بھیونڈی: مہاراشٹر کے تھانے ضلع میں ایک نالے سے ایک خاتون کا کٹا ہوا سر برآمد ہوا ہے۔ جس کے بعد پولیس نے خاتون کے قاتل کی تلاش شروع کردی۔ تقریباً پانچ دن بعد اس کے شوہر کو خاتون کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ یہ پورا واقعہ 30 اگست کا ہے۔ بھیونڈی شہر کے عیدگاہ روڈ پر نالے کے کنارے سے نامعلوم خاتون کا کٹا ہوا سر برآمد ہوا۔ پولیس کے لیے قتل کا معمہ حل کرنا ایک بڑا چیلنج تھا، کیوں کہ نہ تو قتل کی جگہ معلوم ہوسکی اور نہ ہی خاتون کی باقی لاش ملی۔ بھوئی واڑہ پولیس نے اسی دن نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا اور سر کو شناخت کے لیے اندرا گاندھی سب ڈسٹرکٹ اسپتال بھیج دیا۔
اس طرح خاتون کی شناخت ہوئی۔
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سینئر پولیس انسپکٹر اشوک رتنا پاریکھ اور پولیس انسپکٹر پرمود کمبھار نے ڈپٹی کمشنر آف پولیس اور اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس کی قیادت میں دو خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دیں۔ ادھر نوی بستی کی رہائشی خاتون حنیفہ خان نے اپنی بیٹی پروین عرف مسکان محمد طحہٰ انصاری کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی۔ اس نے بتایا کہ بیٹی کا فون دو دن سے بند ہے اور داماد بھی جواب نہیں دے رہا۔ پولیس نے کھاڑی سے ملنے والی خاتون کے سر کی تصویر دکھائی تو ماں نے اسے مسکان کے نام سے پہچانا۔ پولیس نے شک کی بنیاد پر شوہر طحہٰ انصاری کو حراست میں لے لیا۔ سخت پوچھ
گچھ پر اس نے انکشاف کیا کہ اس نے اپنی بیوی کا سر قلم کر کے قتل کیا تھا۔
ڈی سی پی نے کہا کہ تحقیقات کے دوران، پولیس نے متاثرہ کے شوہر محمد طحہ انصاری (27) کا سراغ لگانے کے لیے تکنیکی معلومات سمیت کئی ذرائع کا استعمال کیا، جسے بعد میں اپنی بیوی کے قتل کے شبہ میں گرفتار کیا گیا۔ پولیس حراست میں ملزم محمد طحہ انصاری کے انکشافات نے سب کو حیران کر دیا۔
بیوی کی لاش کے 17 ٹکڑے: تفتیش میں انکشاف ہوا کہ ملزم شوہر طحہٰ نے اپنی بیوی مسکان کو قتل کر کے اس کے کئی ٹکڑے کر دیے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ ٹکڑے بھیونڈی کے مختلف مقامات پر پھینکے گئے تھے۔ پولیس اب ان ٹکڑوں کی تلاش میں ہے۔ابھی معاملہ زیر تفتیش ہے قتل کی وجہ کا پتہ چلایا جارہا ہےـ











