ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع اب ایک نئے اور انتہائی حساس موڑ کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایران کی طرف سے ایسے اشارے ملے ہیں کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے پر غور کر رہا ہے جو کہ دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے۔ اگر یہ انتباہ حقیقت میں بدل جاتا ہے تو اس کے عالمی اثرات خاص طور پر توانائی کی منڈی، سمندری تجارت اور مغربی ایشیا کے اسٹریٹجک استحکام پر بہت سنگین ہوں گے۔
ہرمز آبی گزرگاہ خلیج فارس اور خلیج عمان کو ملاتی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ صرف 33 کلومیٹر چوڑی ہے لیکن اس کی اسٹریٹجک اور اقتصادی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ دنیا کا تقریباً 20% خام تیل یہاں سے گزرتا ہے، خاص طور پر سعودی عرب، عراق، کویت، متحدہ عرب امارات اور قطر سے۔ اگر یہ راستہ بند ہو گیا تو بین الاقوامی منڈیوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھو سکتی ہیں۔
•••ایران اسے بند کرنے کی دھمکی کیوں دے رہا ہے؟
ایران کے اس اقدام کے پیچھے بہت سی تزویراتی اور سیاسی وجوہات ہیں۔ اسرائیل نے ایران کے اندر کئی فوجی اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ اس سے ایران کے تشخص اور خودمختاری پر براہ راست حملہ ہوا ہے۔ امریکہ اور یورپی ممالک کھل کر اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دے کر ایران مغربی ممالک پر سفارتی دباؤ ڈالنا چاہتا ہے۔آبنائے ہرمز کو بند کر کے ایران یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ صرف ایک ‘شکار’ نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن طاقت ہے جو عالمی توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔
•••دوسرے ممالک پر اثرات
**بھارت اور چین: توانائی کے لیے خلیجی ممالک پر انحصار کرنے والے بھارت اور چین جیسے ممالک ایک بڑے بحران میں پھنس سکتے ہیں۔ ہندوستان کا تقریباً 60 فیصد خام تیل اسی راستے سے آتا ہے۔ سپلائی میں رکاوٹ سے معاشی عدم استحکام اور مہنگائی بڑھ جائے گی۔
•••یورپ: روس اور یوکرین جنگ کی وجہ سے یورپ کو پہلے ہی توانائی کے بحران کا سامنا ہے۔ اب ہرمز کی بندش سے متبادل ذرائع پر مزید بوجھ پڑے گا جس سے توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
•••امریکہ: اگرچہ امریکہ اب توانائی کے معاملے میں خود کفیل ہوتا جا رہا ہے لیکن اس کے بحری اور تزویراتی مفادات اس خطے سے گہرے جڑے ہوئے ہیں۔ ایران کی طرف سے یہ دھمکی امریکہ کے لیے براہ راست چیلنج کی طرح ہے۔
تیل اور گیس کی مارکیٹ: تیل کی قیمتیں ایک بار میں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر سکتی ہیں۔ دنیا بھر میں گیس، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے جس سے عالمی کساد بازاری ہوسکتی ہے۔











