غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے اور اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لیے مصر اور قطر میں دوبارہ شروع ہونے والی بات چیت کے درمیان گزشتہ دو دنوں میں کئی فلسطینی دھڑوں (حماس، اسلامی جہاد، پاپولر فرنٹ، اور ڈیموکریٹک ریفارم موومنٹ) کے نمائندے قاہرہ میں جمع ہوئے۔ اسلامی جہاد کے ایک ذریعے نے ہفتہ کو بتایا کہ اب تک جو کچھ پیش کیا گیا ہے وہ ایک جامع معاہدہ نہیں ہے بلکہ یہ صرف پچھلی تجویز کو بہتر بنانے کی کوششیں ہیں جس میں 60 دنوں کی عارضی جنگ بندی شامل تھی۔
دوسری جانب موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا، جنہوں نے جمعرات کو دوحہ کا دورہ کیا، نے بتایا کہ ان کا ملک اب کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو ایک ایسے جامع معاہدے کا حصہ نہ ہو جس میں تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی شامل ہواس سے قبل ایک باخبر ذرائع نے بتایا تھا کہ اسرائیل نے تباہ شدہ اور محاصرہ شدہ فلسطینی علاقے میں انسانی بنیادوں پر عارضی جنگ بندی کو مسترد کر دیا ہے اور حماس نے اسے قبول کر لیا ہے۔ فلسطینی دھڑوں نے اعلان کیا ہے کہ موجودہ مرحلے میں ان کی اولین ترجیح جنگ بندی ہے اور انہوں نے اپنے مطالبات کو پورا کرنے والی تمام پیشکشوں کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ فلسطینی گروپوں کے مطالبات میں اسرائیلی فوج کا انخلا اور غزہ کے محاصرے کا خاتمہ شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کی اولین ترجیح یہ یقینی بنانا ہے کہ انسانی اور امدادی سامان غزہ میں فوری آنے کا راستہ ملے
امریکہ نے دوحہ سے اپنے مذاکرات کاروں کو حماس کے حالیہ ردِ عمل کے بعد واپس بلانے کا فیصلہ کیا تھا۔ واشنگٹن نے کہا تھا کہ حماس کا رد عمل واضح طور پر غزہ میں جنگ بندی پر راضی نہ ہونے کی نشاندہی کر رہا ہے۔ تاہم قاہرہ نے چند دن پہلے دوبارہ کوششیں شروع کر دی ہیں تاکہ جنگ بندی کو آگے بڑھایا جا سکے اور فریقین کو بالواسطہ مذاکرات کی ترغیب دی جا سکے








