نئی دہلی:(آر کے بیورو) سنگھ وچارک کے طور پر معروف اور بی جے پی کے سابق ممبر پارلیمنٹ راکیش سنہا نے پندرہ اگست کو لال قلعہ سے پی ایم مودی کی تقریر میں آر ایس ایس کی جم کر تعریف کرنے کا بھرپور دفاع کرتے ہویے اسے سراہا- راکیش سنہا نے الٹا اینکر سے سوال کیا کہ وہ آرایس ایس کی تعریف نہیں کرتے تو کیا جماعت اسلامی کی کرتے؟آخر وہ کس بات پر بھڑک گیے
دراصل نیوز چینل news24کے پروگرام ‘سب سے بڑا سوال’ میں وزیراعظم کی لال قلعہ اسپیچ میں سنگھ کی تعریف کیے جانے کے سوال پر ڈبیٹ ہورہی تھی جس میں کئی جانے مانے جرنلسٹ اشوتوش وغیرہ اور سیاستدان کے سی تیاگی وغیرہ پینلسٹ کے طور پر شامل تھے ـ ان میں بی جے پی لیڈر پروفیسر راکیش سنہا بھی تھے –اینکر گریما سنگھ چبھتے ہوئے سوال کررہی تھیں ـانہوں نے پوچھا کہ آخر گیارہ سال بعد ہی ایم کو لال قلعہ کی اسپیچ میں سنگھ کی یاد کیوں آئی ؟راکیش سنہا نے اس کا بھرپور دفاع کرتے ہویے پی ایم مودی کو سنگھ پرجارک بتایا اور کہا کہ چونکہ 2025 میں سنگھ کی تاسیس کے سوسال پورے ہورہے ہیں اس کی مناسبت سے انہوں نے سنگھ کا تذکرہ کیا، پھر گریما سنگھ نے پوچھا کہ سنگھ کا ملک کی آزادی میں تو کوئی رول ہی نہیں تھا اس کے باوجود یوم آزادی پر اس کا تذکرہ کیوں کیا ؟ سنہا نے جواب میں کہا کہ آر ایس ایس اپنے قیام سے لے کراج تک لگاتار سماجی سروکار سے متعلق خدمات میں سرگرم ہے ـ وہ سماجی زندگی میں تبدیلی کے لیے کام کررہی ہے – اس کی 32ذیلی تنظیمیں ہیں ،انہوں نے دعویٰ کیا کہ سنگھ ایک لاکھ چوہترہزار سیوا کے پروجیکٹ چلارہا ہے – جہاں ودیالیہ نہیں ایکل ودیالیہ چلاتا ہےـ اس نے ملک کے سنسکرتی’ کردار کو بڑی محنت سے اجاگر کیا ، سنہا نے الزام لگایا کہ اس ملک میں مائناریٹی ویٹو چلتا تھا اور ہندو کی نفسیات اقلیتی بنادی گئی تھی ـ آر ایس ایس نے یہ بیانیہ بدل دیا تو کیا لال قلعہ سے آر ایس ایس کا ذکر نہیں ہوگا ،تعریف نہیں ہوگی تو کیا جماعت اسلامی کا ہوگاـ اس کی تعریف ہوگی!
دراصل راکیش سنہا قومی پرچم کو دہائیوں تک تسلیم نہ کرنے،ائین پر سوال اٹھانے ،اسے بدلنے کے سنگھ کے عزائم جیسے سوالوں سے بھڑک اٹھے تھے تب انہوں نے جھنجھلا کر یہ بیان دیا ـ
سوال یہ ہے کہ جماعت اسلامی کا ہی ذکر کیوں کیا اور کسی پارٹی کا نام کیوں نہیں کیا ،ا خیر خواہوں کی طرف سے اس کا جواب یہ ہے کہ ملک میں آر ایس ایس اور جماعت اسلامی ہی دو نظریاتی جماعتیں ہیں جو مذہب پر یقین رکھتی ہیں کمیونسٹ نظریہ کے طور پر بہت کمزور اور محدود ہوچکے ہیں وہ مذہب سے بھی بیزار ہوتے ہیں – اس لیے انہوں نے جماعت اسلامی کا نام لیا بحث بہت گرما گرم رہی اور دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی








