فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ حماس عبوری جنگ ندی کے لیے تیار ہے مگر اس کے لیے لازم ہے کہ مستقل جنگ بندی کا فریم بھی ساتھ ہو۔ بصورت دیگر عبوری جنگ بندی کے لیے اپنی آمادگی برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔ یہ بات عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے ایک ٹی وی تقریر کے دوران کہی ہے۔
اسرائیل وفد اور حماس کے سیاسی بیورو کے قائدین کے درمیان قطری دارالحکومت دوحہ میں جاری مذاکرات دوسرے ہفتے میں داخل ہیں مگر کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے۔ ایسے میں حماس کے عسکری ونگ کے ترجمان کا یہ موقف سامنے آنا معنی خیز ہے۔ کہ اگر جاری مذاکرات میں کوئی مستقل جنگ بندی کی طرف واضح پیش رفت نہیں ہوتی تو حماس بھی عبوری معاہدے کو قبول کرنے سے پیچھے آ جائے گی۔
ترجمان ابو عبیدہ نے کہا حماس نے کئی بار اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کی پیش کش کی ہے مگر اسرائیل کی طرف سے ایسے کسی معاہدے سے دور رہنے کی کوشش شروع کر دیتا ہے۔حماس کے اس موقف کے بارے میں تبصرے کے لیے اسرائکلی حکام ہفتے کے روز شام تک دستیاب نہیں ہوئے ہیں۔
عرب ثالث ملک قطر پچھلے دس دنوں سے جنگ بندی مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔ تاکہ امریکی تجویز پر ابتدائی طور پر 60 دنوں کی جنگ بندی ممکن ہو جائے۔ تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے جمعہ کی شام کہا تھا کہ ساٹھ دنوں کے لیے جنگ بندی پر حماس تیار نہیں ہو رہی ہے۔معاہدہ ہو جانے کی صورت میں اسرائیل کو ان ساٹھ دنوں میں میں دس قیدیوں کی زندہ رہائی ملے گی اور 18 قیدیوں کی لاشیں دی جائیں گی۔








