فلسطینی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ صرف فلسطینی ریاست کے قیام کی صورت میں ہی ہتھیار ڈالے گی، جبکہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے مذاکرات اب بھی تعطل کا شکار ہیں۔
تنظیم نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ طویل مدتی جنگ بندی پر تیار ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا "ہمارا موقف واضح ہے اور ہم تمام اسرائیلی قیدیوں کو خواہ وہ زندہ ہوں یا مردہ، رہا کرنے کے لیے تیار ہیں۔”یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف نے حماس کو غزہ سے متعلق ایک جامع معاہدے کے پیغامات پہنچائے۔ ویب سائٹ "axios” کے مطابق ویٹکوف کے پیغامات میں یہ تجویز شامل ہے کہ تمام مغویوں کی رہائی کے بدلے غزہ کی جنگ ختم کی جائے۔اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بھی بتایا ہے کہ امریکہ نے حماس تک ایک جامع سمجھوتے کے بنیادی نکات پہنچائے ہیں، جن کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور تمام مغویوں کی رہائی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ کوئی حتمی یا با ضابطہ مسودہ نہیں بلکہ عمومی نکات ہیں تاکہ مذاکرات جاری رہیں۔
ادھر اسرائیلی چینل "CAN” نے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے قریب ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ "اگر اسرائیل کو ایک حقیقی معاہدہ پیش کیا جائے تو وہ غزہ شہر پر قبضہ ختم کرنے کے لیے تیار ہے۔”نئی تجویز کے مطابق 60 دن کے لیے فائربندی کی جائے گی۔ فریقین کے مطابق یہ مسودہ اس تجویز سے زیادہ مختلف نہیں جو امریکی ایلچی ویٹکوف نے چند ماہ پہلے دی تھی اور جسے ثالثوں نے کئی بار ترمیم کر کے دونوں فریقوں کے سامنے رکھا۔
تاہم قطری ثالث نے تصدیق کی کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے قیدیوں کے تبادلے اور جنگ بندی سے متعلق تازہ ترین تجویز قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے بدھ کو اعلان کیا کہ غزہ میں "جدعون کے رتھ” نامی فوجی کارروائی کا دوسرا مرحلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقصد جنگ کے اہداف حاصل کرنے کے لیے لڑائی کو مزید تیز اور زمینی کارروائی کو گہرا بنانا ہے








