گردو پیش:نازش احتشام اعظمی
ایران کی زمین آج پھر تپ رہی ہے، مگر یہ تپش صرف اس کے کوہ و دمن تک محدود نہیں بلکہ اس کی آنچ عالمی سیاست کے ایوانوں تک پہنچ رہی ہے۔ تاریخ کے اس نازک موڑ پر جب ہم ایران کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک طرف تہران کی گلیوں میں بلند ہونے والی صدائیں سنائی دیتی ہیں اور دوسری طرف مغرب کے ایوانوں میں تیار ہونے والے وہ بیانیے جن کی کوکھ سے ہمیشہ فتنوں نے جنم لیا ہے۔ ایران آج جس داخلی بحران سے دوچار ہے، وہ کوئی معمولی لہر نہیں بلکہ ایک ایسا طوفان ہے جس کی جڑیں بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے سیلاب، معاشی جمود کی سنگلاخ حقیقتوں، اور سیاسی و سماجی عدم مساوات کی تلخ تہوں میں پیوست ہیں۔ یہ مسائل ایران کے اپنے ہیں، ان کا درد ایرانیوں کا اپنا ہے، اور ان کا حل بھی ایران کی اپنی مٹی سے ہی کشید ہونا چاہیے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی حل کے نام پر بیرونی نسخے درآمد کیے گئے، وہ شفا کے بجائے زہرِ قاتل ثابت ہوئے۔
مگر افسوس کہ آج کا عالمی میڈیا حقائق کی ترجمانی کے بجائے ایک خاص ایجنڈے کی ابلاغی بھٹی بن چکا ہے۔ مغربی میڈیا کی رپورٹنگ کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صحافت کے تمام اخلاقی ضابطے بحیرہ روم میں غرق کر دیے گئے ہوں۔ وہاں ایران کے ان احتجاجی مظاہروں کو ایک ایسی "خالص اور خود رو” بغاوت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جس کا واحد مقصد حکومت کا خاتمہ ہے، لیکن وہ کمالِ ہوشیاری سے ان دہائیوں پر محیط معاشی پابندیوں کا ذکر گول کر جاتے ہیں جنہوں نے عام ایرانی کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ یہ کیسی صحافت ہے جو ایک طرف تو انسانی حقوق کا واویلا کرتی ہے مگر دوسری طرف ان ظالمانہ پابندیوں کو جائز قرار دیتی ہے جو بچوں کے لیے دودھ اور مریضوں کے لیے دوا تک کا راستہ روک لیتی ہیں؟ یہ میڈیا دراصل رپورٹنگ نہیں کر رہا بلکہ ایک بیانیہ تخلیق کر رہا ہے جس کا مقصد ذہنوں کی تسخیر اور ایک مخصوص سیاسی ماحول کی آبیاری ہے۔
یہ تضاد اس وقت اور بھی زیادہ عریاں ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ یا لاطینی امریکہ میں مغرب کے منظورِ نظر اتحادیوں کے ہاں جب اس سے بھی بدتر انسانی حقوق کی پامالیاں ہوتی ہیں تو یہی میڈیا اپنی آنکھیں موند لیتا ہے۔ وہاں ہونے والے مظالم پر خاموشی کی ایسی دبیز چادر تان دی جاتی ہے کہ گمان ہوتا ہے جیسے وہاں سب خیر و عافیت ہو۔ یہ دوہرا معیار ہی اس حقیقت کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے کہ آزادی، جمہوریت اور انسانی حقوق کے یہ نعرے صرف ان ممالک کے لیے مخصوص ہیں جو واشنگٹن کی دہلیز پر سجدہ ریز ہونے سے انکاری ہیں۔ جب بدامنی کسی مغربی اسٹریٹجک مقصد کے کام آتی ہے تو اسے "بہادرانہ جدوجہد” کا نام دیا جاتا ہے، لیکن جب یہی جذبہ کسی اتحادی حکومت کے خلاف بیدار ہو تو اسے "فساد” یا "امن و امان کا مسئلہ” قرار دے کر دبا دیا جاتا ہے۔
ایران کو امریکہ اور اسرائیل نے ایک طویل عرصے سے اپنا ہدف بنا رکھا ہے۔ خاص طور پر اسرائیل کا کردار اس تمام صورتحال میں انتہائی توجہ طلب ہے۔ گذشتہ چالیس سالوں سے اسرائیلی حکمران ایران کو ایک "وجودی خطرہ” کے طور پر پیش کر کے اپنی ہر جارحیت، ہر خفیہ تخریب کاری، ہر ٹارگٹ کلنگ اور ہر سائبر حملے کو اخلاقی جواز فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ واشنگٹن میں بیٹھے پالیسی سازوں کے لیے ایران ایک ایسا نظریاتی کینوس بن چکا ہے جس پر وہ اپنی من پسند تصویریں بنا کر دنیا کو خوفزدہ کرتے ہیں۔ اس قطبی جغرافیائی سیاسی ماحول میں ایرانی عوام کی جائز شکایات کو ان کے اصل سیاق و سباق سے کاٹ دیا جاتا ہے اور انہیں ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جس کا رخ ایران کی خود مختاری کی طرف ہوتا ہے۔
اس تمام منظر نامے میں رضا پہلوی کی حالیہ سرگرمیاں اور ان کی جانب سے امریکہ کو ایران میں مداخلت کی دعوت دینا ایک ایسا المیہ ہے جس پر جتنا ماتم کیا جائے کم ہے۔ 2025 اور 2026 کے حالیہ برسوں میں معاشی مشکلات کے سبب اٹھنے والی آوازوں کو جس طرح بیرونی طاقتوں کے قدموں میں ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ ایرانی تاریخ کے شعور رکھنے والے ہر شخص کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ کیا رضا پہلوی اور ان کے ہمنواؤں نے تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا؟ کیا 2003 کا عراق ان کے سامنے نہیں ہے جہاں امریکی مداخلت نے ریاست کی چولیں ہلا دیں، فرقہ وارانہ نفرتوں کو جنم دیا اور ملک کو دہشت گردوں کی آماجگاہ بنا دیا؟ کیا لیبیا کی بربادی انہیں نظر نہیں آتی جہاں قذافی کو ہٹانے کے بعد آج تک ریاست کا وجود بکھرا ہوا ہے اور انسانی اسمگلروں کا راج ہے؟ وینزویلا کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں امریکی پابندیوں نے معیشت کو تو تباہ کر دیا مگر وہاں کے عوام کو خوشحالی کا ایک ذرہ بھی نصیب نہ ہوا۔
یہ خیال خام ہے کہ ایران میں کوئی بیرونی مداخلت معجزہ دکھائے گی اور ایرانی عوام کو دودھ اور شہد کی نہریں مل جائیں گی۔ یہ سوچنا کہ بڑی طاقتیں اپنی مداخلت میں ایران کی خودمختاری کا احترام کریں گی یا وہاں کے تیل و گیس کے ذخائر پر رال نہیں ٹپکائیں گی، ایک ایسی خود فریبی ہے جس کا انجام صرف اور صرف تباہی ہے۔ ایران کی جغرافیائی اہمیت اور اس کے توانائی کے وسائل اسے عالمی طاقتوں کے لیے ایک ایسا شکار بناتے ہیں جسے وہ کسی بھی قیمت پر حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کسی بھی بڑی مداخلت کا پہلا اور آخری مقصد ایران کے ان اثاثوں پر قبضہ ہوگا، نہ کہ ایرانی عوام کی فلاح و بہبود۔ انسانی قیمت کا بوجھ ہمیشہ عام لوگوں کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ مزید پابندیاں، مزید غربت، مزید سماجی تقسیم اور بالآخر ایک ایسی خانہ جنگی کی صورت میں نکل سکتا ہے جو ایران کے سماجی ڈھانچے کو نیست و نابود کر دے گی۔
وہ سیاسی تحریکیں جو اپنی جڑیں اپنی زمین کے بجائے بیرونی دارالحکومتوں میں تلاش کرتی ہیں، وہ کبھی بھی اپنے ملک کے لیے خیر کا باعث نہیں بن سکتیں۔ جو تحریک بیرونی سرپرستی پر انحصار کرتی ہے، وہ اپنی خود مختاری کا سودا کر چکی ہوتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے لوگ جب برسراقتدار آتے ہیں تو وہ صرف اپنے بیرونی آقاؤں کے مفادات کے محافظ ہوتے ہیں۔ رضا پہلوی کا موقف ایران کو اسی تباہ کن غلامی اور عدم استحکام کے چکر میں واپس دھکیلنے کی ایک کوشش ہے۔ ایران کا مستقبل کسی پہلوی یا کسی امریکی صدر کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کا فیصلہ تہران، اصفہان اور تبریز کے غیور عوام کو خود کرنا چاہیے۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ایران کے داخلی حالات مثالی ہیں۔ وہاں اصلاحات کی شدید ضرورت ہے، وہاں عوام کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں، وہاں کی حکومت کو جوابدہ ہونا چاہیے اور معاشی نظام میں ایسی تبدیلی لانی چاہیے جو عام آدمی کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ لیکن یہ تمام تبدیلیاں اندر سے آنی چاہئیں۔ کوئی بھی تبدیلی جو باہر سے مسلط کی جائے گی، وہ اپنے ساتھ غلامی کی زنجیریں لے کر آئے گی۔ سچی سیاسی ساکھ اور جواز صرف اور صرف داخلی جڑوں سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ جو تحریکیں بیرونی "نجات دہندہ” کا انتظار کرتی ہیں، وہ دراصل اپنی قوم کی توہین کرتی ہیں۔
یہاں میڈیا کا کردار ایک بار پھر اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ ایک ذمہ دار صحافت کا فرض ہے کہ وہ ایرانی معاشرے کی تمام آوازوں کو جگہ دے، نہ کہ صرف ان آوازوں کو جو مغربی مفادات کے حق میں ہوں۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ ان پابندیوں کے انسانی پہلوؤں کو اجاگر کرے جنہوں نے ایران کے عام شہری کو بنیادی ضروریات سے محروم کر رکھا ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ ان علاقائی رقابتوں کے پیچھے چھپے ہوئے اصل محرکات کو بے نقاب کرے۔ صرف ایک متوازن اور غیر جانبدارانہ صحافت ہی وہ فضا پیدا کر سکتی ہے جہاں ایران کے مسائل پر سنجیدگی سے بات ہو سکے، بغیر اس کے کہ ان مسائل کو کسی بیرونی تسلط کے لیے جواز بنایا جائے۔
ڈونلڈ ٹرمپ جیسے کرداروں کو "امن کا علمبردار” بنا کر پیش کرنا یا ان سے نئی امریکی مداخلت کی توقع رکھنا دراصل سیاسی بصیرت کے دیوالیہ پن کا ثبوت ہے۔ یہ ان لوگوں کی بھول ہے جو سمجھتے ہیں کہ وہ طاقتیں جنہوں نے 1953 میں ایران کی منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا، جنہوں نے ایران عراق جنگ میں صدام حسین کی پشت پناہی کی، اور جنہوں نے ہمیشہ ایران کی ترقی کی راہ میں روڑے اٹکائے، وہ اب ایران کے لیے آزادی اور جمہوریت کا تحفہ لے کر آئیں گی۔ ایران ایک ایسی تہذیب ہے جس نے صدیوں کے اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ اسے اپنی خودمختاری کی حفاظت کرنا آتی ہے۔
تاریخ کا سبق بہت واضح ہے کہ ممالک صرف جنگوں سے فتح نہیں ہوتے بلکہ کبھی کبھی وہ اپنی آزادی خود ان طاقتوں کے حوالے کر دیتے ہیں جو دوستی کا لبادہ اوڑھ کر آتی ہیں۔ ایران کا مستقبل ایرانیوں کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ انہیں اپنے داخلی تضادات کا سامنا کرنا ہوگا، انہیں اپنی جدوجہد خود لڑنی ہوگی اور انہیں اپنے حقوق کے لیے آواز خود بلند کرنی ہوگی۔ کوئی بھی راستہ جو واشنگٹن یا تل ابیب سے ہو کر گزرتا ہو، وہ ایران کی خوشحالی کا راستہ نہیں ہو سکتا۔ رضا پہلوی کی اپیلیں دراصل ایک انتباہ ہیں کہ کس طرح عظیم طاقتوں کی سیاست کو اخلاقیات کے لبادے میں چھپایا جاتا ہے۔ ایران کو آج کسی بیرونی سرپرست کی ضرورت نہیں بلکہ اسے اپنی داخلی وحدت اور خودمختاری کی حفاظت کی ضرورت ہے۔ اگر ایرانی قوم نے بیرونی مداخلت کے اس زہریلے لالچ کو مسترد کر دیا، تو یقیناً وہ اپنی موجودہ افراتفری کو ایک مستحکم، منصفانہ اور باعزت مستقبل میں بدلنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
ایران کی بقا اس میں ہے کہ وہ اپنی مٹی سے جڑا رہے، اپنے لوگوں کی آواز سنے اور بیرونی طاقتوں کے بچھائے ہوئے جال سے خود کو محفوظ رکھے۔ یہ ایک کٹھن راستہ ضرور ہے، مگر یہی واحد راستہ ہے جو ایران کو ایک آزاد اور خود مختار ریاست کے طور پر عالمی نقشے پر زندہ رکھ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ جو قومیں اپنی آزادی کی قیمت دوسروں سے لگواتی ہیں، تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرتی۔ ایران کو اپنے ماضی کے زخموں کو یاد رکھنا چاہیے اور ان لوگوں سے ہوشیار رہنا چاہیے جو آزادی کے نام پر اسے ایک بار پھر غلامی کی دہلیز پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔ سچی آزادی وہ نہیں جو بیرونی طیاروں اور ٹینکوں کے سائے میں آئے، بلکہ وہ ہے جو قوم کے اپنے شعور اور اپنی محنت سے طلوع ہو۔ ایران کا سورج تہران کے افق سے ہی طلوع ہوگا، اس کے لیے کسی مغربی اجالے کی ضرورت نہیں۔
کیا ہم نہیں دیکھتے کہ کس طرح مغرب نے انسانی حقوق کے نام پر ملکوں کے ملک راکھ کر دیے؟ کیا ہم نہیں دیکھتے کہ کس طرح جمہوریت کے نعرے تلے معصوموں کا خون بہایا گیا؟ ایران کو ان تجربہ گاہوں کا حصہ بننے سے بچنا ہوگا۔ ایرانی دانشوروں، صحافیوں اور عام شہریوں کو مل کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دینا ہوگا جو ان کی اپنی روایات، اپنی اقدار اور اپنی خودمختاری کا محافظ ہو۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ایران کی تقدیر کا فیصلہ بیرونی ایجنڈوں کے بجائے ایرانی عوام کی امنگوں کے مطابق کیا جائے۔ یہی وہ واحد طریقہ ہے جس سے ایران اپنے موجودہ بحرانوں سے نکل کر ایک روشن مستقبل کی طرف قدم بڑھا سکتا ہے۔ بیرونی مداخلت کا ہر مطالبہ دراصل ایران کی توہین ہے اور ایرانی عوام کی بصیرت پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ ایران کی عظمت اس کی خودداری میں ہے اور اسے اپنی یہ خودداری ہر قیمت پر برقرار رکھنی ہوگی۔










