جگر کی صحت مجموعی جسمانی فٹنس اور توانائی کے لیے نہایت اہم ہے۔ یہ عضو جسم میں غذائی اجزاء کو میٹابولائز کرنے، زہریلے مواد کو فلٹر کرنے اور توانائی کی پیداوار میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ اگر جگر متاثر ہو جائے تو نہ صرف اس سے متعلقہ بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے بلکہ میٹابولک ڈس آرڈرز جیسے ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرین صحت کے مطابق جگر کے امراض سے بچاؤ کے لیے غذائی عادات اور روزمرہ کے مشروبات پر خاص توجہ دینا ضروری ہے۔ خاص طور پر چینی اور زیادہ میٹھے کھانوں کا بے جا استعمال جگر کے لیے نقصان دہ ہے کیونکہ جگر شوگر کو چربی میں تبدیل کرتا ہے اور جب یہ عمل زیادہ ہو جائے تو جگر کے اردگرد چربی جمع ہونے لگتی ہے، جس سے جگر کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح میٹھے مشروبات، جن میں سافٹ ڈرنکس اور جوسز شامل ہیں، بھی جگر پر اضافی بوجھ ڈال سکتے ہیں۔
زیادہ چکنائی والی غذائیں جگر کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔ فاسٹ فوڈ، سرخ گوشت اور دیگر چکنائی سے بھرپور خوراک جگر کے افعال پر منفی اثر ڈالتی ہے اور وقت کے ساتھ اس میں ورم اور چربی کے ذخائر پیدا کرتی ہے۔ نمکین غذاؤں کا زیادہ استعمال بھی جگر کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے کیونکہ یہ جسمانی وزن بڑھانے اور جگر کے اردگرد چربی جمع ہونے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
دیگر غذائیں جیسے سفید ڈبل روٹی اور سفید چاول، جو زیادہ پراسیس کی جاتی ہیں، میں فائبر کی مقدار بہت کم رہ جاتی ہے۔ فائبر کی کمی بلڈ شوگر کی سطح میں تیزی سے اضافے کا سبب بنتی ہے، جو جگر پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے اور اس کی صحت کے لیے خطرناک ہے۔
مجموعی طور پر، جگر کی صحت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ چینی، میٹھے مشروبات، زیادہ چکنائی، نمکین غذائیں، فاسٹ فوڈ اور پراسیس شدہ سفید کاربوہائیڈریٹس کے استعمال میں اعتدال اختیار کیا جائے۔ اس کے بجائے متوازن غذائی عادات، تازہ سبزیاں، پھل، اور کم چکنائی والی پروٹین کے استعمال سے جگر کے افعال کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور اس کی بیماریوں سے حفاظت ممکن ہے۔










