قیس سعید، تیونس کے موجودہ صدر، ایک ایسے قانونی ماہر ہیں جنہوں نے تیزی سے تیونس کی سیاسی زندگی میں اہم کردار ادا کیا ہے
🟦 ابتدائی زندگی و تعلیمی سفر
پیدائش: 22 فروری 1958 ء کو بی نی خیّار (نبیل گورنریٹ)، تیونس میں جنم۔
پسماندہ مگر روشن خیال خاندان: والد منصف سعید اور والدہ زکیہ بیلاگھا معاشی طور پر درمیانہ مگر تعلیمی طورپر اہلیت و علم سے بھرپور تھے۔
تعلیم::عدلیہ اور بین الاقوامی انسانی قوانین میں مہارت۔
یونیورسٹی آف ٹونیس سے آرٹس، پھر سنریمو (اٹلی) سے قانون میں ڈگریاں حاصل کیں۔
🟦 تعلیمی پیشہ و معاشرتی خدمات
پروفیسر: 1980 کی دہائی سے تونس میں آئینی قانون کے استاد رہے۔
رہنما: 1995 سے 2019 تک "تونس ایسوسی ایشن آف آئینی قانون” کے صدر رہے۔
عالمی خدمات: عرب لیگ اور انسانی حقوق انسٹیٹیوٹ کے قانونی ماہر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
🟦 سیاسی سفر و کامیابی
سیاسی رابطہ: 2011 کے بعد نوجوانوں کے فورمز میں شرکت کی، 2016 میں موسون تحریک کی حمایت میں شامل ہوئے۔
2019 صدارتی انتخابات:
ایک آزاد امیدوار کے طور پر سامنے آئے۔
نصف سے زائد نوجوان ووٹروں نے انہیں پسند کیا—پہلے مرحلے میں 60%+ ووٹ، حتمی مرحلے میں 72.71% ووٹ حاصل کیے۔ 23 اکتوبر 2019 ء کو تیونس کا پانچواں منتخب صدر بنے۔
🟦 صدارتی دور حکومت
حکومتی سیاست:25 جولاءئی 2021 کو وزیر اعظم اور پارلیمنٹ برطرف کر کے ایک ترقیاتی خودکوشی کا فیصلہ کیا، آئین میں تبدیلیاں اور نیا سپر صدارتی نظام نافذ کیا اور عدلیہ و سیاسی مخالفین کی طاقت محدود ہوئی۔
حکمرانی کے اقدامات:
عدلیہ کو براہ مستقیم کنٹرول کیا، خود اپنی مرضی کے ججوں کی تقرری اور برطرفی کی۔ "ڈی کرو زی لا 54” کے ذریعے "جعلی خبریں” پھیلانے پر سزائیں مقرر کیں، صحافت پابندیوں کا نشانہ بنی۔ احتساب اور مظاہرے: مخلتف سیاسی رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا، مگر عوامی احتجاج اور عالمی تشویش بھی سامنے آئی۔
🟦 دوبارہ انتخاب و آئندہ منظر
2024 دوبارہ انتخاب: 6 اکتوبر 2024 کو دوبارہ صدارت جیتی، تقریباً 90.7% ووٹ لیکن پارلیمانی اور علاقائی بین الاقوامی مبصرین نے کم ووٹ ریٹرن (28.8٪) اور سیاسی غیر شفافیت پر شدید تشویش ظاہر کی۔
🟦 شخصیت کا خاصہ
ذاتی پہچان: کلاسیکی عربی زبان اور رسم الخط کا شوق، ااپنے بیانات ہاتھ سے تحریر کرتے ہیں۔
قیس سعید کا سیاسی سفر ایک آئینی ماہر سے صدر بننے تک کا نیا باب ہے—جہاں انہوں نے نوجوان، موروثی سیاسی ڈھانچوں، اور کرپشن مخالف نعرے کے ذریعے مقبولیت حاصل کی۔ ان کے فیصلے سے تیونس کا جمہوری نظام ایک نئے عہد کی طرف گامزن ہوا ہے، مگر انہی فیصلوں سے عدلیاتی مستقلالیت، پارلیمانی خود مختاری، اور آزادی اظہار کے منظر نامے پر کشیدگی اور تنقیدیں بھی بڑھیں۔گی، جو ایک جانب نظم و ضبط، دوسری جانب سنسر شپ اور سیاسی کنٹرول کا باعث بن رہی ہے۔
—



