ایران نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں نیوکلئیر سائنسدان سمیت دو افراد کو پھانسی دے دی ہے۔
ایرانی عدلیہ سے منسلک میزان نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان دو افراد کو اسرائیل کے لیے جاسوسی، خفیہ سرگرمیوں میں معاونت کرنے اور شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ آئی ایس ایس سے وابستگی کے الزام میں پھانسی دی گئی۔نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ سزائے موت پانے والے افراد کے نام روزباہ ویدی اور مہدی اصغر ہیں۔
نیوز ایجنسی کے مطابق سزائے موت پانے والے روزباہ ویدی ایران کے ’اہم اور حساس ادارے‘ میں کام کرتے ہوئے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کے لیے کام کر رہے تھے۔نیوز ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ انھیں کس تاریخ کو گرفتارکیا گیا تھا۔
دوسری جانب ایران کی ’امیر کبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی‘ کے مطابق ’روزباہ ویدی نے نیوکلئیر انجینئیرنگ میں پی ایج ڈی کی تھی۔‘ایرانی نیوز ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ ویدی کس حساس اور اہم محکمے میں کام کرتے تھے لیکن یونیورسٹی کے نیوز لیٹر کے مطابق ویدی ایران کی اٹیمی انرجی آرگنائزیشن سے منسلک نیوکلئیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے رکن تھے۔یونیورسٹی کے مطابق انھوں نے سنہ 2011 میں دو اہم نیوکلئیر سائنسدانوں کے ساتھ ایک ریسرچ آرٹیکل شائع کیا تھا اور وہ دونوں ایرانی نیوکلیئر سائنسدان اسرائیل کے ساتھ ہونے والی حالیہ جنگ میں مارے گئے۔
نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ مہدی اصغر زادہ کو بھی پھانسی دی گئی کیونکہ وہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے وابستہ تھے اور انھوں نے شام اور عراق میں تربیت لی تاکہ ایران میں کارروائیاں کر سکیں۔
ایران میں انسانی حقوق کے بارے میں رپورٹ شائع کرنے والی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اصغر زادہ سزا یافتہ مجرم تھے اور انھیں تقریباً دس قبل سنہ 2016 میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ شام سے واپس آ رہے تھے۔
تنظیم کے مطابق اصغر زادہ کو دو سال پہلے پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی، جس پر عمل درآمد اب ہوا۔ایران کی انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ ’ایران نے 29 جون سے 29 جولائی (ایک ماہ) کے دوران 1404 افراد کو پھانسی دی۔آزاد ذرائع سے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے








