جسم میں خاموشی سے پنپ رہا ہوتا ہے۔ بروقت تشخیص وہ کلید ہے جو موت کے آہنی دروازوں کو مقفل کر دیتی ہے۔ جب ایک معالج سائنسی آلات کی مدد سے کسی موذی مرض کا اس کے ابتدائی مرحلے میں پتہ لگا لیتا ہے، تو وہ نہ صرف ایک فرد کی جان بچاتا ہے بلکہ پورے معاشرے کو اس مرض کے ممکنہ پھیلاؤ سے بھی محفوظ کر لیتا ہے۔ بائیوٹیکنالوجی، جینیٹکس اور فارماکولوجی میں ہونے والی مسلسل ترقی نے ایسی ادویات اور تھراپیز کو جنم دیا ہے جو براہِ راست مرض کی جڑ پر وار کرتی ہیں۔ اب ہم ‘پرسنلائزڈ میڈیسن’ کے اس دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں علاج ہر فرد کے جینیاتی ڈھانچے کے مطابق تجویز کیا جاتا ہے، جس سے مضر اثرات کم اور شفا یابی کے امکانات سو فیصد تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہ تمام تر کامیابیاں اس انتھک سائنسی جدوجہد کا ثمر ہیں جو دنیا بھر کی تجربہ گاہوں میں انسانیت کی بقا کے لیے لڑی جا رہی Zero۔

بیماریوں کی نگرانی اور مانیٹرنگ وہ اہم محاذ ہے جہاں سائنس عوامی صحت کے پہرے دار کا کردار ادا کرتی ہے۔ آج کے جدید نگرانی کے نظام ہسپتالوں، لیبارٹریوں اور یہاں تک کہ سوشل میڈیا کے رجحانات سے حقیقی وقت (Real-time) میں ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں۔ یہ ڈیٹا سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ اگلی وباء کہاں سے سر اٹھا سکتی ہے۔ بروقت اطلاع اور فوری ردِعمل کی بدولت مقامی سطح پر ہونے والے کسی طبی واقعے کو عالمی وباء بننے سے پہلے ہی کچلا جا سکتا ہے۔ کووڈ-19 کے بحران کے دوران ہم نے دیکھا کہ کس طرح سرحدوں کے پار تیزی سے سائنسی تعاون نے وائرس کی فوری شناخت کو ممکن بنایا۔ اگر سائنسی علم کا یہ عالمی اشتراک موجود نہ ہوتا، تو شاید دنیا کو اس بحران سے نکلنے میں عشروں لگ جاتے۔ یہ بحران ہمیں سکھاتا ہے کہ مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ہمیں سائنسی تحقیق اور بین الاقوامی اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔ڈیجیٹل انقلاب اور ڈیٹا اینالیٹکس نے عوامی صحت کے نظاموں کی سائنسی بنیاد کو ایک نئی جلا بخشی ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) اب وہ اوزار بن چکی ہے جو کروڑوں لوگوں کی صحت کے ریکارڈز کو سیکنڈوں میں پرکھ کر مستقبل کے طبی رجحانات کی نشاندہی کر سکتی ہے۔ بگ ڈیٹا کا تجزیہ حکام کو وسائل کی بہتر تقسیم، ہسپتالوں کی ضرورت اور ادویات کی سپلائی چین کو منظم کرنے میں غیر معمولی مدد فراہم کرتا ہے۔ ٹیلی میڈیسن کے ذریعے یہ سائنسی آلات اب ان دور دراز علاقوں میں بھی پہنچ رہے ہیں جہاں پہلے کسی ماہر ڈاکٹر کا تصور بھی محال تھا۔ یہ ڈیجیٹل پل درحقیقت صحت کے نظام کو زیادہ ذمہ دار، شفاف اور جامع بناتے ہیں، جس سے معاشرے کے ہر طبقے تک سائنسی علاج کی رسائی ممکن ہو جاتی ہے۔علاج اور نگرانی سے ہٹ کر، سائنس نے ‘روک تھام’ (Prevention) کے تصور کو عوامی صحت کی روح بنا دیا ہے۔ سائنسی مطالعات نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ متوازن غذا، صاف ستھرا طرزِ زندگی، جسمانی سرگرمی اور مضر صحت عادات سے پرہیز وہ سستے ترین اور مؤثر ترین طریقے ہیں جو صحت کے نظام پر بوجھ کو ستر فیصد تک کم کر سکتے ہیں۔ شواہد پر مبنی یہ پروگرام اب اسکولوں، دفاتر اور گھروں کا حصہ بن رہے ہیں۔ جب سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ چینی کا زیادہ استعمال یا سگریٹ نوشی کس طرح ہمارے نظامِ مدافعت کو کھوکھلا کرتی ہے، تو وہ دراصل ہمیں ایک مضبوط قوم بننے کا راستہ دکھاتی ہے۔ صحت مند طرزِ زندگی کا فروغ درحقیقت ایک سائنسی مہم ہے جو بیماری کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اس کا راستہ روک دیتی ہے۔ماحولیاتی سائنس کا کردار بھی اس تناظر میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ ہم جس فضا میں سانس لیتے ہیں، جو پانی پیتے ہیں اور جس زمین سے رزق حاصل کرتے ہیں، اس کی پاکیزگی براہِ راست ہماری صحت سے جڑی ہے۔ سائنس نے ہمیں بتایا کہ کس طرح فضائی آلودگی ہمارے نظامِ تنفس کو متاثر کرتی ہے اور کس طرح موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) نئے اور خطرناک وائرسز کے جنم لینے کا سبب بن رہی ہے۔ ہوا کے معیار کے سائنسی مطالعے، پانی کی صفائی کے جدید پلانٹس اور کچرے کو ٹھکانے لگانے کے سائنسی طریقے دراصل عوامی صحت کو تحفظ فراہم کرنے کی ہی مختلف صورتیں ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر، اب یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ ہم ماحولیاتی سائنس کو عوامی صحت کی منصوبہ بندی کا لازمی حصہ بنائیں۔ ایک صحت مند ماحول ہی ایک صحت مند معاشرے کی ضمانت دے سکتا ہے۔تعلیم اور تربیت وہ خاموش انقلاب ہے جو سائنسی نظامِ صحت کی پشت پناہی کرتا ہے۔ طبی شعبے سے وابستہ افراد، ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت اب سائنسی بنیادوں پر کی جاتی ہے۔ علم کی منتقلی کا یہ عمل اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ جدید ترین سائنسی دریافتیں صرف کتابوں تک محدود نہ رہیں بلکہ مریض کے بستر تک پہنچیں۔ تعلیمی ادارے اور تحقیقی مراکز جدت کی اس ثقافت کو فروغ دیتے ہیں جہاں ہر عمل کے پیچھے ‘کیوں’ اور ‘کیسے’ کا سائنسی سوال موجود ہوتا ہے۔ یہی وہ رویہ ہے جو صحت کے نظام کو فرسودگی سے بچاتا ہے اور اسے وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالتا رہتا ہے۔سائنس نے گورننس اور پالیسی سازی کے انداز کو بھی یکسر بدل دیا ہے۔ اب حکومتیں صحت کا بجٹ مختص کرتے وقت یا کسی نئی بیماری کے خلاف لاک ڈاؤن جیسے سخت فیصلے لیتے وقت سائنسی ماہرین کی آراء کو مقدم رکھتی ہیں۔ ‘شواہد پر مبنی پالیسی’ (Evidence-based Policy) وہ فلسفہ ہے جس نے سیاست اور صحت کے درمیان ایک پائیدار پل تعمیر کر دیا ہے۔ جب فیصلے اعداد و شمار اور سائنسی تحقیق کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں تو ان میں غلطی کا امکان کم اور افادیت کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔ یہ طریقہ کار نہ صرف وسائل کے ضیاع کو روکتا ہے بلکہ عوامی سطح پر حکومتی اقدامات کی ساکھ اور اعتماد میں بھی اضافہ کرتا ہے۔

درپیش چیلنجز کے باوجود، سائنس کا یہ سفر ایک روشن مستقبل کی طرف گامزن ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں وسائل کی کمی، کمزور انفراسٹرکچر اور طبی سہولیات کی غیر مساوی تقسیم وہ رکاوٹیں ہیں جنہیں دور کرنے کے لیے سائنسی علم کی منصفانہ تقسیم ضروری ہے۔ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ جب تک دنیا کا آخری انسان محفوظ نہیں ہے، کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ اس لیے سائنسی تعاون کو سرحدوں، رنگ، نسل اور مذہب کے تعصبات سے بالاتر ہونا چاہیے۔ 7 اپریل کا ‘عالمی یومِ صحت’ ہمیں اسی عزم کی یاد دلاتا ہے کہ صحت ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور اس حق کی حفاظت کا سب سے معتبر ذریعہ سائنس ہے۔کمیونٹی کی فعال شمولیت اور سائنس پر عوامی اعتماد وہ آخری اور سب سے اہم کڑی ہے جو اس پورے نظام کو مکمل کرتی ہے۔ سائنسی ایجادات اور دریافتیں اس وقت تک اپنا بھرپور اثر نہیں دکھا سکتیں جب تک عوام انہیں دل سے قبول نہ کریں۔ ویکسین کے خلاف پائے جانے والے شکوک و شبہات ہوں یا صحت کے دیگر معاملات میں توہم پرستی، ان کا واحد علاج سائنسی آگاہی اور تعلیم ہے۔ جب لوگ یہ سمجھ جاتے ہیں کہ سائنسی سفارشات ان کی اپنی فلاح و بہبود کے لیے ہیں، تو وہ خود بخود صحت مند رویوں کو اپنانا شروع کر دیتے ہیں۔ عوامی صحت کے کارکنوں کا یہ کام ہے کہ وہ سائنس کی پیچیدہ زبان کو عام فہم بنا کر لوگوں کے دلوں تک پہنچائیں۔آگے بڑھتے ہوئے، ہم ایک ایسے عہد کی دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں نینو ٹیکنالوجی انسانی خلیات کے اندر جا کر مرمت کا کام کرے گی، جہاں مصنوعی ذہانت بیماریوں کے پیدا ہونے سے برسوں پہلے ان کی پیش گوئی کر دے گی اور جہاں جینیاتی انجینئرنگ موروثی بیماریوں کا جڑ سے خاتمہ کر دے گی۔ لیکن ان تمام ترقیاں کا ثمر تبھی ملے گا جب ہمارا عوامی صحت کا نظام ان جدید ترین آلات کو اپنانے کی سکت رکھتا ہو۔ ہمیں اپنے اداروں کو اس قابل بنانا ہوگا کہ وہ سائنسی جدت کا خیر مقدم کریں اور اسے انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کریں۔اختتامِ کلام یہ کہ سائنس محض تجربات کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ انسانیت کے بہتر مستقبل کی امید ہے۔ یہ وہ نور ہے جو ہمیں بیماریوں کی تاریکی سے نکال کر صحت کی روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ ایک مضبوط، لچکدار اور سائنس پر مبنی عوامی صحت کا نظام ہی وہ بہترین تحفہ ہے جو ہم اپنی آنے والی نسلوں کو دے سکتے ہیں۔ عالمی صحت کے بدلتے ہوئے منظر نامے میں، جہاں نئے چیلنجز سر اٹھا رہے ہیں، سائنس ہی ہمارا وہ قطب نما ہے جو ہمیں محفوظ راستوں کی طرف رہنمائی کرتا رہے گا۔ آئیے ہم سب مل کر علم و تحقیق کی اس شمع کو روشن رکھیں، تاکہ تمام انسانیت کے لیے ایک صحت مند، پرامن اور توانا مستقبل کی ضمانت دی جا سکے۔ سائنس اور عوامی صحت کا یہ مضبوط رشتہ ہی زمین پر زندگی کے تسلسل اور اس کی خوبصورتی کا ضامن ہے۔

ٹیگ: Health Systemsworld newsپبلک ہیلتھسائنس کردارعالمی صحت تجزیہ

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

Middle East Instability Analysis
مضامین

مشرق وسطیٰ کا عدم استحکام اور امریکہ کا کردار

04 اپریل
US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Abdullah Salim Qasmi Apology News

مولاناُعبداللہ سالم قاسمی لنگڑاتے ہوئے تھانے پہنچے، نازیبا بیان کے لئے ہاتھ جوڑکر معافی مانگی، ویڈیو سامنے آیا

مارچ 31, 2026
LPG Crisis Workers Crowd News

آگھر لوٹ چلیں: ایل پی جی بحران۔فیکٹریوں میں تالا، ریلوے اسٹیشنوں پر مزدوروں کی بھیڑ، بھگدڑ جیسے حالات

مارچ 31, 2026
Muslim Board Iran Support News

مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر کھل کر ایران کی حمایت میں آئے کہا پوری امت اور عالم اسلام اس کا ساتھ دے

مارچ 30, 2026
Mohammed Zubair X Block News

فیکٹ چیکر محمد زبیر کی رام نومی پر تشدد سے متعلق پوسٹس کو X نے سرکار کے حکم پر بلاک کردیا

مارچ 31, 2026
Shashi Tharoor Statement News

ششی تھرور نے کیوں کہا'”فلم انڈسٹری مسلمانوں کے خلاف نفرت کا مرکز بنتی جارہی ہے”

Israel Iran Attack News

اسرائیلی ڈرون ساز اور کیمیکل فیکٹریاں ایرانی حملے میں تباہ

Global Health Science Analysis

عالمی عوامی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے میں سائنس کا کردار

Jamiat Ajmal Notice News

اویسی سے گٹھ جوڑ پر جمعیتہ ہائی کمان سخت ، بدرالدین اجمل کو نوٹس،24 گھنٹوں میں جواب مانگا، نکالنے کی تیاری؟

Shashi Tharoor Statement News

ششی تھرور نے کیوں کہا'”فلم انڈسٹری مسلمانوں کے خلاف نفرت کا مرکز بنتی جارہی ہے”

اپریل 6, 2026
Israel Iran Attack News

اسرائیلی ڈرون ساز اور کیمیکل فیکٹریاں ایرانی حملے میں تباہ

اپریل 6, 2026
Global Health Science Analysis

عالمی عوامی صحت کے نظام کو مضبوط بنانے میں سائنس کا کردار

اپریل 6, 2026
Jamiat Ajmal Notice News

اویسی سے گٹھ جوڑ پر جمعیتہ ہائی کمان سخت ، بدرالدین اجمل کو نوٹس،24 گھنٹوں میں جواب مانگا، نکالنے کی تیاری؟

اپریل 4, 2026

حالیہ خبریں

Shashi Tharoor Statement News

ششی تھرور نے کیوں کہا'”فلم انڈسٹری مسلمانوں کے خلاف نفرت کا مرکز بنتی جارہی ہے”

اپریل 6, 2026
Israel Iran Attack News

اسرائیلی ڈرون ساز اور کیمیکل فیکٹریاں ایرانی حملے میں تباہ

اپریل 6, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN