مجھے ہے حکم اذاں:قاسم سید
کانپور سے شروع "آئی لو محمد” کے ہورڈنگ یا بینر پر تنازع دھیرے دھیرے ملک کے مختلف حصوں میں پھیل گیا ہے ـ یہ کھلی حقیقت ہے اور آسمان سیکڑوں بار اس کا مشاہدہ کربلا ہے کہ ایک عام درجہ کا مسلمان بھی سب کچھ برداشت کرلیتا ہے ،ہر طرح کی زیادتی ،ظلم ناانصافی پر صبر کرلیتا ہے لیکن جب بات آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس وحرمت سے متعلق ہو تو اس کی قوت برداشت جواب دے جاتی ہے ،پھر وہ اپنی جان ومال کسی کی پروا نہیں کرتا ،اس دکھتی رگ کو مخالفین موقع بموقع دباکر دیکھتے ہیں کہ رمق باقی ہے یا یہشعلہ چنگاری یا راکھ بن گیا ہے ،تو یہ عشق رسول کی آگ پہلے سے زیادہ روشن و منور نظر آتی ہے ـ یہ اس کی کمزوری نہیں بلکہ سب سے بڑی طاقت ہے ـ شاید تمام تر سنگین مسائل کے باوجود اسی جذبہ لا متناہی نے اس کو زندہ رکھا ہے مگر اس کا استعمال استحصال کے لیے ہو تو پھر یہ بریلی کی شکل میں سامنے آتا ہے ـاگر انتظامیہ بد نیت ہو اور قیادت بغیر واضح ذہن و پالیسی کے آتش نمرود میں بے خطر کود پڑنے کا مشورہ دے تو ضروری نہیں کہ وہ گل و گلزار بن جائے ،پاسبان عقل کو چھٹی پر بھیج دینے کے جو خطرات و نتائج ہوسکتے ہیں وہ اکثر ہماری تحریکوں کے انجام میں نظر آتے ہیں ـ ‘آئی لو محمد’ جیسی پاک و مقدس ایمانی تحریکیں ابتدا میں جذباتی اور ایمانی کیفیت میں شروع ہوتی ہیں۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ سے محبت کو سماجی اور سیاسی فضا میں ایک مظہر کے طور پر پیش کیا جائے تاکہ مسلمانوں کی دینی غیرت اور اجتماعی شعور تازہ ہو۔ اور برادران وطن کی غلط فہمیاں دور کی جائیں لیکن جب ایسی تحریک کا سامنا عملی سیاست، بے جان مذہبی قیادت اور سماجی حقائق سے ہوتا ہے تو کئی طرح کے مسائل سامنے آتے ہیں۔ چالاک سیاستدان اس کا رخ موڑ کر،تشدد برپا کرواکر (یہ کسی کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے )،منفی پروپیگنڈے کے ذریعے بدنام کرواکر اچھی سی اچھی تحریک کو پاکیزہ مقصد کے باوجود سماج کا ویلن بناکر دفاعی پوزیشن میں کھڑا کردیا جاتا ہے ـسوچیے جب لداخ کے مقبول عوامی لیڈر وانچک کو این ایس اے کے تحت گرفتار کیا جاسکتا ہے اور ان پر پاکستان کے ساتھ سازباز کرنے کا سنگین الزام لگ سکتا ہے تو پھر مسلمان کی کیا اوقات وحیثیت ہے
یہاں ایک سوال بہت زور شور سے کیا جارہا ہے جو واجب بھی لگتا ہے کہ آخر ہمارے بڑے لیڈر اور مذہبی جماعتوں کی خاموشی ،اجتناب اور فاصلہ رکھنے کی کیا وجہ ہے ،انہوں نے عام مسلمانوں کو جو ان کی قیادت کے طول وعرض کو بڑھانے اور مالی وسائل فراہم کرنے کا طاقتور ذریعہ ہیں جو ایک روٹی کھاکر ان کے منصوبوں کے چراغوں کو اپنے وسائل کا تیل فراہم کرتے ہیں ان کو پٹنے،مرنے اور پولیس کی لاٹھیاں کھانے کے لیے کیوں چھوڑ دیا ہے ـوہ سرکار کے تیوروں سے خوف زدہ ہیں ؟ یا کچھ اور معاملہ ہے؟ غور کرنے پر اس کی کچھ وجوہات سمجھ میں آتی ہیں جن سے اختلاف کی گنجائش ہے
1.قیادت کا اختلاف،جماعتی عصبیت حسد:بہت سی مذہبی جماعتیں اپنی الگ شناخت اور فالوونگ چاہتی ہیں۔ اگر کوئی آزاد تحریک عوام میں مقبول ہوجائے تو ان کے لیے اپنی بالادستی برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے وہ محتاط یا دور رہتی ہیں تاکہ اپنی جماعتی پوزیشن کو خطرہ نہ پہنچے۔
2. سمت اور حکمت عملی کا ابہام:
"آئی لو محمد” جیسی مہمات زیادہ تر نعروں، جلسوں اور مظاہروں تک محدود رہی ہیں۔ ان کے پاس کوئی واضح سیاسی یا سماجی لائحہ عمل نہیں ہوتا کہ اس محبت کو معاشرتی تبدیلی یا اجتماعی قوت میں کیسے ڈھالا جائے۔ یہی ابہام بڑے لیڈروں اور مذہبی اداروں کو بے چین کرتا ہے۔وہ اس سے فاضلہ بنالیتے ہیں حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ وہ اس تپتے لوہے کو ایسے سانچے میں ڈھالیں جو ملک وملت دونوں کے لیے مفید ہو ـان کو لگتا ہے اس میں ان کے ہاتھ بھی جل سکتے ہیں
3. حکومتی دباؤ اور سیاسی مصلحت:
جو بڑے مذہبی یا سیاسی لیڈر ہیں، وہ ریاستی دباؤ اور قانونی پابندیوں کو بھی دیکھتے ہیں۔ اگر تحریک کا رنگ احتجاجی یا ٹکراؤ والا ہو تو وہ کھلم کھلا ساتھ دینے سے گریز کرتے ہیں، تاکہ جماعت پر پابندیاں یا مقدمات نہ آئیں۔اس کو پرامن،قانونی و جمہوری انداز میں چلانے کی ذمہ داری سے بھاگتے ہیں
4. تحریک کا سطحی یا وقتی رنگ:
بعض اوقات ایسی مہمات وقتی جوش اور ایک خاص واقعہ (جیسے گستاخیٔ رسول ﷺ) کے ردعمل میں اٹھتی ہیں۔ لیکن جب مستقل تنظیم، فکری تسلسل یا اجتماعی ایجنڈا نہ ہو تو وقت کے ساتھ ماند پڑ جاتی ہیں۔ یہ چیز بڑے قائدین کو مزید محتاط کر دیتی ہے کہ یہ جذباتی ابھار شاید دیرپا نہ ہواس ابھار کو تعمیری مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے ،شاید اسی احتیاط نے ان کے اور عوام کے درمیان دوریاں اور عدم اعتماد پیدا کردیا ہے عام آدمی اپنی قیادت سے نالاں ہیں وہ اسے سہولت ہسند،عافیت پسند،موقع پرست اور سرکار نواز سمجھنے لگا ہے ،خاص طور سے روایت پرست قیادت کا دائرہ اثر اس کے مریدوں اور اندھ بھکتوں میں سمٹ گیا ہے ایسا تاثر حقیقت بنتا جارہا ہے
5. تحریک کا بھٹک جانا:جب کوئی دینی تحریک عوامی مقبولیت حاصل کرلیتی ہے مگر اس کے قائدین فکری یا عملی پختگی نہ رکھیں، تو اکثر سمت بدل جاتی ہے۔ بعض دفعہ وہ "محبتِ رسول ﷺ” کے نعرے کو سیاسی دباؤ یا اپنی ذاتی امیج بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں، اور یہ چیز سنجیدہ مذہبی جماعتوں کو کھٹکتی ہے۔مگر تحریک بھٹکتی ہی اسی لیے ہے کہ سنجیدہ قیادت اور واضح لائحہ عمل دینے والے کمروں میں بند ہو جاتے ہیں ـ
اس سب کے باوجود یہ سوال باقی ہے کہ کیا "آئی لو محمد” جیسی تحریکیں مکمل طور پر بے سمت ہیں یا پھر ان میں امکانات موجود ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں ایمانی حرارت ضرور ہے، مگر ادارہ جاتی نظم اور حکمت کی کمی ہے۔ اگر یہ تحریک منظم فکر، تعلیم، سماجی خدمت اور مستقل ایجنڈا اپنا لے تو مذہبی جماعتوں کو بھی مجبور کرے گی کہ قریب آئیں۔بریلی جیسی صورتحال پیدا نہ ہونا بھی آخر کس کی ذمہ داری ہے اگر ان نوجوانوں کو جو عشق رسول کے نام پر سب کچھ لٹانے،مر مٹنے پر آمادہ ہیں بھٹکا ہوا مان لیا جائے تو ان کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری بھی آخر مذہبی قیادت کی ہی تو ہے یا انھیں قیادت کے لیے فرشتوں کی جماعت چاہیے،ان بھٹکے ہوئے آہو کو سوئے حرم لے چلنے کا کام آخر کون کرے گا کب کرے گا ـایسی تحریکیں قدرت کی طرف سے ایک موقع ہوتی ہیں جسے ہندی میں आपदा में अवसर کہتے ہیں ،کیا ہمارے اندر یہ صلاحیت نہیں کہ آزمائش کو موقع میں بدل دیں؟











